{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreidjfhctszzgfvsbr4khb7mikdcyz74nwcc6veezyx5uuv2hmvek3a",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mepj3yrgep32"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreib55kboa3iu3wa2yd3ielctcp4744w2fpmemqvrrcgedg4slzvyc4"
},
"mimeType": "image/png",
"size": 919301
},
"path": "/node/184598",
"publishedAt": "2026-02-13T02:23:59.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"افغانستان",
"ٹی ٹی پی",
"بی ایل اے",
"افغان طالبان",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"پاکستان",
"news"
],
"textContent": "**پاکستان نے جمعرات کو ایک مرتبہ پھر افغانستان میں شدت پسند گروپوں کی سرگرم موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے افغان طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پائیدار اور قابلِ تصدیق اقدامات کے ذریعے ان عناصر کے خلاف موثر کارروائی کریں۔**\n\nاقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد کی جانب سے اس قرارداد کے حق میں ووٹ کے بعد کیا، جس کے تحت 1988 میں طالبان پر پابندیوں کے نظام سے متعلق مانیٹرنگ ٹیم کی مدت میں 12 ماہ کی توسیع کی گئی ہے۔\n\nعاصم افتخار نے اس قرارداد کی متفقہ منظوری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’بروقت بھی ہے اور ضروری بھی۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nمستقل مندوب کے مطابق: ’پاکستان کو افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کی سرگرم موجودگی پر شدید تشویش لاحق ہے، جن میں ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان)، بی ایل اے (بلوچستان لبریشن آرمی) اور مجید بریگیڈ، داعش خراسان اور القاعدہ شامل ہیں۔ یہ گروہ پاکستان کے خلاف بعض انتہائی گھناؤنے دہشت گرد حملوں اور یرغمال بنانے کے واقعات کے ذمہ دار رہے ہیں۔‘\n\nرواں ماہ فروری میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بی ایل اے اور اسلام آباد کی مسجد میں داعش خراسان کے حملوں میں مجموعی طور پر 80 بے گناہ پاکستانیوں کی اموات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’ایک بار پھر ان حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد کے لیے افغان سرزمین استعمال کی گئی۔‘\n\nعاصم افتخار نے کہا: ’ہم ایک مرتبہ پھر اس مطالبے کو دہراتے ہیں کہ افغان سرزمین ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے اور بیرونی تخریب کار عناصر کو صورت حال سے فائدہ اٹھانے سے روکنے کے لیے اقدامات کیے جانے چاہییں۔‘\n\nساتھ ہی انہوں نے افغان طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ ’دہشت گرد گروہوں کو بلا روک ٹوک ایسے اقدامات کرنے سے روکیں اور پائیدار اور قابلِ تصدیق اقدامات کے ذریعے اپنی انسدادِ دہشت گردی کی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کریں، تاکہ دیرپا امن اور سلامتی کے مفادات کا تحفظ ہو سکے۔‘\n\nپاکستانی مندوب نے مزید کہا: ’یہ فیصلہ طالبان کو کرنا ہے کہ وہ افغانستان کے لیے کون سا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ تنہائی کا راستہ یا امن اور خوشحالی کا وہ راستہ جو عالمی برادری کے ایک ذمہ دار رکن کے طور پر اختیار کیا جاتا ہے۔‘\n\nافغانستان\n\nٹی ٹی پی\n\nبی ایل اے\n\nافغان طالبان\n\nپاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا: ’ہم ایک مرتبہ پھر اس مطالبے کو دہراتے ہیں کہ افغان سرزمین ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔‘\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعہ, فروری 13, 2026 - 07:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب 12 فروری 2026 کو ایک اجلاس کے موقعے پر اظہار خیال کرتے ہوئے (مستقل پاکستانی مشن ایکس اکاؤنٹ)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nافغان طالبان نے 9/11 سے پہلے جیسے حالات پیدا کر دیے: زرداری\n\nٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے گٹھ جوڑ کے ٹھوس ثبوت ہیں: وزیراعظم\n\nافغانستان سے تحریری اور ٹھوس ضمانتیں چاہتے ہیں: پاکستان\n\nسلامتی کونسل بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دے: پاکستان\n\nSEO Title:\n\nطالبان افغانستان میں سرگرم شدت پسند گروہوں کے خلاف موثر کارروائی کریں: پاکستان\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "طالبان افغانستان میں سرگرم شدت پسند گروہوں کے خلاف موثر کارروائی کریں: پاکستان"
}