{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreigifd5omo74oog3jffgpc2bedq6obr6zdyazsnn4mf64wuirjzywu",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3metwaawl5md2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreig4dbov4tbkvnxtmpsmh5y7mqfoprox5gpm5p6i56dqu2lr42vszy"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 162313
  },
  "path": "/node/184617",
  "publishedAt": "2026-02-14T04:30:25.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "خالصتان تحریک",
    "انڈیا",
    "سکھ",
    "قتل",
    "سازش",
    "پنجاب",
    "اے پی",
    "ایشیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**انڈیا سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے جمعے اعتراف کیا کہ انہوں نے نیویارک سٹی میں مقیم ممتاز سکھ علیحدگی پسند رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو قتل کرنے کے لیے اجرتی قاتل کی خدمات حاصل کرنے کی سازش کی۔**\n\nنکھل گپتا کے اس اعتراف کے بعد ایک اعلیٰ امریکی وفاقی پراسیکیوٹر نے بیرون ملک مقیم کسی بھی شخص کو امریکہ میں امریکی شہریوں کو قتل کرنے کی سازش کے خلاف خبردار کیا۔\n\nامریکی اٹارنی جے کلیٹن نے مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں نکھل گپتا کی جانب سے سازش کے تین الزامات میں جرم قبول کرنے کے بعد ایک جاری کردہ بیان میں کہا: ’مذموم غیر ملکی عناصر کے لیے ہمارا پیغام واضح ہونا چاہیے کہ امریکہ اور ہمارے لوگوں سے دور رہیں۔‘\n\nنیویارک کے ایف بی آئی آفس کے سربراہ جیمز سی بارنیکل جونیئر نے کہا کہ نکھل گپتا نے انڈین حکومت کے ایک اہلکار کے ساتھ رابطہ کیا، جس نے انہیں قتل کرنے کی ہدایت کی، اور ’انڈین حکومت کے ایک کھلے ناقد کو خاموش کروانے کے لیے ایک غیر ملکی دشمن کی غیر قانونی کوشش میں سہولت فراہم کی۔‘\n\n54 سالہ نکھل گپتا نے مجسٹریٹ جج سارہ نیٹ برن کو بتایا کہ وہ انڈیا میں تھے جب انہوں نے 2023 میں اس شخص کو آن لائن 15 ہزار ڈالر ادا کیے، جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ امریکی شہری گرپتونت سنگھ پنوں کو قتل کر سکتے ہیں۔ تاہم، نکھل گپتا انجانے میں قانون نافذ کرنے والے ایک خفیہ افسر سے بات کر رہے تھے جنہوں نے خود کو اجرتی قاتل ظاہر کیا۔\n\nجرم کا اعتراف ایک کمرہ عدالت میں کیا گیا جو امریکہ اور کینیڈا بھر سے آئے ہوئے تقریباً دو درجن سکھوں سے بھرا ہوا تھا جو انڈیا کے شمال مغرب میں واقع ریاست پنجاب کی آزادی حاصل کرنے کی گرپتونت سنگھ پنوں کی خواہش میں شریک ہیں، جسے وہ کسی دن ڈیموکریٹک رپبلک آف خالصتان کا نام دینے کی امید رکھتے ہیں۔\n\nیونائیٹڈ ہندو فرنٹ تنظیم کے ایک رکن نے 24 ستمبر 2023 کو نئی دہلی کی ایک سڑک پر منعقد ہونے والی ایک ریلی کے دوران ایک بینر تھاما ہوا ہے جس پر گرپتونت سنگھ پنوں کی تصویر بنی ہے اور جس پر کراس کا نشان بنایا گیا ہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\nمقدمے کی کارروائی ختم ہونے کے بعد لوگوں نے کمرہ عدالت میں فتح کا نعرہ لگایا اور پھر عدالت کے باہر دعائیہ تقریب منعقد کی، جہاں انہوں نے زرد جھنڈے لہرائے، جن پر نیلی سیاہی سے ’خالصتان‘ لکھا ہوا تھا۔ امریکی جھنڈے بھی اٹھائے گئے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nگرپتونت سنگھ پنوں جو خودمختار سکھ ریاست کے قیام کی وکالت کرتے ہیں اور انڈین حکومت انہیں دہشت گرد سمجھتی ہے، نے بعد میں ٹیلی فون پر انٹرویو میں کہا کہ وہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں، ’چاہے مجھے گولی کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔‘\n\nانہوں نے کہا: ’میں دہشت گرد نہیں ہوں۔