{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreic6unuta3y5l3uwwbbetvrcyneona2t4k4ywgpqsyxbo6ttesnjia",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mezyorpywua2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreicw37pmshf2uqykgfdgpqzpcd6oocplluyob3c4y25e33r72gfgnq"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 75187
  },
  "path": "/node/184673",
  "publishedAt": "2026-02-17T06:00:52.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "pic.twitter.com/s8RY8cSZ8x",
    "February 17, 2026",
    "بنگلہ دیش",
    "ڈھاکہ",
    "انتخابات",
    "شیخ حسینہ",
    "اے ایف پی",
    "ایشیا",
    "news",
    "@ChiefAdviserGoB"
  ],
  "textContent": "**بنگلہ دیش کا اگلا وزیراعظم بننے کے لیے تیار طارق رحمٰن اور دیگر قانون سازوں نے منگل کو اسمبلی رکنیت کا حلف اٹھا لیا ہے۔ اس طرح وہ 2024 کی پرتشدد تحریک کے بعد پہلے منتخب نمائندے بن گئے ہیں۔**\n\nطارق رحمٰن اس عبوری حکومت سے اقتدار لینے کے لیے تیار ہیں جس نے شیخ حسینہ کی آمرانہ حکومت کے خاتمے کے بعد سے 18 ماہ تک 17 کروڑ عوام کے ملک کا انتظام سنبھالا۔\n\nبنگلہ دیش سے وفاداری کا عہد کرنے والے قانون سازوں سے چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصر الدین نے حلف لیا۔\n\nتوقع ہے کہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے قانون ساز رسمی طور پر طارق رحمٰن کو اپنا لیڈر منتخب کریں گے، جس کے بعد صدر محمد شہاب الدین منگل کی سہ پہر وزیراعظم اور ان کی کابینہ سے عہدے کا حلف لیں گے۔\n\nپاکستان کے دفتر خارجہ نے پیر کو تصدیق کی ہے کہ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں17 فروری ملک کی نو منتخب حکومت کی تقریب حلف برداری میں پاکستان کی نمائندگی وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کریں گے۔\n\nدفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تقریب میں پاکستان کی شرکت بنگلہ دیش کے جمہوری عمل کے لیے اس کی حمایت کی عکاس ہے اور یہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی مفید تعاون کو گہرا کرنے کے عزم کو اجاگر کرتی ہے۔\n\nدفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم پہلے سے طے شدہ غیر ملکی مصروفیت کی وجہ سے تقریب میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔\n\n> Ahsan Iqbal Chaudhary, Pakistan’s Minister for Planning, Development and Special Initiatives, paid a courtesy call on Chief Adviser Professor Muhammad Yunus at the State Guest House Jamuna on Tuesday. pic.twitter.com/s8RY8cSZ8x\n>\n> — Chief Adviser of the Government of Bangladesh (@ChiefAdviserGoB) February 17, 2026\n\n60 سالہ طارق رحمان، جو بی این پی کے سربراہ اور ملک کے سب سے طاقتور سیاسی خاندانوں میں سے ایک کے چشم و چراغ ہیں، نے 12 فروری کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔\n\nانہوں نے ہفتے کو اپنی فتح کی تقریر میں کہا، ’یہ فتح بنگلہ دیش کی ہے، یہ جمہوریت کی فتح ہے۔\n\n’یہ فتح ان لوگوں کی ہے جو جمہوریت کی خواہش رکھتے ہیں اور جنہوں نے اس کے لیے قربانیاں دی ہیں۔‘\n\nلیکن انہوں نے درپیش چیلنجز سے بھی خبردار کیا ہے، جن میں دنیا کے دوسرے سب سے بڑے گارمنٹ برآمد کنندہ کے معاشی مسائل سے نمٹنا شامل ہے۔\n\nانہوں نے اپنی فتح کے بعد تقریر میں مزید کہا کہ ’ہم ایک ایسی صورت حال میں اپنے سفر کا آغاز کرنے والے ہیں جہاں ہمیں آمرانہ حکومت کی چھوڑی ہوئی کمزور معیشت، کمزور پڑ چکے آئینی اور قانونی اداروں اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کا سامنا ہے۔