{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreigezui74cr2pjjzxwlorsam3fq5tebpa4yz7asunp573bjlcx67ni",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3metw7o5w27r2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreib3tzqwkbzjtdgk3cdfeaygfdnhzeymeozu2c3vyudcpwzl3ybrqe"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 123614
},
"path": "/node/184622",
"publishedAt": "2026-02-14T09:30:08.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"بنگلہ دیش",
"ڈھاکہ",
"انتخابات",
"جماعت اسلامی",
"اے ایف پی",
"ایشیا",
"video"
],
"textContent": "**بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی نے عام انتخاب میں ووٹوں کی گنتی میں مسائل کا الزام لگانے کے باوجود ہفتے کو اپنی انتخابی شکست تسلیم کر لی ہے جس کے بعد نیشنلسٹ رہنما طارق رحمٰن کے ملک کا نیا وزیراعظم بننے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔**\n\nالیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق طارق رحمٰن کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے جمعرات کے انتخابات میں زبردست فتح حاصل کی، جو 2024 کی اس پرتشدد تحریک کے بعد پہلے انتخابات تھے، جس میں شیخ حسینہ واجد کی حکمرانی کا خاتمہ ہوا تھا۔\n\nبی این پی کے سربراہ 60 سالہ طارق رحمٰن کی کامیابی اس شخص کے لیے ایک حیران کن تبدیلی کی علامت ہے جو ڈھاکہ کے سیاسی طوفانوں سے دور برطانیہ میں 17 سال جلاوطنی میں گزارنے کے بعد دسمبر میں ہی بنگلہ دیش واپس پہنچے۔\n\nبنگلہ دیش کے سب سے طاقتور سیاسی خاندانوں میں سے ایک کے چشم و چراغ طارق رحمٰن کی جانب سے آج بروز ہفتہ انتخابی فتح کے حوالے سے خطاب کی توقع ہے۔\n\nطارق رحمٰن کے والد، سابق صدر ضیا الرحمان کو 1981 میں قتل کر دیا گیا تھا، جب کہ ان کی والدہ خالدہ ضیا تین بار وزیراعظم رہیں اور دہائیوں تک قومی سیاست پر چھائی رہیں۔\n\nنوبیل انعام یافتہ محمد یونس، جو عوامی تحریک کے بعد سے بطور عبوری رہنما 17 کروڑ آبادی والے ملک کی قیادت کر رہے ہیں، نے کہا کہ ضیاالرحمٰن ’ملک کو استحکام، شمولیت اور ترقی کی طرف لے جانے میں مدد کریں گے۔‘\n\nالیکشن کمیشن کے مطابق، جماعت اسلامی کے اتحاد کی 77 نشستوں کے مقابلے میں بی این پی اتحاد نے 212 نشستیں جیتیں۔\n\nجماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر شفیق الرحمٰن 12 فروری 2026 کو ملک میں ہونے والے عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے بعد اظہار خیال کر رہے ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\n**’عوامی فیصلہ‘**\n\nجماعت کے سربراہ 67 سالہ شفیق الرحمٰن نے جمعے کو کہا تھا کہ وہ الیکشن کمیشن سے ’ازالہ چاہیں گے‘، جب کہ ان کی پارٹی نے ’تضادات اور ہیرا پھیری‘ کا الزام لگایا۔\n\nلیکن ایک دن بعد انہوں نے شکست تسلیم کر لی۔\n\nجماعت کے رہنما نے ایک بیان میں کہا: ’کسی بھی حقیقی جمہوری سفر میں، قیادت کا اصل امتحان صرف یہ نہیں ہے کہ ہم مہم کیسے چلاتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم عوام کے فیصلے پر کیا ردعمل دیتے ہیں۔ ہم مجموعی نتیجے کو تسلیم کرتے ہیں، اور ہم قانون کی حکمرانی کا احترام کرتے ہیں۔‘\n\nشیخ حسینہ کی عوامی لیگ پارٹی کو حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا۔ 78 سالہ حسینہ، جنہیں انسانیت کے خلاف جرائم پر ان کی غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی گئی تھی، نے انڈیا میں روپوشی کے دوران ایک بیان جاری کیا، جس میں ’غیر قانونی اور غیر آئینی الیکشن‘ کی مذمت کی گئی۔\n\nامریکی سفارت خانے نے طارق رحمٰن اور بی این پی کو ’تاریخی فتح‘ پر مبارکباد دی، جب کہ پڑوسی ملک انڈیا نے ان کی ’فیصلہ کن جیت‘ کی تعریف کی، جو شدید کشیدہ تعلقات کے بعد ایک نمایاں تبدیلی ہے۔