‘ گرپتونت سنگھ نے خود کو ایک سکھ کے طور پر بیان کیا جو انسانی حقوق کے وکیل کے طور پر پنجاب کو ایک ایسی جگہ بنانے کے لیے مہم چلا رہے ہیں جہاں ’تمام مذاہب کو مساوی حقوق حاصل ہوں گے۔‘ انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ انڈیا میں ان حکام کے خلاف کارروائی کرے جنہوں نے نکھل گپتا کو ہدایات دی تھیں۔\n\nنکھل گپتا کو جون 2023 میں جمہوریہ چیک، جہاں انہیں پراگ میں گرفتار کیا گیا تھا، سے امریکہ حوالگی کے بعد سے ضمانت کے بغیر حراست میں رکھا گیا ہے۔ اقرار جرم کے معاہدے میں انہیں کم از کم دو دہائیوں کی قید کاٹنے کا کہا گیا ہے جبکہ سزا سنانے کے لیے 29 مئی کی تاریخ مقرر کی گئی تھی۔\n\nعدالتی دستاویزات کے مطابق نکھل گپتا نے ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی کے خفیہ افسر کو، جسے وہ اجرتی قاتل سمجھ کر بھرتی کر رہے تھے، تجویز دی کہ برٹش کولمبیا، کینیڈا میں ایک سکھ مندر کے باہر ہردیپ سنگھ نجر کا جون 2023 میں ہونے والا قتل انہی افراد کا کام تھا، جو گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔\n\nخالصتان تحریک کے سرگرم رہنما ہردیپ سنگھ نجر جنہیں کینیڈا میں گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا (دا سکھ پریس ایسوسی ایشن)\n\n\n\n\nان دستاویزات میں مزید بتایا گیا کہ نکل گپتا نے مذکورہ افسر کو بتایا کہ نجر ’بھی ہدف تھے‘ اور ’ہمارے بہت سے اہداف ہیں۔‘ انہوں نے افسر کو ہدایت کی کہ چونکہ نجر مر چکے ہیں اس لیے اب گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی کارروائی آگے بڑھائی جائے۔\n\nگرپتونت سنگھ پنوں نے نکھل گپتا کو ’محض ایک مہرہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا: ’انڈین حکومت اس آپریشنل مہرے کے پیچھے خود کو نہیں چھپا سکتی کیوں کہ حکم، ہدایت اور فنڈز انڈین حکومت کی طرف سے منظور کیے جاتے ہیں۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا: ’میں پیچھے ہٹنے اور غلام کی طرح جینے کی بجائے انڈیا کی گولی کھانے کے لیے تیار ہوں۔ سکھ ریاست خالصتان کی آزادی کے لیے کام کرنا میری زندگی کا مشن ہے، جب تک کہ یا تو میں مارا جاؤں یا پنجاب ایک آزاد ملک بن جائے۔‘\n\nخالصتان تحریک\n\nانڈیا\n\nسکھ\n\nقتل\n\nسازش\n\nپنجاب\n\nنکھل گپتا نامی انڈین شہری نے امریکی عدالت کو بتایا کہ انہوں نے 2023 میں اس شخص کو 15 ہزار ڈالر ادا دیے، جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو قتل کر سکتے ہیں۔\n\nاے پی\n\nہفتہ, فروری 14, 2026 - 09:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">نیویارک سٹی میں 17 جون 2024 کے خاکے میں نکھل گپتا اپنے وکیل صفائی جیفری چبرو کے ہمراہ وفاقی عدالت میں پیش ہو رہے ہیں (روئٹرز)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nکینیڈا اور انڈیا کی سفارتی کشیدگی کی وجہ ہردیپ سنگھ نجر کون؟\n\nامریکہ: سکھوں کا انڈیا سے آزادی کے لیے ایک اور ’خالصتان‘ ریفرنڈم\n\nکیا بھارت میں خالصتان تحریک کی بنیاد راولپنڈی میں پڑی؟\n\nSEO Title:\n\nامریکہ میں سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی سازش کی: انڈین شہری کا اعتراف\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "امریکہ میں سکھ رہنما کے قتل کی سازش کی: انڈین شہری کا اعتراف"
}