{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreigfdiqz37qyb2vh6mm7fly7qhozoblszbodnnp7wnnzxqme2zbbky",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mepcg3qci7w2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreibzzwboyrxekl66m2eprvb2whvlczkhu3ziqhrcvnafoety4g7dly"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 97003
},
"path": "/node/184587",
"publishedAt": "2026-02-12T06:24:20.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"عمران خان",
"پاکستان سپریم کورٹ",
"اڈیالہ جیل",
"قرۃ العین شیرازی",
"سیاست",
"video"
],
"textContent": "**سپریم کورٹ میں جمعرات کو وکیل سلمان صفدر کی جانب سے جمع کرائی گئی سات صفحات پر مشتمل رپورٹ میں سابق وزیر اعظم اور بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے فوری طبی معائنے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور جیل میں فراہم کی جانے والی سہولیات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔**\n\nرپورٹ، جس کی کاپی انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے، میں عمران خان نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کا معائنہ ان کے ذاتی معالجین ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف سے کرایا جائے، تاہم سفارش کی گئی ہے کہ طبی معائنہ کسی مستند ماہر ڈاکٹر سے بھی کرایا جا سکتا ہے۔\n\nاس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم کی دائیں آنکھ کی بینائی اچانک اور مکمل طور پر متاثر ہوئی، جس کے بعد علاج کا عمل شروع کیا گیا۔ انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا اور انجکشن بھی لگایا گیا، تاہم ان کے مطابق اب بھی انہیں صرف 10 سے 15 فیصد تک نظر آتا ہے۔\n\nرپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ’گذشتہ تین ماہ کے دوران بینائی کم ہونے کا مسئلہ درپیش رہا مگر جیل حکام نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا اور نہ ہی اس مسئلے کو بروقت ایڈریس کرنے کی کوشش کی۔‘\n\nسلمان صفدر کی رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ تقریبا تین سے چار ماہ قبل، یعنی اکتوبر 2025 تک، ان کی دونوں آنکھوں کی بینائی نارمل تھی، تاہم اس کے بعد مستقل دھندلاہٹ اور نظر دھندلانے کی شکایت شروع ہوئی۔\n\nرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’اس حوالے سے متعدد بار اس وقت کے جیل سپرنٹنڈنٹ عبدالغفور انجم کو آگاہ کیا گیا لیکن کوئی موثر اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ تین ماہ تک آنکھ کی تکلیف کے لیے صرف آئی ڈراپس دیے جاتے رہے تاہم عمران خان کے مطابق ان سے بینائی پر کوئی اثر نہیں پڑا اور بعد ازاں دائیں آنکھ کی بینائی اچانک مکمل طور پر ختم ہو گئی۔‘\n\nاس کے بعد پمز ہسپتال کے ماہر امراض چشم ڈاکٹر محمد عارف کو معائنے کے لیے بلایا گیا۔ انہیں ’آنکھ میں بلڈ کلاٹ کی تشخیص ہوئی جس سے شدید نقصان پہنچا۔ علاج، بشمول انجکشن، کے باوجود دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی ہے۔‘\n\nمیڈیکل رپورٹس کے مطابق عمران خان کو ریٹینا کی سنگین بیماری لاحق ہے جبکہ سابق وزیر اعظم کی جانب سے جیل میں طبی سہولیات اور باقاعدہ ٹیسٹوں کی فراہمی پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے۔\n\nوکیل نے کہا کہ ’دو سال سے دانتوں کا معائنہ نہیں کرایا گیا اور عمر کے مطابق باقاعدہ بلڈ ٹیسٹ بھی نہیں کیے جا رہے۔