{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreicjupa5jnhtgngxgfs5hsocazvrjwz3ydbos2qk54f6dnq2me5qwu",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mer6zonvpgc2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreicythkddez2exneq5tjsgct43zfq56qhmcwelpa6gqapyhs72opam"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 159381
},
"path": "/node/184614",
"publishedAt": "2026-02-13T16:41:26.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"سلامتی کونسل",
"مسجد میں ہونے والے خودکش حملے",
"متعدد ملک اور ادارے مذمت کر چکے ہیں۔",
"اقوام متحدہ",
"سلامتی کونسل",
"خودکش دھماکہ",
"داعش",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"پاکستان",
"news"
],
"textContent": "**اقوام متحدہ کیسلامتی کونسل نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے نواحی علاقے ترلائی میں ایک مسجد میں ہونے والے خودکش حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔**\n\nچھ فروری 2026 کو ہونے والے اس واقعے میں کم از کم 32 افراد جان سے گئے اور 92 زخمی ہوئے۔ اس حملے کی ذمہ داری عسکریت پسند تنظیم داعش نے قبول کی ہے۔\n\nسلامتی کونسل کے موجودہ صدر جیمز کاریوکی (برطانیہ) کی جانب سے جمعے کو جاری ہونے والے بیان میں کونسل کے تمام اراکین نے متاثرین کے خاندانوں، حکومتِ پاکستان اور عوام کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔\n\nبیان کے مطابق عالمی ادارے کے نمائندوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ’دہشت گردی اپنی تمام شکلوں میں بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے سنگین ترین خطرات میں سے ایک ہے۔‘\n\nانہوں نے ’ان کارروائیوں کے مرتکب افراد، منتظمین، مالی معاونین اور سہولت کاروں کو جوابدہ ٹھہرانے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کی اشد ضرورت پر زور دیا۔‘\n\nسلامتی کونسل نے تمام عالمی ریاستوں پر زور دیا کہ وہ ’بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے مطابق اس سلسلے میں حکومتِ پاکستان کے ساتھ فعال طور پر تعاون کریں۔‘\n\nبیان کے آخر میں اس بات کو دہرایا گیا کہ ’دہشت گردی کی کوئی بھی کارروائی سراسر مجرمانہ اور ناقابلِ جواز ہے، قطع نظر اس کے کہ اس کے محرکات کیا ہیں اور یہ کارروائی کہاں، کب اور کس نے کی ہے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nسلامتی کونسل نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین، بشمول انسانی حقوق اور مہاجرین کے قوانین کے تحت، عالمی امن و سلامتی کو لاحق خطرات کا ہر ممکن طریقے سے مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔\n\nاس واقعے کی متعدد ملک اور ادارے مذمت کر چکے ہیں۔\n\nسعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’مملکت، برادر اسلامی ملک پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر قسم کے تشدد اور دہشت گردی کی مخالفت کرتی ہے۔‘\n\nمتحدہ عرب امارات نے بھی اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یو اے ای ان مجرمانہ کارروائیوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔‘\n\nافغانستان کی وزرات خارجہ کی جانب سے جمعے کی شام جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وزارت خارجہ اسلام آباد کی ایک مسجد میں نمازہ جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔‘\n\nاس کے علاوہ امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین، فرانس، نیدرلینڈز، انڈیا، ایران اور آذربائیجان نے بھی اسلام آباد دھماکے کی مذمت کی ہے۔ اس کے علاوہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش بھی اس حملے کی مذمت کر چکے ہیں۔\n\nاقوام متحدہ\n\nسلامتی کونسل\n\nخودکش دھماکہ\n\nداعش\n\nسلامتی کونسل نے تمام عالمی ریاستوں پر زور دیا کہ وہ ’بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے مطابق اس سلسلے میں حکومتِ پاکستان کے ساتھ فعال طور پر تعاون کریں۔‘\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعہ, فروری 13, 2026 - 21:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">اسلام آباد کے نواحی علاقے ترلائی میں چھ فروری 2026 کو جمعے کی نماز کے دوران ہونے بم دھماکے کے بعد غم زدہ لوگ مسجد کے باہر جمع ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nترلائی مسجد کے ’خودکش حملہ آور‘ کے دو بھائی اور بہنوئی گرفتار: اسلام آباد پولیس\n\nاسلام آباد مسجد حملے میں 31 اموات، حملہ آور کی شناخت کر لی: طلال چوہدری\n\nترلائی مسجد حملے میں بچوں کا قتل ناقابل قبول: یونیسف\n\nداعش اسلام آباد تک کیسے پہنچ گئی؟\n\nSEO Title:\n\nاسلام آباد میں خودکش دھماکہ: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مذمت\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "اسلام آباد میں خودکش دھماکہ: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مذمت"
}