{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiak3iwcvdf5vz65lq4hjn4vrqnloe2tcpguyzb7ksadkwfvokcvfq",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3meju2arjild2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreie7rlewvb4c6z6f4csxpubwudxur7hqmsjszn3d2ytpfwwuu3fxcu"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 75581
  },
  "path": "/node/184558",
  "publishedAt": "2026-02-10T05:32:21.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "بنگلہ دیش",
    "عام انتخابات",
    "2026",
    "انڈیا",
    "پاکستان",
    "چین",
    "ہارون رشید",
    "ایشیا",
    "video"
  ],
  "textContent": "**بنگلہ دیش میں 12 فروری کے عام انتخابات کے لیے الیکشن مہم تو ختم ہو گئی لیکن اس دوران پاکستان یا انڈیا کا ذکر کوئی زیادہ نہیں ہوا۔ مبصرین کے مطابق سیاسی جماعتوں نے خارجہ پالیسی سے زیادہ ملک کے اندرونی مسائل پر توجہ مرکوز رکھی۔**\n\nزبیر احمد بنگلہ دیش کے سینیئر صحافی ہیں، انہوں نے انتخابی مہم سے متعلق انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ مہم کے آغاز سے قبل اور شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد عبوری حکومت نے بار بار انڈیا سے سرکاری سطح پر ان (شیخ حسینہ) کی واپسی کا مطالبہ کیا تاکہ وہ جاری عدالتی کارروائی میں شریک ہو سکیں۔ اس مقصد کے لیے دونوں ممالک کے درمیان ملزمان کے تبادلے کے کئی معاہدے بھی موجود ہیں۔\n\n’اس (معاملے) اور دیگر موضوعات پر حکومتی سطح پر دونوں کے درمیان بات چیت تو چل رہی ہے اور ہمیں اندر کی بات نہیں معلوم لیکن دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی موجود ہے۔‘\n\nنئی دہلی اور ڈھاکہ کے درمیان حسینہ واجد کی معزولی کے بعد سے باقاعدگی سے کشیدگی اور لفظی جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔\n\nدسمبر میں بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے خلاف پرتشدد واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے اس کی مذمت کی اور اسے ’اقلیتوں کے خلاف مسلسل دشمنی‘ قرار دیا تھا۔ پولیس کے مطابق 2025 میں فرقہ وارانہ تشدد کے دوران بنگلہ دیش کی اقلیتی برادریوں کے تقریباً 70 افراد مارے گئے تھے۔\n\nڈھاکہ نے انڈیا پر تشدد کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔\n\nزبیر احمد نے یاد دلایا کہ شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش میں اقلیتوں پر حملے بھی ہوئے ہیں۔ ’اس معاملے کو ناصرف بنگلہ دیش بلکہ انڈیا کے میڈیا نے بھی خوب کوریج دی ہے۔ انڈیا کی سیاسی جماعتوں نے بھی اس کے خلاف مظاہرے کیے، اس وقت سے دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی ہے۔‘\n\nبنگلہ دیش میں ان اہم انتخابات کے شیڈول کے اعلان سے قبل پاکستان کی حد تک تعلقات میں کافی بہتری آئی ہے۔ زبیر احمد کہتے ہیں کہ عبوری حکومت کے آنے کے بعد پاکستان کے ساتھ رابطے زیادہ ہوئے ہیں، براہ راست فضائی سروس بحال ہوئی ہے، دورے بھی بہت ہوئے ہیں فوج اور سیاسی اور سرکاری سطح پر تبادلے زیادہ، ماضی سے رابطے زیادہ ہیں۔\n\n2024 میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے فوجی اور سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے محمد یونس سے دو بار ملاقات کی۔ گذشتہ سال ستمبر میں پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ڈھاکہ کا دورہ کیا۔