{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreifn62euf3tm64bfdnqzmtypvlmssmd5exspyruq6aomfilaaslida",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3meml6ykb6u32"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreibds7x2moqsamvtv5we6wriskiknzyu63q2mqpcepj2i5xcjqocui"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 69677
},
"path": "/node/184580",
"publishedAt": "2026-02-11T14:59:03.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"بنگلہ دیش",
"انتخابات",
"بیگم خالدہ ضیاء",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"ایشیا",
"news"
],
"textContent": "**بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے چیئرمین طارق رحمان نے منگل کو ڈھاکہ میں کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ لوگ انہیں ووٹ دیں گے اور ان کی پارٹی انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرے گی۔**\n\nطارق رحمان تقریباً دو دہائیوں سے خودساختہ جلاوطنی کے بعد وطن واپس آئے ہیں، یہ انتخابات ایک ایسے نظام کی تبدیلی کے بعد ہو رہے ہیں جس نے برسوں تک ان کے حامیوں کے ووٹ کے حق کو محدود کیے رکھا۔\n\nانہوں نے ڈھاکہ میں عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’بی این پی ملک کی سب سے مقبول جماعت ہے۔ ہم گزشتہ 17 برسوں سے عوام کے ووٹ کے حق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہم عوام کی توقعات اور امنگوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔‘\n\nانہوں نے کہا’مجھے یقین ہے کہ لوگ ہمیں ووٹ دیں گے اور ان شااللہ ہم واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کریں گے۔‘\n\nطارق رحمان 2008 میں بنگلہ دیش چھوڑ کر لندن منتقل ہو گئے تھے۔ ان کے خلاف سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے دوران مختلف مقدمات قائم کیے گئے، جو بی این پی کی سخت ترین سیاسی مخالف سمجھی جاتی تھیں۔ شیخ حسینہ وسط 2024 تک اقتدار میں رہیں، تاہم بعد ازاں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی تحریک کے نتیجے میں ان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔\n\nطارق رحمان دسمبر کے اواخر میں بنگلہ دیش واپس لوٹے، جہاں ایئرپورٹ سے ڈھاکہ کے وسط تک ان کے استقبال کے لیے لاکھوں افراد سڑکوں پر موجود تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہی عوام انتخابات میں ان کی جماعت کی حمایت کریں گے۔\n\n60 سالہ طارق رحمان، بی این پی کے بانی ضیاء الرحمٰن کے صاحبزادے ہیں، جو 1971 کی جنگِ آزادی کے ہیرو تھے اور 1977 میں صدر بنے۔ 1981 میں ان کے قتل کے بعد طارق رحمان کی والدہ خالدہ ضیاء نے پارٹی کی قیادت سنبھالی اور 1991 میں ملک کی پہلی خاتون وزیرِاعظم بنیں۔\n\nطارق رحمان نے والدہ کے انتقال کے چند ہی دن بعد بنگلہ دیش واپسی پر فوراً بی این پی کی قیادت سنبھالی۔\n\nجمعرات کو ہونے والے انتخابات میں بی این پی کا مقابلہ مزید 50 جماعتوں سے ہو گا، جن میں بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی بھی شامل ہے، جس کے بارے میں اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ وہ نئی حکومت میں بڑی اپوزیشن جماعت بن کر ابھرے گی۔\n\nبنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے چیئرمین طارق رحمان 10 فروری 2026 کو ڈھاکہ میں عرب نیوز کے ایشیا بیورو چیف، بکر عطیانی سے گفتگو کرتے ہوئے (عرب نیوز)\n\n\n\n\nمعزول وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی قیادت میں عوامی لیگ کو انتخابی عمل میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے۔ یہ پابندی اگست 2024 میں ہونے والے پُرتشدد احتجاج کے بعد لگائی گئی، جس کے نتیجے میں عوامی لیگ اقتدار سے بے دخل ہو گئی تھی۔\n\nنوبیل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں قائم عبوری حکومت، جسے عام انتخابات کی تیاری کی ذمہ داری دی گئی ہے، نے قومی سلامتی اور پارٹی قیادت کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے عوامی لیگ کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی۔\n\nاقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کے مطابق سابق حکومت اور اس کے سیکیورٹی اداروں نے 15 جولائی سے 5 اگست 2024 کے دوران طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کو کچلنے کے لیے منظم انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کیں، جن میں اندازاً 1400 افراد ہلاک ہوئے۔\n\nطارق رحمان کا کہنا ہے کہ اگر وہ انتخابات جیتتے ہیں تو ان کی حکومت سابق قیادت کا احتساب کرے گی اور اس نوجوان تحریک کی سیاسی اور معاشی توقعات کو پورا کرے گی جس نے ملک میں تبدیلی کی راہ ہموار کی۔