{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreibeilxzn4sarhncby3i5pxkhqia3xhgbtvg4lrvmfyxhpfmno5fga",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mewng3ayzhr2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreidoekxqf6zb2pp3fncfskpapg22wtv6wssdcnr2tzdqoduh232hsi"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 45490
  },
  "path": "/node/184635",
  "publishedAt": "2026-02-15T08:29:13.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "ایران",
    "امریکہ",
    "تہران",
    "واشنگٹن",
    "مذاکرات",
    "روئٹرز",
    "ایشیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**ایرانی نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے اتوار کو شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے سمجھوتوں پر غور کرنے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ واشنگٹن پابندیاں اٹھانے پر بات کرنے پر آمادہ ہو۔**\n\nبرطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دیے گئے اس انٹرویو میں ایران نے کہا کہ وہ پابندیاں اٹھانے کے بدلے میں اپنے جوہری پروگرام پر پابندیاں لگانے پر بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن اس نے اس مسئلے کو میزائلوں سمیت دیگر سوالات سے جوڑنے کو بارہا مسترد کیا ہے۔\n\nایرانی نائب وزیر خارجہ تخت روانچی نے تصدیق کی کہ جوہری مذاکرات کا دوسرا دور منگل کو جنیوا میں ہو گا۔\n\nتہران اور واشنگٹن کے درمیان عمان میں بات چیت بحال کا عمل رواں ماہ ہی دوبارہ بحال ہوا ہے۔\n\nمجید تخت روانچی نے بی بی سی کو بتایا: ’(ابتدائی بات چیت) کم و بیش مثبت سمت میں رہی، لیکن ابھی فیصلہ کرنا بہت جلدی ہو گا۔‘\n\nایک ذریعے نے جمعے کو روئٹرز کو بتایا تھا کہ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سمیت ایک امریکی وفد منگل کی صبح ایرانی وفد کے ساتھ سے ملاقات کرے گا، جس میں عمانی نمائندے امریکہ-ایران رابطوں میں ثالثی کر رہے ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nایران کے جوہری سربراہ نے پیر کو کہا تھا کہ ان کا ملک تمام مالی پابندیاں ہٹائے جانے کے بدلے اپنی انتہائی افزودہ یورینیم کے معیار کو کم کرنے پر تیار ہو سکتا ہے۔\n\nتخت روانچی نے بی بی سی کے انٹرویو میں ایران کی لچک کو اجاگر کرنے کے لیے اس مثال کا استعمال کیا۔\n\nسینیئر سفارت کار نے تہران کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ وہ یورینیم کی افزودگی کو صفر پر لانا قبول نہیں کرے گا، جو گذشتہ سال کسی معاہدے تک پہنچنے میں ایک کلیدی رکاوٹ تھی کیونکہ امریکہ ایران کے اندر افزودگی کو جوہری ہتھیاروں کے راستے کے طور پر دیکھتا ہے۔\n\nتاہم ایران ایسے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی تردید کرتا ہے۔\n\nاپنے عہدے کی پہلی مدت کے دوران، ٹرمپ نے امریکہ کو 2015 کے ایران جوہری معاہدے سے نکال لیا تھا، جسے ’جوائنٹ کمپری ہینسیو پلان آف ایکشن‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، جو سابق ڈیموکریٹک صدر باراک اوباما کی خارجہ پالیسی کی نمایاں کامیابی تھی۔\n\nاس معاہدے نے تہران کی جانب سے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے بدلے ایران پر پابندیاں نرم کر دی تھیں تاکہ اسے ایٹم بم بنانے کے قابل ہونے سے روکا جا سکے۔\n\nایران\n\nامریکہ\n\nتہران\n\nواشنگٹن\n\nمذاکرات\n\nایرانی نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایران، امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے سمجھوتوں پر غور کرنے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ واشنگٹن پابندیاں اٹھانے پر بات کرنے پر آمادہ ہو۔\n\nروئٹرز\n\nاتوار, فروری 15, 2026 - 11:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی 24 جون 2019 کو اقوام متحدہ ہیڈکوارٹر میں صحافیوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں (روئٹرز)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nایران میں حکومت کی تبدیلی ’بہترین عمل‘ ہوسکتا ہے: صدر ٹرمپ\n\nعالمی پابندیاں ختم ہوں تو انتہائی افزودہ یورینیم کو کم سطح پر لانے پر تیار: ایران\n\nامریکہ سے مذاکرات، ’یورینیم افزودگی کا حق‘ تسلیم کرنا لازمی شرط: ایران\n\nSEO Title:\n\nامریکہ پابندیاں ہٹانے پر مذاکرات کرے تو جوہری معاہدے میں سمجھوتوں پر تیار ہیں: ایران\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "امریکہ پابندیاں ہٹانے پر بات کرے تو جوہری معاہدے میں سمجھوتوں پر تیار: ایران"
}