‘\n\nرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’بانی پی ٹی آئی نے پانچ ماہ سے وکلا سے ملاقات نہ ہونے کی شکایت کی ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ وکلا سے ملاقات کے بغیر شفاف ٹرائل کا بنیادی حق متاثر ہو رہا ہے۔ عدالت اس معاملے میں مداخلت کرے اور وکلا سے ملاقات یقینی بنائے۔‘\n\nاہل خانہ سے ملاقاتوں کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملاقاتیں محدود ہیں، اہلیہ سے ہفتہ وار ملاقات کی اجازت ہے جبکہ بیٹوں سے فون پر رابطہ بھی انتہائی محدود ہے۔ رپورٹ میں اہل خانہ سے بلا تعطل ملاقاتوں کی سفارش کی گئی ہے۔\n\nجیل کی سہولیات کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم کو سردیوں میں ایک چھوٹا ہیٹر فراہم کیا جاتا ہے جبکہ گرمیوں میں سیل میں حبس ہو جاتا ہے۔\n\nرپورٹ کے مطابق : ’عمران خان کو گرمیوں میں ریفریجریٹر کی سہولت میسر نہیں اور صرف ایک کول باکس دیا گیا ہے جو ہمیشہ مؤثر ثابت نہیں ہوتا اسی گرمیوں میں دو سے تین بار فوڈ پوائزننگ کا سامنا کرنا پڑا۔‘\n\nرپورٹ میں مچھروں اور حشرات کی موجودگی، گرمیوں میں مناسب نیند نہ آ سکنے، اور سیل میں ٹی وی کے غیر فعال ہونے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں سفارش کی گئی ہے کہ سیل سے مچھروں اور کیڑے مکوڑوں/حشرات کے خاتمے کے اقدامات کیے جائیں، ریفریجریٹر جیسی بنیادی ضرورت فراہم کی جائے اور سیل کے کچن اور صفائی کے نظام میں بہتری لائی جائے۔\n\nعمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی 17 جولائی، 2023 کو لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار کیس میں ضمانت کے شورٹی بانڈ پر دستخط کر رہے ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\nاس رپورٹ کے مطابق اڈیالہ جیل کے سیل بلاک میں سخت سکیورٹی اور 24 گھنٹے نگرانی کی جا رہی ہے، جہاں سی سی ٹی وی کیمرے اور سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو روزانہ ورزش اور چہل قدمی کے محدود اوقات میسر ہیں اور محدود ورزش کے آلات اور کھلی جگہ دستیاب ہے۔\n\nسلمان صفدر نے رپورٹ میں کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی ملاقات کے دوران بروقت علاج نہ ملنے پر پریشان نظر آئے اور ان کی آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا جسے وہ بار بار صاف کر رہے تھے۔\n\nان کے بقول: ’عمران خان نے پہلے کبھی صحت کے مسائل کو بنیاد نہیں بنایا، تاہم موجودہ صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔‘\n\nسپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی اس رپورٹ میں مجموعی طور پر جیل کے حالات پر فوری توجہ دینے اور ضروری اقدامات اٹھانے کی سفارش کی گئی ہے۔\n\n**حکومتی رد عمل**\n\nوفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے رپورٹ کے بعد اپنے ردعمل میں کہا کہ ’علیمہ خانہ اور بانی پی ٹی آئی کے دیگر فیملی ممبران کی طرف سے بانی پی ٹی آئی کے ساتھ جیل میں مبینہ سختی اور نامناسب حالات سے متعلق پھیلایا جانے والا جعلی بیانیہ آج ختم ہو گیا ہے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ ’روزمرہ کے معمولات اور ڈائیٹ پلان کے حوالے سے رپورٹ میں رہن سہن اور کھانے پینے سے متعلق تفصیلات نے تمام ابہام دور کر دیئے ہیں۔‘\n\nوفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ ’چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں تمام تر سہولیات میسر ہیں اور انہیں کسی عام قیدی سے کئی گنا زیادہ مراعات حاصل ہیں۔