\n\nاپنے ابتدائی چھ ماہ کے ایجنڈے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کی اولین ترجیحات میں قانون کی بالادستی کی بحالی، جمہوری اصلاحات اور کاروبار دوست ماحول کا قیام شامل ہے۔\n\nانہوں نے کہا: ’ہمارے 180 روزہ پروگرام میں اہم شعبوں میں ترقیاتی منصوبے شامل ہیں، جن کے تحت ایک کروڑ افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا: ’ہم نجی شعبے کی ترقی کو تیز کریں گے، روزگار پر مبنی معاشی بحالی کو یقینی بنائیں گے اور بلیو اکانومی کو فروغ دیں گے۔ ہم آئی سی ٹی سیکٹر اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی میں جدت پر خصوصی توجہ دیں گے۔‘\n\nبین الاقوامی تعاون کے حوالے سے طارق رحمان نے کہا کہ ان کی ترجیح خلیجی تعاون کونسل کے ممالک، خصوصاً سعودی عرب، کے ساتھ شراکت داری ہو گی، جہاں 30 لاکھ سے زائد بنگلہ دیشی مقیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد کے دورِ حکومت میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات قائم ہوئے تھے، اور اگر وہ وزیرِاعظم بنے تو سعودی عرب ان کے ابتدائی دوروں میں شامل ہو گا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے کہا ’سب سے زیادہ بنگلہ دیشی محنت کش سعودی عرب میں کام کر رہے ہیں اور ان کی بھیجی گئی ترسیلات زر ہماری معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا ’میں سعودی وژن 2030 کا معترف ہوں اور سعودی عرب کی قیادت کے ساتھ کام کرنے کا خواہاں ہوں۔ میں یقیناً اپنے دورِ حکومت کے آغاز میں سعودی عرب کا دورہ کرنا چاہوں گا۔ ذاتی طور پر میری خواہش ہے کہ مسجد الحرام، مکہ مکرمہ جا کر عمرہ ادا کروں۔‘\n\nدیگر ممالک خصوصاً خطے کی طاقتوں پاکستان اور انڈیا کے ساتھ تعلقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ بی این پی حکومت کی خارجہ پالیسی قومی مفاد پر مبنی ہو گی، جو کسی ایک ملک تک محدود نہیں۔\n\nانہوں نے کہا ’ہم اپنے تمام غیر ملکی دوستوں، بالخصوص ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ ہم برابری، تعاون اور دوستی پر مبنی تعلقات قائم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ ان تعلقات کی بنیاد باہمی احترام اور افہام و تفہیم ہو گی، جو ہمارے مشترکہ ترقی کے ضامن ہوں گے۔‘\n\nبنگلہ دیش سے پاکستان کے تعلقات شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد بہتر ہوئے ہیں، جب کہ انڈیا کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی آئی ہے، جہاں شیخ حسینہ 2024 کے احتجاج کے بعد پناہ لینے میں کامیاب ہوئیں۔\n\nنومبر میں ڈھاکہ کی ایک خصوصی عدالت نے سابق وزیرِاعظم کو انسانیت کے خلاف جرائم میں مجرم قرار دیا، جس کے بعد بنگلہ دیش نے انڈیا سے ان کی حوالگی کی درخواست کی۔\n\nطارق رحمان نے کہا: ’ہم ملک میں انصاف قائم کرنا چاہتے ہیں۔ قانون سے کوئی بالاتر نہیں۔ جس نے بھی جرم کیا ہے اسے عدالت کا سامنا کرنا ہو گا۔ یہ کسی ایک سیاسی جماعت کا معاملہ نہیں بلکہ انصاف اور قانون کی حکمرانی کا سوال ہے۔‘\n\nشیخ حسینہ کے دورِ حکومت میں طارق رحمان کے خلاف بدعنوانی کے متعدد مقدمات قائم کیے گئے، جنہیں انہوں نے سیاسی بنیادوں پر قائم کردہ الزامات قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔\n\nانہوں نے کہا ’میرے خلاف بے شمار جھوٹے مقدمات درج کیے گئے اور ملک میں قانون و امن کی صورتحال بھی مستحکم نہیں تھی۔ ان تمام مشکلات کے باوجود، جیسا کہ میں نے اپنے ہم وطنوں سے وعدہ کیا تھا، میں تاریخی قومی انتخابات سے قبل اپنے پیارے بنگلہ دیش واپس آ گیا ہوں اور اب بے چینی سے آگے کا انتظار کر رہا ہوں۔‘\n\nبنگلہ دیش\n\nانتخابات\n\nبیگم خالدہ ضیاء\n\nطارق رحمان بی این پی کے بانی ضیا الرحمٰن کے صاحبزادے ہیں، جو 1971 کی جنگِ آزادی کے ہیرو تھے اور 1977 میں صدر بنے۔ 1981 میں ان کے قتل کے بعد طارق رحمان کی والدہ خالدہ ضیاء نے پارٹی کی قیادت سنبھالی اور 1991 میں ملک کی پہلی خاتون وزیرِاعظم بنیں۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nبدھ, فروری 11, 2026 - 20:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے چیئرمین طارق رحمان 10 فروری 2026 کو ڈھاکہ میں عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے (عرب نیوز)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nبنگلہ دیش میں انتخابی مہم کا اختتام، ووٹنگ 12 فروری کو\n\nبنگلہ دیش: انتخابات میں ’جنریشن زی کا کردار اہم‘\n\nبنگلہ دیش انتخابات کیسے خطے میں طاقت کا توازن بدل سکتے ہیں؟\n\nپاکستان، بنگلہ دیش اور آئی سی سی حکام کی لاہور میں ملاقات\n\nSEO Title:\n\n’لوگ ہمیں ووٹ دیں گے‘: بنگلہ دیش انتخابات میں فتح کے لیے طارق رحمان پُراعتماد\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "’لوگ ہمیں ووٹ دیں گے‘: بنگلہ دیش انتخابات میں فتح کے لیے طارق رحمان پُراعتماد"
}