{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreigrkuhfjlsylq2unheevane72vkmlw42mcmwbuoigzlsmy4e6lpse",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mezekiufjbq2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreidmrrrowfkq2gq6tuvd567vveqsyj5s6igqs7oeaqe6fbjp3g3iee"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 86696
  },
  "path": "/node/184668",
  "publishedAt": "2026-02-16T17:54:36.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "باجوڑ",
    "حملہ",
    "پاکستان",
    "عسکریت پسندی",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "پاکستان",
    "news"
  ],
  "textContent": "**صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں پیر کو عسکریت پسندوں کے خود کش بم حملے میں سات سکیورٹی اہلکار جان سے گئے جبکہ آٹھ عسکریت پسند مارے گئے۔**\n\nڈپٹی سپرٹنڈنٹ پولیس نیاز محمد نے عرب نیوز کو بتایا چار سے پانچ کمروں پر مشتمل عمارت پر ہونے والے حملے میں سات پولیس اور ایف سی اہلکار جان سے گئے۔\n\nان کا کہنا تھا ’ہم نے ملبے سے سات لاشیں، جن میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے، اور دو زخمیوں کو ریکوری کیا ہے، جبکہ دیگر لاشوں کی تلاش جاری ہے۔ یہ چار سے پانچ کمروں پر مشتمل ایک عمارت تھی۔‘\n\nسکیورٹی ذرائع کے مطابق باجوڑ کے علاقے لوئی ماموند میں ملنگی پوسٹ پر بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے خودکش حملے کی کوشش کی گئی، جسے ناکام بنا دیا گیا۔\n\nسکیورٹی ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ جوابی کارروائی میں آٹھ حملہ آور مارے گئے۔\n\nذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔\n\nوزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ضلع باجوڑ کے علاقے ماموند میں ملنگی کے مقام پر فرنٹیئر کور کی چیک پوسٹ پر ہونے والے خودکش حملے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nسہیل آفریدی کے مطابق دھماکے کے فوری بعد ریسکیو اداروں کو بھرپور امدادی کارروائیاں شروع کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں جبکہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن مزید تیز کیا جا رہا ہے۔\n\nانہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں امن دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی اور امن و امان کے قیام کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔\n\nپاکستان میں 2021 میں افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد سے خیبر پختونخوا میں حملوں میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں زیادہ تر سابقہ قبائلی اضلاع میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا۔\n\nاسلام آباد کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے سرحد پار افغانستان میں خود کو دوبارہ منظم کر لیا ہے اور وہاں محفوظ ٹھکانوں سے کارروائیاں کر رہی ہے۔\n\nتاہم کابل اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کرتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔\n\nباجوڑ\n\nحملہ\n\nپاکستان\n\nعسکریت پسندی\n\nایک پولیس افسر کے مطابق چار سے پانچ کمروں پر مشتمل عمارت پر ہونے والے حملے میں سات پولیس اور ایف سی اہلکار جان سے گئے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nسوموار, فروری 16, 2026 - 23:00\n\nMain image:\n\n> <p>پشاور میں یکم فروری، 2023 کو پولیس اہلکار سڑک کے کنارے پہرہ دے رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nباجوڑ عسکریت پسندوں سے لڑتے ہوئے میجر جان سے گئے: پاکستان فوج\n\nباجوڑ: پولیو ٹیم پر حملہ، پولیس اہلکار سمیت دو افراد کی موت\n\nSEO Title:\n\nباجوڑ چیک پوسٹ پر خود کش حملہ، 7 سکیورٹی اہلکار جان سے گئے: پولیس\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "باجوڑ چیک پوسٹ پر خود کش حملہ، 7 سکیورٹی اہلکار جان سے گئے: پولیس"
}