\n\n**سپریم کورٹ کو دوبارہ معائنے اور بچوں سے بات کرانے کی یقین دہانی**\n\nحکومت پاکستان نے سپریم کورٹ کو 16 فروری سے قبل سابق وزیر اعظم عمران خان کی آنکھوں کا دوبارہ معائنہ اور ان کے بچوں سے ٹیلیفون پر بات کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔\n\nسوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر عمران خان کے دونوں بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان نے 13 مئی 2025 کو ماریو ناؤفل نامی صارف کو تقریباً 45 منٹ طویل انٹرویو دیا (سکرین گریب/ ماریو ناؤفل)\n\n\n\n\nوفاقی حکومت کی طرف سے یہ یقین دہانی جمعرات کو اٹارنی جنرل آف پاکستان عثمان منصور اعوان نے سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کے سامنے کرائی گئی۔\n\nتاہم عدالت نے یہ درخواست مسترد کر دی کہ سابق وزیراعظم کی آنکھ کا معائنہ ان کے خاندان کے افراد کی موجودگی میں کرایا جائے۔\n\nچیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان کے حالات سے متعلق مقدمے کی دوبارہ سماعت جمعرات کو کی۔\n\nسپریم کورٹ کے بینچ نے 16 فروری سے قبل سابق وزیراعظم عمران خان کی آنکھ کے معائنے کے لیے میڈیکل ٹیم بنانے اور انہیں ان کے بچوں سے بات کرنے کی اجازت دیے جانے کا حکم دیا۔\n\nبینچ کے دوسرے رکن جسٹس شاہد بلال حسن تھے۔\n\nچیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ عمران کی صحت کا مسئلہ سب سے اہم ہے اور اسی لیے سپریم کورٹ کی مداخلت ضروری ہے۔\n\nانہوں مزید کہا کہ ’ہم ان (عمران خان) کی صحت کے معاملے پر حکومت کا مؤقف جاننا چاہتے ہیں۔‘\n\nاس پر اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان نے تصدیق کی کہ طبی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔\n\nاٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے مزید کہا کہ ’اگر قیدی مطمئن نہیں ہوتا ہے تو ریاست اقدامات کرے گی۔‘\n\nچیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ایک موقعے پر دوبارہ کہا کہ عمران کی ’اپنے بچوں کے ساتھ ٹیلی فون کالز کا معاملہ بھی اہم ہے۔‘\n\nسپریم کورٹ کے اسی بینچ نے منگل کو پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کو فرینڈ آف دا کورٹ مقرر کرتے ہوئے انہیں اڈیالہ جیل میں ملاقات کرنے اور عدالت کو ان کی صحت اور بیرک کی صورت حال سے متعلق تفصیلی رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت کی تھی۔\n\nبیرسٹر سلمان صفدر نے منگل کو ہی راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں عمران خان کے ساتھ تین گھنٹے تک ملاقات کی تھی اور آج (جمعرات کو) سپریم کورٹ میں اپنی رپورٹ داخل کی۔\n\nگذشتہ سماعت میں چیف جسٹس نے کہا تھا کہ عدالت کا 24 اگست 2023 کا حکم بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ’جیل میں فراہم کی جانے والی سہولیات کے حوالے سے موجود ہے اور اس پر ہر صورت عمل ہونا چاہیے۔ سلمان صفدر سپریم کورٹ کے عدالتی مینڈیٹ کے ساتھ اڈیالہ جیل جا رہے ہیں اور انہیں عدالت کے دوست کے طور پر ذمہ داری سونپی گئی ہے۔‘\n\nسماعت کا آغاز ہوا تو چیف جسٹس نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کو جیل سپرٹنڈنٹ اور سلمان صفدر کی رپورٹس موصول ہوئی ہیں، دونوں رپورٹس میں زیادہ چیزیں ایک جیسی ہیں۔ جگہ اچھی ہے اور سہولیات ٹھیک ہیں۔‘\n\nچیف جسٹس نے مزید کہا کہ ’فیملی ممبرز سے ملاقات کا ایشو ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے، مناسب ہوگا کہ متعلقہ فورم ان کا فیصلہ کریں۔