‘\n\nنئے رہنما نے مہینوں جاری رہنے والے ہنگاموں کے بعد استحکام بحال کرنے اور ترقی کو دوبارہ زندہ کرنے کا عہد کیا ہے، ان ہنگاموں نے دنیا کے دوسرے سب سے بڑے گارمنٹ برآمد کنندہ میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مجروح کر دیا تھا۔\n\nانہوں نے تمام جماعتوں سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ برسوں کی تلخ دشمنی کی وجہ سے تقسیم شدہ ملک میں ’متحد رہیں۔‘\n\n**’پرامن اپوزیشن‘**\n\nطارق رحمٰن کی جیت ایک شخص کے حوالے سے حیران کن تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے جو برطانیہ میں 17 سالہ جلاوطنی کے بعد، ڈھاکہ کے سیاسی طوفانوں سے دور، محض دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آئے۔\n\nجماعت اسلامی کی قیادت زیر قیادت اتحاد کی 77 نشستوں کے مقابلے میں بی این پی اتحاد نے 212 نشستیں جیتیں۔\n\nجماعت اسلامی جس نے پارلیمنٹ میں ایک چوتھائی سے زیادہ نشستیں حاصل کیں، جو اس کی پچھلی بہترین کارکردگی سے چار گنا زیادہ ہیں، نے 32 حلقوں میں انتخابی نتائج کو چیلنج کیا ہے۔\n\nلیکن جماعت اسلامی کے رہنما 67 سالہ شفیق الرحمٰن نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کی جماعت ’ایک چوکس، اصولی اور پرامن اپوزیشن کے طور پر کام کرے گی‘۔\n\nشیخ حسینہ کی عوامی لیگ پارٹی کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا۔\n\n78 سالہ شیخ حسینہ، جنہیں انسانیت کے خلاف جرائم پر غائبانہ سزائے موت سنائی گئی تھی، نے انڈیا میں روپوشی کے دوران ایک بیان جاری کرتے ہوئے انتخابات کو ’غیر قانونی‘ قرار دیا۔\n\nلیکن انڈیا نے بی این پی کی ’فیصلہ کن جیت‘ کی تعریف کی جو شدید کشیدہ تعلقات کے بعد ایک قابل ذکر تبدیلی ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nبنگلہ دیشن میں ہونے والے عام انتخابات میں صرف سات خواتین براہ راست منتخب ہوئیں، حالاں کہ خواتین کے لیے مخصوص مزید 50 نشستیں پارٹیوں کو ان کے ووٹوں کے تناسب کے مطابق مختص کی جائیں گی۔\n\nاقلیتی برادریوں کے چار ارکان نے نشستیں جیتیں، جن میں دو ہندو شامل ہیں۔ یہ آبادی مسلم اکثریتی بنگلہ دیش میں تقریبا سات فیصد ہے۔\n\nانتخابات سے قبل ہفتوں کی ہنگامہ آرائی کے باوجود، ووٹنگ کا دن کسی بڑے ہنگامے کے بغیر گزر گیا اور ملک نے اب تک نتائج پر نسبتاً پرامن ردعمل ظاہر کیا ہے۔\n\nکرائسز گروپ کے تجزیہ کار تھامس کین نے کہا، ’اگر بی این پی معیشت کے لیے اچھا کام کیا تو یہ عمل حکومت کے لیے باقی سب کچھ آسان بنا دے گا۔\n\n’اس سے استحکام کی سطح پیدا کرنے میں مدد ملے گی تاکہ معیشت کے علاوہ دیگر بہت سے چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔‘\n\nبنگلہ دیش\n\nڈھاکہ\n\nانتخابات\n\nشیخ حسینہ\n\nبنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے قانون ساز رسمی طور پر طارق رحمٰن کو اپنا لیڈر منتخب کریں گے جس کے بعد وہ آج منگل کی سہ بطور وزیر اعظم حلف اٹھائیں گے۔\n\nاے ایف پی\n\nمنگل, فروری 17, 2026 - 11:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے چیئرمین طارق رحمٰن 13ویں عام انتخابات میں بی این پی کی کامیابی کے بعد 14 فروری کو ڈھاکہ میں فتح کا نشان بنا رہے ہیں (روئٹرز)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nبنگلہ دیشی وزیراعظم حلف برداری، پاکستانی وزیر شریک ہوں گے\n\n’اہم سنگ میل‘: 14 برس بعد بنگلہ دیشی قومی ایئرلائن کی پہلی پرواز کراچی پہنچی\n\nمیچ پاکستان اور انڈیا کا لیکن بے چینی بنگلہ دیش میں\n\nبنگلہ دیش میں خونی تبدیلی کے بعد جمہوریت کی جیت\n\nSEO Title:\n\nبنگلہ دیش: طارق رحمٰن، دیگر نومنتخب ارکان اسمبلی نے حلف اٹھا لیا\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "بنگلہ دیش: طارق رحمٰن، دیگر نومنتخب ارکان اسمبلی نے حلف اٹھا لیا"
}