\n\nتجزیہ کاروں کے مطابق ڈاکٹر محمد یونس کی عبوری حکومت پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔\n\nزبیر کا کہنا تھا کہ اس تعلقات میں بہتری پر انڈین میڈیا میں بہت بات ہو رہی ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\n’لیکن میرا جو مشاہدہ ہے بنگلہ دیش میں سیاسی جماعتیں اور سیاسی رہنما انتخابی مہم سے قبل اس پر بہت بات کر رہے تھے لیکن مہم کے آغاز کے بعد پاکستان کے حق میں یا خلاف یا انڈیا کے حق میں اور خلاف کوئی زیادہ بات نہیں ہوئی ہے۔ کرکٹ اور دیگر مسائل پر تو بات ہو رہی ہے لیکن ان ممالک اور علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات پر زیادہ بات نہیں ہوئی ہے۔‘\n\nکہا جا رہا ہے کہ بنگلہ دیشی انتخابات جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن پر کافی اثر انداز ہوں گے۔ ایک طرف پاکستان اور انڈیا تو دوسری جانب چین بھی یہاں کافی دلچسپی رکھتا ہے۔\n\nلیکن دونوں ممالک کے درمیان حالات اس وقت بگڑ گئے جب ہندو دائیں بازو کے احتجاج کے بعد ایک بنگلہ دیشی کرکٹر کو انڈین پریمیئر لیگ سے نکال دیا گیا، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش نے انڈیا میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے دستبرداری اختیار کر لی۔\n\nانٹرنیشنل کرائسز گروپ کے پروین دونتھی نے اے ایف پی کو بتایا کہ نئی حکومت غالباً اسلام آباد کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کا عمل جاری رکھے گی، جبکہ نئی دہلی کے ساتھ روابط کو بھی نقصان نہیں پہنچنے دے گی۔\n\nدونتھی نے کہا، ’نیا انتظام غالباً انتشار کے بجائے استحکام کو ترجیح دے گا۔‘\n\nریٹائرڈ سفارت کار ہمایوں کبیر نے پیش گوئی کی کہ منتخب حکومت خاص طور پر اگر بی این پی کامیاب ہوتی ہے تو انڈیا کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم ہو سکتے ہیں۔\n\nانہوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی، جو کبھی انڈیا کے ساتھ شدید اختلافات رکھتی تھی، اپنی مہم میں ’عملی حقیقت پسندی کی ایک قسم‘ کا مظاہرہ کیا ہے۔\n\nانتخابی مہم کے بعد اب تمام نظریں 12 فروری کے انتخابات کے نتائج پر ہوں گے۔ علاقائی ممالک اس کو غور سے دیکھ رہے ہیں۔\n\nبنگلہ دیش\n\nعام انتخابات\n\n2026\n\nانڈیا\n\nپاکستان\n\nچین\n\nبنگلہ دیش کے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار زبیر احمد کہتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں نے انتخابی مہم کے دوران پاکستان اور انڈیا کے بارے میں محتاط رویہ اپنائے رکھا۔\n\nہارون رشید\n\nمنگل, فروری 10, 2026 - 10:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">بنگلہ دیش کے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار زبیر احمد کہتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں نے انتخابی مہم کے دوران پاکستان اور انڈیا کے بارے میں محتاط رویہ اپنائے رکھا (انڈپینڈنٹ اردو)</p>\n\nایشیا\n\njw id:\n\ndcXhhsY2\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nبنگلہ دیش میں انتخابی مہم کا اختتام، ووٹنگ 12 فروری کو\n\nبنگلہ دیش: انتخابات میں ’جنریشن زی کا کردار اہم‘\n\nبنگلہ دیش انتخابات کیسے خطے میں طاقت کا توازن بدل سکتے ہیں؟\n\nبنگلہ دیش کے انتخابات جمہوریت کا امتحان\n\nSEO Title:\n\nبنگلہ دیش کی انتخابی مہم میں پاکستان، انڈیا کا ذکر کیوں نہیں؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "بنگلہ دیش کی انتخابی مہم میں پاکستان، انڈیا کا ذکر کیوں نہیں؟"
}