{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreigq7cjvtm34kxoq6cc3u5dizymridrnxldomo7ydizimey7lfooza",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mepcfmwe7n22"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiahudint4tilka6w7jkfa7cwe24cfexbk63kfyjroamqfz7k67f44"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 122545
},
"path": "/node/184590",
"publishedAt": "2026-02-12T08:15:00.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"غزہ",
"صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
"امن",
"غزہ فورس",
"قرۃ العین شیرازی",
"پاکستان",
"news"
],
"textContent": "**ترجمان دفتر خارجہ نے جمعرات کو تصدیق کی ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف واشنگٹن میں ہونے والے ’بورڈ آف پیس‘ کے پہلے اجلاس میں شرکت کریں گے۔**\n\nبورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس 19 فروری کو واشنگٹن میں منعقد ہوگا جس کی میزبانی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے، یہ اجلاس یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں ہوگا۔\n\nامریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 22 جنوری کو ڈیووس میں ’بورڈ آف پیس‘ کا باضابطہ آغاز کیا تھا جس پر پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی دستخط کیے تھے۔\n\nپاکستان کے دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے جمعرات کو ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں تصدیق کی کہ وزیراعظم شہباز شریف ’بورڈ آف پیس‘ میں شرکت کریں گے اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی ان کے ہمراہ ہوں گے تاہم ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ وزیراعظم کب امریکہ روانہ ہوں گے۔\n\nترجمان نے کہا کہ وفد کے دیگر اراکین اور وزیر اعظم کی مصروفیات سے متعلق تفصیلات مناسب وقت پر جاری کی جائیں گی۔\n\nطاہر اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان نے ’بورڈ آف پیس‘ میں نیک نیتی کے ساتھ شمولیت اختیار کی ہے اور وہ تعمیری انداز میں اپنا کردار جاری رکھے گا۔\n\nانہوں نے کہا کہ پاکستان اس میں تنہا نہیں بلکہ آٹھ اسلامی اور عرب ممالک کی مشترکہ آواز کے طور پر اس فورم میں شریک ہے۔\n\nان کے بقول: ’غزہ اور مغربی کنارے کی صورت حال پر دو اہم مشترکہ بیانات بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔‘\n\n\n\n\nطاہر اندرابی نے کہا کہ اس فورم پر اجتماعی موقف موثر انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔\n\nانہوں نے کہا: ’پاکستان فلسطینی عوام کے حقوق، ترقی اور خوش حالی کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا اور ایک طویل المدتی حل کے لیے کوشش کرتا رہے گا جس کی بنیاد سال 1967 سے قبل کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہو جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔‘\n\nترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ’پاکستان کی شمولیت کا مقصد فلسطینی عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے قلیل، درمیانی اور طویل مدتی اقدامات کی حمایت کرنا ہے۔‘\n\nٹرمپ، جو خود اس بورڈ کی سربراہی کریں گے، نے درجنوں عالمی رہنماؤں کو شمولیت کی دعوت دی تھی۔ ٹرمپ کے مطابق یہ فورم غزہ میں سست روی کا شکار جنگ بندی سے آگے بڑھ کر دیگر عالمی مسائل سے بھی نمٹے گا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس کا مقصد اقوام متحدہ کی جگہ لینا نہیں۔\n\nاکتوبر 2025 میں طے پانے والی غزہ فائر بندی کئی ماہ سے مشکلات کا شکار ہے، کیونکہ اسرائیل اب بھی غزہ پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔\n\n**’بورڈ آف پیس‘ ہے کیا؟**\n\n’بورڈ آف پیس‘ کا ذکر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار ستمبر 2025 میں غزہ کی جنگ ختم کرنے کے منصوبے کے دوران کیا تھا۔ بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ یہ بورڈ صرف غزہ تک محدود نہیں ہو گا بلکہ یہ دنیا کے دوسرے تنازعات کو بھی حل کرنے کی کوشش کرے گا۔\n\nشروع میں سمجھا جا رہا تھا کہ یہ بورڈ اسرائیل کی غزہ جارحیت ختم کرنے اور تباہ حال علاقے کی از سر نو تعمیر کی نگرانی کے لیے ہو گا۔\n\nلیکن اس کے مجوزہ چارٹر میں غزہ کا ذکر نہیں اور ایسا لگتا ہے کہ یہ قوام متحدہ کے کچھ قوانین کی جگہ لینے کے لیے بنایا گیا ہے تاہم امریکہ کی طرف سے کہا گیا کہ اس مقصد اقوام متحدہ کی جگہ لینا نہیں۔