‘\n\nدوسری جانب بیرسٹر سلمان صفدر نے رپورٹ میں سفارشات پڑھ کر سنائیں۔\n\nانہوں نے کہا طبی معائنہ کسی فیملی ممبر کی موجودگی میں کروایا جائے، تاہم عدالت نے یہ استدعا مسترد کر دی۔\n\nعمران خان کی بہن علیمہ خان دو دسمبر، 2023 کو راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر خصوصی عدالت میں عمران خان کی پیشی کے موقعے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے (اے ایف پی)\n\n\n\n\nاٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کو کچھ کتابیں دینے کا بھی کہا گیا تھا۔ ’آنکھ کے معالجین کے مشورے کے بعد کتابیں فراہم کی جائیں گی۔‘\n\nچیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’صحت کا مسئلہ سب سے اہم ہے اور صحت کے معاملے پر مداخلت کی ضرورت ہے۔ صحت کے معاملے پر حکومت کا موقف جاننا چاہتے ہیں۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاٹارنی جنرل نے جواب دیا ’صحت کی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، اگر قیدی مطمئن نہیں تو ریاست اقدامات کرے گی۔‘\n\nچیف جسٹس نے کہا بچوں سے ٹیلی فون کالز کا مسئلہ بھی ہے، ہم حکومت پر اعتماد کر رہے ہیں، آج حکومت اچھے موڈ میں ہے۔\n\nدوسری جانب سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ اپیل کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ بھی لیں گے۔\n\n’درخواست گزار نے ٹرائل کورٹ کا اختیار چیلنج کر رکھا ہے، جبکہ اب تو ٹرائل کا فیصلہ بھی آ چکا ہے اور فیصلے کے خلاف اپیلیں زیر التوا ہیں۔ ایسی صورت میں کیا یہ مقدمہ غیر موثر نہیں ہو چکا؟‘\n\nوکیل لطیف کھوسہ نے مؤقف اختیار کیا کہ نارمل مقدمہ ہوتا تو وہ غیر موثر ہونے کا کہتے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ہم مقدمہ کی قانونی حیثیت پر حکم دیں تو یہ فریقین کو متاثر کرے گا۔\n\nلطیف کھوسہ نے کہا کہ گھڑی واپس کرنی ہے یا نہیں، عدالت نے فیصلہ کرنا ہے۔\n\nچیف جسٹس نے واضح کیا کہ ہم اپیلیٹ کورٹ کا کردار ادا نہیں کریں گے اور ہمیں ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار کا خیال بھی رکھنا ہے۔\n\nاس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے پاس مکمل اختیارات ہیں۔\n\nعدالت نے بعد ازاں کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔\n\nعمران خان\n\nپاکستان سپریم کورٹ\n\nاڈیالہ جیل\n\nپی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد اپنی رپورٹ پیش کی۔\n\nقرۃ العین شیرازی\n\nجمعرات, فروری 12, 2026 - 11:15\n\nMain image:\n\n> <p>پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ایک کارکن، 21 ستمبر 2024 کو لاہور کے مضافات میں ایک عوامی جلسے میں شرکت کے دوران اپنے رہنما کی تصویر کے ساتھ دیکھی جا سکتی ہیں (عارف علی / اے ایف پی)</p>\n\nسیاست\n\njw id:\n\ndi2NJr4Q\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nوکیل سلمان عمران خان سے جیل میں مل کر رپورٹ دیں: سپریم کورٹ\n\nعمران خان کی صحت، اگر حالات خراب ہوئے تو ذمہ دار حکومت: سہیل آفریدی\n\nعمران خان کو علاج کے لیے گذشتہ ہفتے پمز لایا گیا: حکومت\n\nSEO Title:\n\nعمران خان کی آنکھ میں بلڈ کلاٹ، بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی: وکیل پی ٹی آئی\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "عمران خان کی آنکھ میں بلڈ کلاٹ، بینائی 15 فیصد رہ گئی: وکیل پی ٹی آئی"
}