{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreidddtwdz6hrezhpdkpxdppzfwpyfhj3dsuixbliioqn73xhfkdg6i",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mepwqcctxve2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreidcpukoh7ffdghkgabh3gd3mqyyp62q3kxoqbuoqt7djme5z6br3m"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 151250
  },
  "path": "/node/184602",
  "publishedAt": "2026-02-13T05:34:06.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "بنگلہ دیش",
    "عام انتخابات",
    "2026",
    "ہارون رشید",
    "نقطۂ نظر",
    "news"
  ],
  "textContent": "**بنگلہ دیش میں غیر یقینی صورت حال اور گہری بدگمانیوں کے درمیان، اس بار کے انتخابات میں عوام کی خوشی اور دلچسپی غیرمعمولی رہی ہے۔**\n\nونسٹن چرچل نے اکتوبر 1944 میں ہاؤس آف کامنز میں دنیا کو یاد دلایا کہ جمہوریت واقعی ایک اہم چیز پر منحصر ہے اور وہ ہے: ’وہ مرد اور عورت جو ایک چھوٹے سے بوتھ میں جا کر، ایک پینسل کے ساتھ کاغذ پر ایک چھوٹا سا کراس بناتے ہیں۔‘\n\nبنگلہ دیش کے مرد و زن نے بھی جعمرات کو اپنا یہ حق رائے دہی استعمال کیا۔ یہ ماضی میں بنگلہ دیش کے انتخابات کے طرح یقینی طور پر یکطرفہ، انجینیئرڈ نہیں تھے جو ہم نے 2014، 2018، اور 2024 میں دیکھے۔ اس وقت نتائج اتنے ہی متوقع تھے جتنا دن کے بعد رات کا امکان۔ اس بار مقابلہ حقیقی تھا، منصفانہ اور آزاد انتخابات کی توقع تھی اور سب سے بڑی بات طاقت ووٹرز کے ہاتھ میں تھی۔\n\nاس الیکشن میں، ہم جماعت اسلامی کی واپسی کا مشاہدہ کر رہے ہیں، ایک ایسی جماعت جس نے 1971 کے واقعات کے بعد دوبارہ نمایاں حمایت حاصل کی۔\n\nپھر ایک نئی سیاسی جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کا ابھرنا، جو 2024 جولائی کی بغاوت کے بعد پیدا ہوئی اور اب جماعت اسلامی کی اتحادی ہے، سیاسی افق پر ایک مثبت اضافہ ہے۔\n\nاور پھر بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی)، جو طویل عرصے سے دباؤ کا شکار تھی لیکن اب دو محبوب رہنماؤں کی میراث کے ساتھ ابھر رہی ہے۔ ان کے بیٹے کی قیادت میں، جنہیں 17 سال تک بیرون ملک رہنے پر مجبور کیا گیا، بی این پی ایک سنجیدہ مقابلے کے بعد اب ووٹروں کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے تیار دکھائی دیتی ہے۔\n\nعوامی لیگ کے زوال نے بنگلہ دیش کے سیاسی منظر نامے کو نئی شکل دی۔ جب لیگ کے رہنما ملک سے فرار ہو گئے، تو اس پارٹی پر بغاوت کے دوران مبینہ قتل اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں پابندی عائد کر دی گئی اور اسے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔\n\nاس نے بی این پی اور جماعت اسلامی کی قیادت والے اتحاد کے لیے ان حلقوں میں مقابلہ کرنے کے لیے جگہ کھول دی جو طویل عرصے سے عوامی لیگ کے زیر تسلط تھیں۔\n\n2014 اور 2024 کے انتخابات زیادہ تر بلامقابلہ ثابت ہوئے تھے، جن کا اپوزیشن نے بائیکاٹ کیا تھا، جبکہ 2018 کے انتخابات پولنگ کے دن دھاندلی کے الزامات کی وجہ سے متاثر ہوئے تھے۔\n\nالیکشن کے نتائج نے بتا دیا کہ آیا لوگوں کی جولائی میں پیدا ہونے والی توقعات مذہبی یا سیاسی عناصر کی طرف ہیں۔\n\nڈھاکہ میں 13 فروری 2026 کو بنگلہ دیش کے عام انتخابات میں گنتی جاری رہنے کے دوران ایک شخص بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے چیئرمین اور انتخابی امیدوار طارق رحمٰن کے دفتر کے باہر مہم کے پوسٹر کے سامنے سے گزر رہا ہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\nجنوری 2024 کا الیکشن بنگلہ دیش کی جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل لگ رہا تھا اور یقیناً بہت سے لوگوں نے ووٹ ڈالنے کی اس وقت زحمت تک نہیں کی تھی۔ پھر جولائی آیا اور ہم نے دیکھا کہ کس طرح غیر مسلح طلبہ نے کئی دہائیوں پہلے اپنے پیشروؤں کی طرح، ایک بے رحم حکومت کے خلاف کھڑے ہونے کی جرت کی۔\n\nایک بار پھر، یہ طالبات ہی تھیں جنہیں سیاسی غنڈوں نے بے رحمی سے پیٹا جس سے پہلی چنگاری بھڑکی اور جس نے بظاہر سادہ نظر آنے والی کوٹہ مخالف، امتیازی سلوک کے خلاف ایک تحریک کو بہت زیادہ نتیجہ خیز بنا دیا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاور پھر تحریک نے ابو سعید کی صورت میں پہلا جمہوریت کے لیے جان کتی قربانی دی جس سے تحریک نے زبردست رفتار پکڑی۔ طلبہء کی قیادت میں ہزاروں لوگ غصے اور غم کے عالم میں سڑکوں پر نکل آئے۔ اس وقت کی حکومت کی سرپرستی میں مظاہرین کے قتل کا سلسلہ شروع ہوا جس میں اقوام متحدہ کے مطابق لگ بھگ 1400 لوگ مارے گئے اور ہزاروں زخمی ہوئے۔\n\nپھر، 5 اگست 2024 کو، ناممکن ممکن ہوگیا۔ ایک غیرمقبول حکمران بھاگ گیا اور ملک اس کی ’ظالم حکومت‘ سے آزاد ہو گیا۔ اس کامیابی نے بنگلہ دیش کے عوام کو ایک مرتبہ پھر خواب دیکھنے کی ہمت دی۔\n\nجب پروفیسر محمد یونس نے طلبہ کی کال پر لبیک کہا اور سول سوسائٹی کے ارکان اور طلبہ کے نمائندوں کی ایک غیر روایتی کابینہ نے عبوری حکومت کی تشکیل کا حلف اٹھایا تو انہیں احساس ہوا کہ ان کی دعائیں قبول ہو گئی ہیں اور حقیقی تبدیلی آنے والی ہے۔ پچھلی حکومت کے جبری اور سیاسی قیدیوں کو رہا کر دیا گیا۔\n\nبنگلہ دیش جماعت اسلامی پارٹی کے رہنما شفیق الرحمان 12 فروری 2026 کو ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کے عام انتخابات کے دوران ایک پولنگ سٹیشن پر اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد میڈیا کو اشارہ کر رہے ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\nدرحقیقت، بہت سے خدشات جو الیکشن کو گھیرے ہوئے تھے۔ اندیشہ تھا کہ تشدد ہو گا جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل جائے گا اور ووٹر ٹرن آؤٹ کم ہوگا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔\n\nدرحقیقت، ووٹنگ شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل ہی عوامی لیگ اور چند دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بظاہر منسلک بعض سیاسی رہنماؤں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے انتخابات کی قانونی حیثیت پر شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی اور حریف جماعتوں پر غلط یا غیر یقینی طور پر الزامات عائد کیے تاکہ لوگوں کو ووٹ ڈالنے سے روکا جاسکے۔\n\nپولنگ کے دوران یقینا خوف و ہراس پھیلانے اور بیلٹ چھیننے کی کوششوں کے چند الگ تھلگ واقعات رونما ہوئے لیکن یہ بہت کم تھے۔ آخر میں، ووٹروں نے جھوٹے پروپیگنڈے سے ڈرنے سے انکار کر دیا اور اپنا جمہوری حق استعمال کیا۔\n\nتقریباً 12.77 کروڑ ووٹرز کے ساتھ، جن میں سے تقریباً نصف خواتین تھیں ان الیکشنز میں بہت زیادہ داؤ پر لگا ہوا تھا۔ نتیجتاً، بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکاروں کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تعینات کیا گیا تھا کہ یہ آسانی سے انجام پائے۔ تقریباً 10 لاکھ سکیورٹی اہلکار سخت حفاظتی انتظامات کے لیے تعینات کیے گئے تھے، جن میں ایک لاکھ سے زیادہ فوج کے اہلکار اور 1.86 لاکھ سے زیادہ پولیس اہلکار شامل تھے۔\n\nاس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ اس الیکشن میں ایک ریفرنڈم بھی شامل تھا، ووٹنگ کا عمل خاصا ہموار اور موثر رہا۔\n\nسیاسی والدین کے بیٹے طارق رحمن کا مضبوط سیاسی پس منظر کیا انہیں بنگلہ دیش کے چیلنجز سے نمٹنے کے قابل بنائے گا یا نہیں یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔\n\nبنگلہ دیش\n\nعام انتخابات\n\n2026\n\nدرحقیقت بہت سے خدشات الیکشن کو گھیرے ہوئے تھے۔ اندیشہ تھا کہ تشدد ہو گا جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل جائے گا اور ووٹرز ٹرن آؤٹ کم ہوگا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔\n\nہارون رشید\n\nجمعہ, فروری 13, 2026 - 10:30\n\nMain image:\n\n> <p>ڈھاکہ میں 12 فروری 2026 کو بنگلہ دیش کے عام انتخابات کے دوران ایک پولنگ سٹیشن پر گنتی شروع ہونے پر انتخابی اہلکار بیلٹ کو ترتیب دے رہے ہیں (اے ایف پی) </p>\n\nنقطۂ نظر\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nبنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کامیاب: صدر زرداری، شہباز کی طارق رحمٰن کو مبارک باد\n\nبنگلہ دیش: انتخابات میں ’جنریشن زی کا کردار اہم‘\n\nبنگلہ دیش انتخابات کیسے خطے میں طاقت کا توازن بدل سکتے ہیں؟\n\n2024 کے ملک گیر احتجاج کے بعد بنگلہ دیش کا پہلا الیکشن، سخت سکیورٹی میں پولنگ\n\nSEO Title:\n\nبنگلہ دیش میں خونی تبدیلی کے بعد جمہوریت کی جیت\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "بنگلہ دیش میں خونی تبدیلی کے بعد جمہوریت کی جیت"
}