\n\nچین اور پاکستان، جو 2024 کی تحریک اور انڈیا کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کے بعد بنگلہ دیش کے قریب آئے، نے بھی بی این پی کو مبارکباد دی۔\n\nبین الاقوامی انتخابی مبصرین نے کہا کہ انتخابات کامیاب رہے۔ یورپی یونین نے ہفتے کو کہا کہ انتخابات ’معتبر‘ تھے۔\n\nاسی طرح انٹرنیشنل رپبلکن انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ اگرچہ ’انتخابی انتظامیہ تکنیکی طور پر درست تھی، لیکن وسیع تر سیاسی ماحول نازک ہے۔‘\n\n**’کامیاب ووٹنگ‘**\n\nجماعت اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمٰن نے کہا کہ ان کی پارٹی ’چوکس، اصولی اور پرامن اپوزیشن کے طور پر کام کرے گی، اور حکومت کا احتساب کرے گی۔‘\n\nالیکشن کمشنر محمد انوار الاسلام سرکار نے بتایا کہ ووٹنگ کامیاب رہی۔\n\nانہوں نے کہا کہ ’یہ اب تک کا بہترین الیکشن تھا۔ انہوں نے بتایا کہ 42 ہزار سے زیادہ پولنگ سٹیشنوں میں سے صرف ایک پر پولنگ منسوخ کی گئی۔\n\nالیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ ’لوگوں کو شکوک و شبہات تھے کہ کیا ان حالات میں کامیاب الیکشن ہو سکتا ہے، لیکن ہم نے یہ کر دکھایا۔ اگر اب بھی کسی کو کوئی مسئلہ ہے تو وہ عدالت جا سکتا ہے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nالیکشن کمیشن نے کہا کہ 300 میں سے 299 حلقوں میں ٹرن آؤٹ 59 فیصد رہا۔\n\nبنگلہ دیش کے عام انتخابات میں صرف سات خواتین منتخب ہوئیں، حالاں کہ پارلیمنٹ میں خواتین کے لیے مخصوص مزید 50 نشستیں پارٹی لسٹوں سے نامزد کی جائیں گی۔\n\nشفیق الرحمٰن نے ان نمایاں کامیابیوں پر زور دیا، جو ان کی اسلامی پارٹی نے حسینہ کے دور میں برسوں کچلے جانے کے بعد گذشتہ انتخابات کے مقابلے میں حاصل کی تھیں۔\n\nان کا کہنا تھا کہ ’77 نشستوں کے ساتھ، ہم نے پارلیمنٹ میں اپنی موجودگی کو تقریباً چار گنا بڑھا دیا ہے اور جدید بنگلہ دیشی سیاست میں سب سے مضبوط اپوزیشن بلاکس میں سے ایک بن گئے ہیں۔ یہ کوئی دھچکہ نہیں ہے۔ یہ ایک بنیاد ہے۔‘\n\nووٹروں نے جمعرات کو محمد یونس کے حمایت یافتہ ایک وسیع جمہوری اصلاحاتی منشور پر ہونے والے ریفرنڈم میں اس کی تجاویز کی بھی تائید کی۔ ان اصلاحات کا مقصد حکومت کے اُس نظام کو تبدیل کرنا ہے جسے محمد یونس نے ’مکمل طور پر تباہ حال‘ قرار دیا۔ اصلاحات کا مقصد ون پارٹی کردار کی واپسی کو روکنا بھی ہے۔\n\nاصلاحات میں وزیراعظم کی مدت کی حد، پارلیمنٹ کا نیا ایوان بالا، مضبوط صدارتی اختیارات اور زیادہ عدالتی آزادی شامل ہیں۔\n\nکرائسس گروپ کے تجزیہ کار تھامس کین نے خبردار کیا کہ آنے والی حکومت کو اب ’مشکل چیلنجز‘ کا سامنا ہے، جن میں ’معیشت کو بہتر بنانا، سکیورٹی یقینی بنانا اور اصلاحاتی عمل جاری رکھنا‘ شامل ہیں۔\n\nبنگلہ دیش\n\nڈھاکہ\n\nانتخابات\n\nجماعت اسلامی\n\nجماعت اسلامی نے انتخابات میں شکست تسلیم کر لی۔ جماعت کے سربراہ شفیق الرحمٰن نے کہا کہ ’ہم مجموعی نتیجے کو تسلیم اور قانون کی حکمرانی کا احترام کرتے ہیں۔‘\n\nاے ایف پی\n\nہفتہ, فروری 14, 2026 - 14:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سربراہ طارق رحمٰن لندن سے واپسی کے بعد 25 دسمبر 2025 کو ڈھاکہ میں اپنے حامیوں کو دیکھ کر ہاتھ ہلا رہے ہیں (روئٹرز)</p>\n\nایشیا\n\njw id:\n\nIICJy09v\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nبنگلہ دیش میں خونی تبدیلی کے بعد جمہوریت کی جیت\n\nبنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کامیاب: صدر زرداری، شہباز کی طارق رحمٰن کو مبارک باد\n\n2024 کے ملک گیر احتجاج کے بعد بنگلہ دیش کا پہلا الیکشن، سخت سکیورٹی میں پولنگ\n\nبنگلہ دیش انتخابات میں فتح کے لیے طارق رحمان پُراعتماد\n\nSEO Title:\n\nطارق رحمٰن کے بنگلہ دیش کا نیا وزیراعظم بننے کی راہ ہموار\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "طارق رحمٰن کے بنگلہ دیش کا نیا وزیراعظم بننے کی راہ ہموار"
}