\n\nبورڈ میں رکن ممالک کو تین سال کے لیے شامل کیا جائے گا، لیکن اگر کوئی ملک ایک ارب ڈالر دے تو وہ مستقل رکن بن سکتا ہے۔\n\nوائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، ٹرمپ کے خصوصی نمائندے سٹیو وٹکوف، برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بورڈ کی ابتدائی ایگزیکٹو ٹیم میں شامل ہیں۔\n\n**بورڈ کے اختیارات کیا ہوں گے؟**\n\nنومبر میں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے بورڈ آف پیس کو صرف غزہ کے لیے 2027 تک کی منظوری دی۔ روس اور چین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا اور کہا کہ امریکی قرارداد میں اقوام متحدہ کے کردار کو واضح نہیں کیا گیا۔\n\nقرارداد میں کہا گیا کہ بورڈ آف پیس کو ایک عبوری انتظامیہ کے طور پر خوش آمدید کہا جاتا ہے جو ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت غزہ کی تعمیر نو کے لیے فریم ورک بنائے گا اور فنڈنگ کو منظم کرے گا، جب تک کہ فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات مکمل نہ ہو جائیں۔\n\nاس قرارداد کے تحت بورڈ کو غزہ میں ایک عارضی بین الاقوامی سکیورٹی فورس بھیجنے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔\n\nبورڈ کو ہر چھ ماہ بعد 15 رکنی سکیورٹی کونسل کو اپنی پراگرس رپورٹ دینا ہوگی۔ غزہ کے علاوہ یہ واضح نہیں کہ بورڈ کے پاس کیا قانونی اختیار یا طاقت ہو گی، یا یہ اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی اداروں کے ساتھ کیسے کام کرے گا۔\n\nبورڈ کے منشور کے مطابق چیئرمین یعنی ڈونلڈ ٹرمپ کو وسیع اختیارات حاصل ہوں گے، جن میں فیصلوں کو روکنا اور ارکان کو ہٹانا شامل ہے تاہم وہ یہ اختیارات کچھ شرائط کے ساتھ استعمال کریں گے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\n**کتنے ممالک نے دعوت قبول کی؟**\n\nوائٹ ہاؤس کے ایک سینیئر اہلکار کے مطابق تقریباً 50 انوائٹس میں سے اب تک 35 عالمی رہنماؤں نے بورڈ میں شامل ہونے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔\n\nوزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایکس پر پاکستان کے بورڈ میں شامل ہونے کی وجہ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کے ذریعے پاکستان مستقل جنگ بندی، انسانی امداد، غزہ کی ری کنسٹرکشن اور ایک منصفانہ اور مقررہ مدت کے ساتھ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے، جس کا مقبوضہ بیت القدس الشریف ہو گا۔\n\n**کون سے ممالک نے انکار کیا؟**\n\nیورپی ممالک سمیت کچھ روایتی امریکی اتحادی بورڈ میں شامل ہونے سے گریزاں ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق مستقل ارکان کو ایک ارب ڈالر فی کس فنڈ دینا ہوگا، جس پر بعض ممالک نے محتاط ردعمل دیا یا دعوت مسترد کر دی۔\n\nناروے اور سویڈن نے ٹرمپ کی دعوت قبول نہیں کی جبکہ اٹلی نے کہا کہ اس بورڈ میں شامل ہونا مسئلہ پیدا کر سکتا ہے۔\n\nکینیڈا نے کہا ہے کہ وہ اصولی طور پر شامل ہونے پر متفق ہے، لیکن تفصیلات پر ابھی کام ہو رہا ہے۔\n\nامریکہ کے دوسرے اہم اتحادی ممالک جیسے برطانیہ، جرمنی اور جاپان نے اب تک کوئی واضح مؤقف نہیں دیا۔\n\nغزہ\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nامن\n\nغزہ فورس\n\nبورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس 19 فروری کو واشنگٹن میں منعقد ہوگا جس کی میزبانی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔\n\nقرۃ العین شیرازی\n\nجمعرات, فروری 12, 2026 - 13:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">دفتر خارجہ اسلام آباد کے بیرونی دروازے سے 21 فروری 2022 کو ایک گاڑی اندر داخل ہو رہی ہے (سہیل اختر/ انڈپینڈنٹ اردو)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nغزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا مطلب ابراہم معاہدے کا حصہ بننا نہیں: پاکستان\n\nپاکستان کی غزہ پیس بورڈ میں شمولیت: خدشات و امکانات\n\nرفح کراسنگ جزوی طور پر کھلنے کے بعد غزہ کے شہریوں کا ملاپ\n\nغزہ پر اسرائیلی حملوں میں بچوں سمیت 30 فلسطینی قتل\n\nSEO Title:\n\nشہباز شریف امریکہ میں ’بورڈ آف پیس‘ کے اجلاس میں شرکت کریں گے: دفتر خارجہ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "شہباز شریف امریکہ میں ’بورڈ آف پیس‘ کے اجلاس میں شرکت کریں گے"
}