{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreihl6254veibdddrzhdbpuh6uqdtwkd6g6ebgg7tshnn6afqfo7iua",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mezry2z6slk2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreif7u3jjt3nwft2xjfl4rg7grej5htnimfvwerpdwel4kqpaqahs4m"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 67361
  },
  "path": "/node/184670",
  "publishedAt": "2026-02-17T04:00:41.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
    "ایران",
    "مذاکرات",
    "تہران",
    "جوہری",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "امریکہ",
    "news"
  ],
  "textContent": "**امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری پروگرام پر آج بروز منگل کو جنیوا میں شروع ہونے والے مذاکرات میں ’بالواسطہ‘ طور پر شامل ہوں گے۔**\n\nیہ مذاکرات جنیوا میں منگل کو ہوں گے اور برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ تہران معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔\n\nٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں کو بتایا ’میں ان مذاکرات میں بالواسطہ طور پر شامل ہوں گا۔ اور یہ بہت اہم ہوں گے۔‘\n\nمذاکرات سے قبل تناؤ بدستور برقرار ہے اور امریکہ مشرق وسطیٰ میں دوسرا طیارہ بردار جہاز تعینات کر رہا ہے۔ امریکی حکام نے روئٹرز کو بتایا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو امریکی فوج ایک طویل فوجی مہم کے امکان کی تیاری کر رہی ہے۔\n\nمعاہدے کے امکانات کے بارے میں پوچھے جانے پر، ٹرمپ نے کہا کہ ایران مذاکرات میں سخت موقف برقرار رکھنا چاہتا تھا لیکن اس نے گزشتہ موسم گرما میں اس طرح کے سخت موقف کے نتائج اس وقت دیکھ لیے جب امریکہ نے ایرانی جوہری مقامات پر بمباری کی۔\n\nٹرمپ نے عندیہ دیا کہ ایران اس بار بات چیت کے لیے آمادہ ہیں۔\n\nٹرمپ نے کہا ’مجھے نہیں لگتا کہ وہ معاہدہ نہ کرنے کے نتائج بھگتنا چاہتے ہیں۔‘\n\nجون میں امریکہ کی جانب سے ایرانی جوہری مقامات پر حملے میں اسرائیل کا ساتھ دینے سے قبل، ایران امریکہ جوہری مذاکرات واشنگٹن کے اس مطالبے پر تعطل کا شکار ہو گئے تھے کہ تہران اپنی سرزمین پر افزودگی ترک کر دے، جسے امریکہ ایرانی جوہری ہتھیار کے راستے کے طور پر دیکھتا ہے۔\n\nایران کی سول ڈیفنس آرگنائزیشن نے پیر کو پارس سپیشل اکنامک انرجی زون میں کیمیائی دفاعی مشق کا انعقاد کیا تاکہ جنوبی ایران میں واقع توانائی کے اس مرکز میں ممکنہ کیمیائی واقعات سے نمٹنے کی تیاری کو مضبوط بنایا جا سکے۔\n\nدوسری جانب ایران نے پیر کو کہا کہ تہران کے جوہری پروگرام پر امریکی موقف مذاکرات کے دوسرے دور سے قبل ’مزید حقیقت پسندانہ‘ ہو گیا ہے، جب کہ ایرانی اور امریکی حکام بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے درمیان ملاقات کی تیاری کر رہے ہیں۔\n\nخبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مسقط میں ہونے والی بات چیت کی بنیاد پر کہا کہ ’کم از کم ہمیں جو بتایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ ایرانی جوہری مسئلے پر امریکی موقف مزید حقیقت پسندی کی جانب مائل ہوا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت ایران کے ناقابل تنسیخ حقوق کو تسلیم کیا گیا،‘ جن میں جوہری توانائی کا پرامن استعمال اور افزودگی شامل ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سفارتی اور ماہرین کے وفد کی سربراہی میں جنیوا پہنچے گئے ہیں جسے تہران نے عمان کی ثالثی میں امریکہ کے ساتھ ’بالواسطہ‘ مذاکرات قرار دیا ہے۔ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے کہا کہ مذاکرات کا دوسرا دور منگل کو ہو رہا ہے۔\n\nعراقچی نے ’ایکس‘ پر کہا کہ انہوں نے جنیوا میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی سے ’گہری تکنیکی بات چیت‘ کی۔ گروسی نے منگل کے مذاکرات سے قبل اس ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ’تفصیلی‘ قرار دیا۔\n\nایران کی وزارت خارجہ نے کہا کہ عراقچی سوئس اور عمانی ہم منصبوں اور دیگر بین الاقوامی حکام سے بھی ملاقات کریں گے۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر لکھا ’میں ایک منصفانہ اور مساوی معاہدے کے حصول کے لیے حقیقی تجاویز کے ساتھ جنیوا میں ہوں۔ جو چیز میز پر نہیں ہے: وہ دھمکیوں کے سامنے جھکنا ہے۔‘\n\nامریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پیر کو کہا کہ ’ہمیں امید ہے کہ کوئی معاہدہ ہو جائے گا‘ انہوں نے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ’ہمیشہ پرامن اور مذاکرات کے ذریعے حل کو ترجیح دیتے ہیں۔‘ وائٹ ہاؤس نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے لیے ایلچی سٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کو مذاکرات کے لیے روانہ کیا گیا ہے۔\n\nتہران اور واشنگٹن نے اس ماہ دوبارہ مذاکرات شروع کیے ہیں اس سے قبل جون میں اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف غیر معمولی بمباری مہم شروع کرنے پر سابقہ بات چیت ناکام ہو گئی تھی۔ اس مہم کے نتیجے میں 12 روزہ جنگ چھڑ گئی تھی جس کے دوران اسرائیل اور امریکہ نے ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nایران\n\nمذاکرات\n\nتہران\n\nجوہری\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری پروگرام پر آج بروز منگل کو جنیوا میں شروع ہونے والے مذاکرات میں ’بالواسطہ‘ طور پر شامل ہوں گے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nمنگل, فروری 17, 2026 - 09:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">سابق امریکی صدر اور 2024 میں صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پانچ مارچ 2024 کو فلوریڈا میں سپر ٹیوز ڈے الیکشن کی رات ایک تقریب میں شریک ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nامریکہ\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nایران میں حکومت کی تبدیلی ’بہترین عمل‘ ہوسکتا ہے: صدر ٹرمپ\n\nبورڈ آف پیس کے اراکین کا غزہ کے لیے پانچ ارب ڈالر دینے کا عہد: ٹرمپ\n\nٹرمپ نے پاکستان انڈیا لڑائی میں تباہ طیاروں کی تعداد 10 کر دی\n\nایران کے ساتھ ’بہت اچھی بات چیت‘ ہوئی: ٹرمپ\n\nSEO Title:\n\nایران سے مذاکرات میں بالواسطہ شامل رہوں گا، تہران معاہدہ کرنا چاہتا ہے: ٹرمپ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "ایران سے مذاکرات میں بالواسطہ شامل رہوں گا، تہران معاہدہ کرنا چاہتا ہے: ٹرمپ"
}