{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreihfnjxovbx52ookznp2fzym4lo3dippi5rp3gtmgp7krjrchlndeu",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3meju2hdifa22"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreihbr65p4nxdtfl4xstprvqjhpxvnuakjch2ddjtpqolnp6fjpdfxy"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 188486
},
"path": "/node/184557",
"publishedAt": "2026-02-10T05:30:59.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"بنگلہ دیش",
"انتخابات",
"الیکشن",
"انتخابی مہم",
"سیاسی جلسے",
"جلوس",
"شیخ حسینہ",
"اے ایف پی",
"ایشیا",
"news"
],
"textContent": "**بنگلہ دیش کی انتخابی مہم پیر کی رات ختم ہو گئی ہے اور اب 12 فروری کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔**\n\nجھنڈا لہراتے دسیوں ہزار حامیوں نے وسیع پیمانے پر دارالحکومت ڈھاکہ میں یکے بعد دیگرے اپنی اپنی جماعت کی ریلیوں میں شرکت کی، کیونکہ سیاسی جماعتوں نے جمعرات کے انتخابات میں 17 کروڑ کے ملک کے لیے تبدیلی کے مسابقتی تصورات اور عوامی بغاوت کی معاملے کو بطور میراث کے استعمال کرنے کی کوشش کی۔\n\nبنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) جس کی قیادت طارق رحمٰن کر رہے ہیں، 17 سال کی جلاوطنی کے بعد دسمبر میں وطن واپس آئے تھے۔\n\nبی این پی کی کلیدی حریف جماعت اسلامی ہے، جس کی قیادت شفیق الرحمن کر رہے ہیں اور اس نے نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے ساتھ اتحاد کیا ہوا ہے، جسے طلبہ رہنماؤں نے تشکیل دیا تھا۔\n\nانہی طلبہ رہنماؤں نے گذشتہ سال سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف مہم کی قیادت کی تھی، جس کے بعد شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا تھا۔\n\nانتخابی مہم کے دوران وزارت عظمیٰ کے امیدوار طارق رحمٰن پراعتماد دکھائی دیے انہوں نے اپنے مرحوم والدین، ضیا الرحمن اور خالدہ ضیا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’بی این پی کے پاس اکیلے ملک چلانے کا منصوبہ ہے اور ایسا کرنے کا تجربہ ہے۔ (جو ان کے بقول) کسی اور پارٹی میں ایسا نہیں ہے۔‘\n\nبنگلہ دیش میں طارق ضیا کے نام سے مشہور 60 سالہ طارق رحمٰن نے اپنی والدہ خالدہ ضیا کے بعد بی این پی کی قیادت سنبھالی، جو دسمبر میں 80 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔\n\nسرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی مہم کے لیے اپنی اختتامی تقریر میں، انھوں نے ملک نے ان شہریوں کو بھی مخاطت کیا جو مسلمان نہیں ہیں، جن میں سے اکثریت ہندوؤں کی ہے۔\n\nبنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کا ایک حامی 9 فروری 2026 کو ڈھاکہ میں ملک کے عام انتخابات سے قبل انتخابی مہم کے آخری دن ایک ریلی کے دوران پارٹی چیئرمین اور انتخابی امیدوار طارق رحمٰن کی تقریر ریکارڈ کرنے کے لیے اپنا موبائل فون استعمال کر رہے ہیں (سجاد حسین/ اے ایف پی)\n\n\n\n\nانہوں نے کہا کہ ’بنگلہ دیش مسلمانوں، غیر مسلموں، اور میدانی اور پہاڑیوں دونوں کے لوگوں کی سرزمین ہے۔