{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreic3rq7czdspasjqx3h4iat3ek6ciom22wfa2ljzioxyvwf2tea2oq",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3metw7xi374d2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreigmgfiy4qhq7fqzmpff3uqvqpaukksfuun7a5j7y7rl22xqdivgne"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 138737
  },
  "path": "/node/184620",
  "publishedAt": "2026-02-14T06:58:47.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "پی ٹی آئی",
    "اپوزیشن",
    "عمران خان",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "پاکستان",
    "video"
  ],
  "textContent": "**اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کی مبینہ بگڑتی ہوئی صحت اور ان سے ملاقاتوں پر عائد پابندیوں کے خلاف اپوزیشن اتحاد کا اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس اور خیبر پختونخوا ہاؤس کے باہر دھرنا ہفتے کو دوسرے روز بھی جاری ہے۔**\n\nپاکستان تحریک انصاف نے اس دھرنے کا اعلان جمعرات کو وکیل سلمان صفدر کی جانب سے سپریم کورٹ میں سابق وزیراعظم کی مبینہ بگڑتی صحت سے متعلق رپورٹ جمع کروائے جانے کے بعد کیا تھا، جس کے بعد اپوزیشن اتحاد ’تحریک تحفظ آئین پاکستان‘ اور عوام پاکستان پارٹی نے بھی اس احتجاجی دھرنے کی حمایت کرتے ہوئے اس میں شمولیت کا اعلان کیا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nسپریم کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی ہے۔\n\nسابق وزیراعظم عمران خان اگست 2023 سے قید میں ہیں اور ان دنوں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں، جبکہ 9 مئی 2023 کے احتجاجی واقعات سے متعلق انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) کے تحت مقدمات بھی زیرِ سماعت ہیں۔\n\nاڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی صحت سے متعلق سہولیات پر پی ٹی آئی متعدد بار شکوہ اور عدم اطمینان کا اظہار کر چکی ہے۔ گذشتہ ماہ بھی خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ عمران خان کو آنکھوں کا سنگین مرض ’سنٹرل ریٹائنل وین اوکلوژن (CRVO)‘ لاحق ہو سکتا ہے اور شوکت خانم ہسپتال کی انتظامیہ نے ان کے طبی معائنے اور ان تک رسائی کی اجازت کے لیے درخواست کی ہے۔ جس کے بعد سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں ہونے لگیں۔\n\nانہی قیاس آرائیوں کے دوران 29 جنوری کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے بتایا تھا کہ عمران خان کو آنکھوں کے طبی ماہرین کی تجویز پر گذشتہ ہفتے کی شب پمز ہسپتال لے جایا گیا تھا اور 20 منٹ کی طبی کارروائی کے بعد انہیں واپس جیل منتقل کر دیا گیا، جس پر پی ٹی آئی نے شدید تشویش کا اظہار کیا۔\n\nعمران خان کی صحت کے معاملے پر احتجاج کرتے ہوئے جہاں ایک جانب ’راستوں کی بندش‘ کی وجہ سے اپوزیشن اراکین قومی اسمبلی و سینیٹ نے پارلیمان کی حدود کے اندر دھرنا دے رکھا ہے وہیں دوسری جانب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں ایک دھرنا اسلام آباد میں خیبر پختونخوا ہاؤس (کے پی ہاؤس) میں بھی دیا گیا ہے۔\n\nجو اراکین پارلیمان کو جانے والے راستوں کے بند ہونے کی وجہ سے وہاں نہیں پہنچ سکے تھے، وہ سہیل آفریدی کے ہمراہ کے پی ہاؤس کے باہر موجود ہیں۔\n\nوزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی اراکین بانی چیئرمین عمران خان کی صحت کے معاملے پر احتجاجاً اسلام آباد میں خیبرپختونخوا ہاؤس کے باہر دھرنا دیے بیٹھے ہیں (قرۃ العین شیرازی)\n\n\n\n\nچیئرمین پی ٹی آئی گوہر خان نے جمعے کو انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا تھا کہ ان کا مطالبہ انتہائی سادہ ہے، بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت ان کا بنیادی حق ہے۔\n\nان کے بقول: ’عمران خان کو فوری طور پر شفا ہسپتال منتقل کیا جائے اور ان کے ذاتی معالجین کی موجودگی میں ان کا علاج کیا جائے تاکہ ان کا مناسب علاج ممکن ہو سکے۔ اسی تاخیر کی وجہ سے ان کی بینائی 85 فیصد ضائع ہو چکی ہے۔‘\n\nچیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا تھا کہ ان کی جماعت اور عمران خان کے اہل خانہ کا مشترکہ مطالبہ ہے کہ عمران خان کا علاج اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں کروایا جائے، جہاں متعلقہ شعبے کے ماہرین دستیاب ہیں۔\n\nمطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں لائحۂ عمل سے متعلق سوال پر گوہر خان نے کہا کہ یہ قیادت فیصلہ کرے گی کہ آگے کیا کرنا ہے۔\n\nدوسری جانب وزیر اعظم کے معاون خصوصی رانا ثنا اللہ نے اس معاملے پر اپنے بیان میں کہا کہ اپوزیشن سنجیدہ مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتی۔\n\nرانا ثنا کا کہنا تھا: ’اگر اپوزیشن دھرنے یا احتجاجی کال دے تو سکیورٹی اقدامات ناگزیر ہو جاتے ہیں، اسی لیے بعض راستوں کو بند کیا گیا۔‘\n\nعمران خان کی ہسپتال منتقلی کے حوالے سے رانا ثنا کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ڈاکٹرز کی سفارش پر ہوگا اور عدالت بھی طبی رائے کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی۔\n\n’اگر ماہرین تجویز کریں تو عمران خان کو ہسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے۔ فی الحال کسی نئی کمیٹی کی تشکیل زیر غور نہیں اور وزیراعظم کو جو خط دیا گیا ہے اس میں بھی بنیادی طور پر علاج اور ہسپتال منتقلی کا مطالبہ دہرایا گیا ہے۔‘\n\nپی ٹی آئی\n\nاپوزیشن\n\nعمران خان\n\nاڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کی مبینہ بگڑتی ہوئی صحت اور ان سے ملاقاتوں پر عائد پابندیوں کے خلاف اپوزیشن اتحاد کا اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس اور خیبر پختونخوا ہاؤس کے باہر دھرنا ہفتے کو دوسرے روز بھی جاری ہے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nہفتہ, فروری 14, 2026 - 12:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">اپوزیشن اراکین عمران خان کی صحت کے معاملے پر احتجاج کرتے ہوئے 14 فروری 2026 کو اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دیے بیٹھے ہیں (حسین اخونذادہ)</p>\n\nپاکستان\n\njw id:\n\n4HWr16YO\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nعمران خان کی بینائی کا معاملہ: اپوزیشن کا پارلیمنٹ کے باہر دھرنا\n\nعمران خان کی بینائی 15 فیصد رہ گئی: وکیل پی ٹی آئی\n\nوکیل سلمان عمران خان سے جیل میں مل کر رپورٹ دیں: سپریم کورٹ\n\nعمران خان کی صحت، اگر حالات خراب ہوئے تو ذمہ دار حکومت: سہیل آفریدی\n\nSEO Title:\n\nعمران خان کی بینائی کا معاملہ: پارلیمنٹ کے باہر اپوزیشن دھرنے کا دوسرا روز\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "عمران خان کی بینائی کا معاملہ: پارلیمنٹ کے باہر اپوزیشن دھرنے کا دوسرا روز"
}