{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiht2ahxz3gn5r4lpshlugoevsenth6yrz6ojl4gprdm3x5z7fjjey",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3meppz6sutc32"
},
"path": "/node/184599",
"publishedAt": "2026-02-13T02:43:18.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"بنگلہ دیش",
"الیکشن",
"ڈھاکہ",
"انتخابات",
"پولنگ",
"روئٹرز",
"ایشیا",
"video"
],
"textContent": "**بنگلہ دیش کے ٹیلی ویژن چینلز کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے جمعے کو اہم پارلیمانی انتخابات میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔**\n\nجمعرات کی شام پولنگ مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی رات بھر جاری رہی۔ ان اہم انتخابات کے نتیجے میں ملک میں سیاسی استحکام بحال ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔\n\nجمعرات ہونے والا پارلیمانی الیکشن بنگلہ دیش میں 2024 کی ’جنریشن زی‘ کی قیادت میں ہونے والی اس پرتشدد تحریک کے بعد پہلا ووٹ تھا۔ عوامی تحریک نے طویل عرصے سے وزیراعظم رہنے والی شیخ حسینہ کا تختہ الٹ دیا تھا۔\n\nساڑھے 17 کروڑ آبادی والے اس مسلم اکثریتی ملک میں کئی مہینوں کے شیخ حسینہ مخالف خونریز ہنگاموں کے بعد استحکام کے لیے ایک واضح انتخابی نتیجہ اہم سمجھا جا رہا تھا۔ ان ہنگاموں نے روزمرہ کی زندگی کو درہم برہم کیا اور بڑی صنعتوں کو متاثر کیا جن میں دنیا کے دوسرے بڑے برآمد کنندہ بنگلہ دیش کا گارمنٹس سیکٹر بھی شامل ہے۔\n\nیہ خطے میں 30 سال سے کم عمر افراد کی قیادت میں حالیہ تحریکوں کے بعد پہلا قومی الیکشن بھی تھا۔\n\n**بی این پی کی کامیابی**\n\nٹیلی ویژن چینلوں پر دکھائے گئے انتخابی نتائج میں بتایا گیا کہ مقامی وقت کے مطابق صبح چار بجے تک بی این پی نے 300 ارکان پر مشتمل ’جاتیہ سنسد‘ یا ایوان میں 185 نشستیں حاصل کر لی تھیں اور اس طرح سادہ اکثریت کے لیے درکار نصف تعداد کا ہندسہ آسانی سے عبور کر لیا۔\n\nجیسے جیسے گنتی جاری تھی، بی این پی کے رہنماؤں نے کہا کہ پارٹی کو 200 نشستیں جیتنے اور دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کا یقین ہے۔\n\nبی این پی کی مجلس قائمہ کے رکن عامر خسرو محمود چوہدری نے کہا، ’بلاشبہ، بی این پی جیت رہی ہے۔ یقیناً اکثریت حاصل کر رہی ہے، اور یہ ایک زبردست فتح بھی ہو گی۔\n\n’دو تہائی نشستیں جیتنے کو زبردست فتح کہا جاتا ہے، میرے خیال میں ہم 200 نشستوں کی حد عبور کر لیں گے۔‘\n\nبی این پی کی قیادت، وزیراعظم کے عہدے کے سر فہرست امیدوار طارق رحمان کر رہے ہیں، جو سابق وزیراعظم خالدہ ضیا اور سابق صدر ضیا الرحمان کے 60 سالہ بیٹے ہیں۔\n\nان کی انتخابی مہم کے وعدوں میں غریب خاندانوں کے لیے مالی امداد، کسی بھی فرد کے لیے وزیراعظم رہنے کی 10 سال کی حد، غیر ملکی سرمایہ کاری سمیت دیگر اقدامات سے معیشت کو بہتر بنانا اور بدعنوانی مخالف پالیسیاں شامل رہے۔\n\nجماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر شفیق الرحمان 12 فروری 2026 کو عام انتخابات کے لیے پولنگ مکمل ہونے کے بعد دارالحکومت ڈھاکہ میں پریس کانفرنس کر رہے ہیں (روئٹرز)\n\n\n\n\n**جماعت اسلامی کا مثبت اپوزیشن کا وعدہ**\n\nبی این پی کی اہم حریف، جماعت اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمان نے شکست تسلیم کر لی ہے۔ ان کی پارٹی صرف 56 نشستوں پر کامیاب رہی۔ شفیق الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی محض مخالفت برائے مخالفت کی ’اپوزیشن کی سیاست‘ میں شامل نہیں ہو گی۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم مثبت سیاست کریں گے۔‘\n\nزبردست نتیجے کے باوجود، اس الیکشن کو برسوں میں بنگلہ دیش کا پہلا حقیقی مسابقتی ووٹ سمجھا گیا۔ شیخ حسینہ کی عوامی لیگ پارٹی، جس نے ان کی بے دخلی تک 15 سال سے زیادہ عرصے تک ملک پر حکومت کی تھی، کو الیکشن لڑنے سے روک دیا گیا تھا۔\n\nجمعرات کو ہونے والی پولنگ کا ٹرن آؤٹ 2024 کے گذشتہ الیکشن میں ریکارڈ کیے گئے 42 فیصد سے تجاوز کرتا دکھائی دیا۔ مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ رجسٹرڈ ووٹروں میں سے 60 فیصد سے زیادہ کے ووٹ ڈالنے کی توقع تھی۔\n\nدو ہزار سے زیادہ امیدوارجن میں بہت سے آزاد امیدوار بھی شامل تھے پولنگ کے وقت موجود رہے جب کہ کم از کم 50 پارٹیوں نے نشستوں کے لیے الیکشن لڑا، جو ایک قومی ریکارڈ ہے۔ ایک حلقے میں امیدوار کی وفات کے بعد ووٹنگ ملتوی کر دی گئی۔\n\nانتخابات کے ساتھ ہی، آئینی اصلاحات کے ایک سیٹ پر ریفرنڈم بھی منعقد ہوا جس میں انتخابات کے دوران غیر جانبدار عبوری حکومت کا قیام، پارلیمنٹ کو دو ایوانی مقننہ میں تبدیل کرنا، خواتین کی نمائندگی میں اضافہ، عدالتی آزادی کو مضبوط کرنا اور وزیراعظم کے لیے دو بار کی مدت کی حد متعارف کرانا شامل تھا۔\n\nریفرنڈم کے نتیجے پر کوئی سرکاری بیان نہیں آیا۔ سرکردہ مقامی اخبار پرتھوم آلو نے رپورٹ کیا کہ ’ہاں‘ یا مثبت ووٹ گنتی میں آگے تھا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\n**شیخ حسینہ نے ووٹ کو ڈھونگ قرار دے دیا**\n\nشیخ حسینہ اپنے طویل مدتی اتحادی انڈیا میں خود ساختہ جلاوطنی میں ہیں جس سے ڈھاکہ اور نئی دہلی کے درمیان تعلقات کو خراب ہو گئے ہیں اور چین کے لیے بنگلہ دیش میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا راستہ کھل گیا ہے۔\n\nپولنگ سٹیشنز بند ہونے کے بعد بھیجے گئے ایک بیان میں شیخ حسینہ نے الیکشن کو ایک ’سوچی سمجھی سازش‘ قرار دے کر مسترد کر دیا، جو ان کی پارٹی کے بغیر اور حقیقی ووٹروں کی شرکت کے بغیر منعقد ہوا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی لیگ کے حامیوں نے اس عمل کو مسترد کر دیا تھا۔\n\nانہوں نے کہا، ’ہم اس ووٹروں کے بغیر، غیر قانونی اور غیر آئینی الیکشن کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ عوامی لیگ کی سرگرمیوں پر عائد پابندی ہٹائی جائے، اور ایک غیر جانب دار نگران حکومت کے تحت آزادانہ، منصفانہ اور سب کی شمولیت والے الیکشن کے انعقاد کے ذریعے لوگوں کے ووٹ کے حقوق بحال کیے جائیں۔‘\n\nشیخ حسینہ کے مخالفین کا کہنا ہے کہ ان کے دور حکومت میں ہونے والے انتخابات اکثر بائیکاٹ اور ڈرانے دھمکانے سے متاثر ہوتے تھے۔\n\n**پاکستان کے صدر اور وزیر اعظم کی مبارکباد**\n\nصدر پاکستان آصف علی زرداری نے بنگلہ دیش کے عام انتخابات میں بی این پی کی بڑی کامیابی پر پارٹی کے رہنما طارق رحمان کو مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے انتخابات کے کامیابی اور پرامن ماحول میں انعقاد پر بنگلہ دیشی عوام کو بھی مبارکباد دی۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے جمہوری شراکت داری اور مستقبل میں مشترکہ ترقی کے لیے اپنی مضبوط حمایت کا اعادہ کیا ہے۔\n\nوزیراعظم محمد شہباز شریف نے بنگلہ دیش کے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی پر بنگلہ دیش نیشلسٹ پارٹی کے رہنما طارق رحمان کو مبارکباد دی ہے۔\n\nجمعے کو وزیر اعظم آفس کی طرف سے جاری بیان میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وہ بنگلہ دیش کے عوام کو بھی انتخابات کے کامیاب انعقاد پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔\n\nوزیر اعظم شہباز شریف نے کہا: ’میں بنگلہ دیش کی نئی قیادت کے ساتھ قریبی تعاون کا خواہاں ہوں تاکہ اپنے تاریخی، برادرانہ اور ہمہ جہتی دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اور جنوبی ایشیا اور اس سے باہر امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھایا جا سکے۔‘\n\nبنگلہ دیش\n\nالیکشن\n\nڈھاکہ\n\nانتخابات\n\nپولنگ\n\nمقامی ٹی وی چینلز کے مطابق بی این پی جمعے کو صبح چار بجے تک پارلیمانی ایوان جاتیہ سنسد کی 300 میں سے 185 نشستیں حاصل کر چکی تھی۔\n\nروئٹرز\n\nجمعہ, فروری 13, 2026 - 06:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">بنگلہ دیش نیشلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنما طارق رحمان 25 دسمبر 2025 کو دارالحکومت ڈھاکہ میں اپنے حامیوں کو دیکھ ہر ہاتھ ہلا رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\njw id:\n\nOotFpe61\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\n2024 کے ملک گیر احتجاج کے بعد بنگلہ دیش کا پہلا الیکشن، سخت سکیورٹی میں پولنگ\n\nبنگلہ دیش کی انتخابی مہم میں پاکستان، انڈیا کا ذکر کیوں نہیں؟\n\nبنگلہ دیش انتخابات کیسے خطے میں طاقت کا توازن بدل سکتے ہیں؟\n\nبنگلہ دیش انتخابات میں فتح کے لیے طارق رحمان پُراعتماد\n\nSEO Title:\n\nبنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کامیاب: صدر زرداری، شہباز کی طارق رحمٰن کو مبارک باد\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کامیاب: صدر زرداری، شہباز کی طارق رحمٰن کو مبارک باد"
}