‘\n\nحسینہ واجد کو 15 سال اقتدار میں رہنے کے بعد 5 اگست 2024 کو بھر حکومت مخالف احتجاج کے بعد منصب چھوڑنا پڑا اور ان کی عوامی لیگ پارٹی پر عبوری حکومت نے انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی تھی، اس اقدام پر حقوق کے گروپوں نے تنقید بھی کی ہے۔\n\n78 سالہ حسینہ واجد کو نومبر میں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں موت کی سزا سنائی گئی تھی اور اب وہ انڈیا میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔\n\nجماعت اسلامی کے 67 سالہ سربراہ شفیق الرحمٰن، جو اخوان المسلمون کے ساتھ نظریاتی طور پر منسلک اسلامی جماعتوں کے اتحاد کی قیادت کر رہے ہیں، نے انتخابی مہم کے دوران بڑی ریلیوں سے خطاب کیا۔\n\n21 سالہ طالب علم عاشق الزمان شان نے کہا کہ ’اگر جماعت اقتدار میں آتی ہے تو بھتہ خوری اور تشدد میں کمی آئے گی۔ وہ انصاف قائم کریں گے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nجماعت کے سربراہ نے سابق حکمراں جماعت پر بڑے پیمانے پر جبر کا الزام عائد کیا، انہوں نے پیر کو سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک تقریر میں کہا، ’ہم سب کے ساتھ اتحاد کا ملک بنانا چاہتے ہیں۔ یہ ایک ایسا ملک ہوگا جہاں کسی کو بھی اپنے خاندانی پس منظر کی وجہ سے ڈرائیونگ سیٹ نہیں ملے گی۔‘\n\nجماعت کی اتحادی، این سی پی پارٹی کے رہنما ناہید اسلام نے بھی بڑی جماعتوں پر الزام لگایا ہے کہ وہ کئی دہائیوں سے ’بھتہ خوری اور جرائم کے کاروبار‘ کو خاموشی سے بانٹ رہی ہیں۔\n\nناہید اسلام نے خواتین حامیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر آپ مجھے منتخب کرتے ہیں تو میں اپنے آپ کو علاقے کی بہتری کے لیے وقف کر دوں گا۔‘\n\nانہوں نے حسینہ کے استعفیٰ کے دن کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ ’اگر ہم ہار گئے تو 5 اگست بھی ہاریں گے۔‘\n\nپیر کو انتخابی ریلیوں میں 58 سالہ توتا میا ایک رکشہ چلانے نے بھی شرکت کی اور کہا کہ ’میں نے سب کو دیکھا ہے اور اس بار میں جماعت کو ووٹ دوں گا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میں زیادہ کھاؤں یا کم کھاؤں، مجھے بس امن چاہیے۔‘\n\nبنگلہ دیش\n\nانتخابات\n\nالیکشن\n\nانتخابی مہم\n\nسیاسی جلسے\n\nجلوس\n\nشیخ حسینہ\n\nدسیوں ہزار افراد نے پیر کو دارالحکومت ڈھاکہ میں یکے بعد دیگرے اپنی جماعتوں کی ریلیوں میں شرکت کی۔\n\nاے ایف پی\n\nمنگل, فروری 10, 2026 - 10:30\n\nMain image:\n\n> <p>جماعت اسلامی کے حامی 12 فروری کو ملک کے عام انتخابات سے قبل 9 فروری 2026 کو ڈھاکہ میں انتخابی مہم کے آخری دن ایک ریلی میں شریک ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nبنگلہ دیش: انتخابات میں ’جنریشن زی کا کردار اہم‘\n\nبنگلہ دیش انتخابات کیسے خطے میں طاقت کا توازن بدل سکتے ہیں؟\n\n’اہم سنگ میل‘: 14 برس بعد بنگلہ دیشی قومی ایئرلائن کی پہلی پرواز کراچی پہنچی\n\nبنگلہ دیش کے انتخابات جمہوریت کا امتحان\n\nSEO Title:\n\nبنگلہ دیش میں انتخابی مہم کا اختتام، ووٹنگ 12 فروری کو\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "بنگلہ دیش میں انتخابی مہم کا اختتام، ووٹنگ 12 فروری کو"
}