{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreidjcxagzqkmyvbel4n52xzmciom5afd2m43h5bwltcdpx43xpy7i4",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mejtzqe44fr2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreihvtbsmsh5hi3a2a32h3ea3dlfivjjupusfkpma5krwet4daqzsjq"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 93303
},
"path": "/node/184563",
"publishedAt": "2026-02-10T08:09:12.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"بسنت",
"سلام آباد کے نواح میں خودکش حملے",
"س حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی",
"داعش خراسان",
"بسنت",
"خودکش دھماکہ",
"عاصمہ شیرازی",
"نقطۂ نظر",
"news"
],
"textContent": "**سہمی ہوئی خوشیاں اور رنجیدہ رنگ ہمارے آنگن کا ہی حصہ کیوں ہیں۔ ہم آنسوؤں بھری آنکھوں کے ساتھ مسکراتے چہرے دکھاتے دکھاتے تھک رہے ہیں۔ ہمارے وجود اپنے ہی بوجھ تلے دب رہے ہیں۔ کیوں کیا خوشیوں پر ہمارا حق نہیں اور کیوں خوف کے سائے میں ہم قہقہے لگانے پر مجبور ہیں۔**\n\nدو دہائیوں کے بعد بسنت پنجاب میں لوٹ رہی تھی۔ ڈھول کی تھاپ پر پنجاب قدیم تہوار کو جوش سے خوش آمدید کہنے کو بے تاب تھا۔ بسنت بہار کا پہلا تعارف اور خنکی کی رخصتی کی علامت۔ ایک طویل عرصے کے بعد پنجاب بلا خوف رقصاں تھا، پتنگیں آسمانوں کو چھونے کے لئے بے تاب اور بو کاٹا کی صدائیں عالم میں گونجنے کو بے چین۔۔۔ مگر خوشیوں کی یہ پتنگ کٹ گئی۔ جشن ماتم میں اور قہقہے سسکیوں میں بدل گئے۔ اسلام آباد کے نواح میں خودکش حملے نے خوشیوں کو غم میں تبدیل کر دیا۔\n\nمارے جانے والے مسلمان تھے، نفرت اور انتہا پسندی ان کے اعتقاد کی بنیاد پر انہیں نشانہ بنا رہی تھی اور رٹے ہوئے جملے دہرائے جا رہے تھے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں۔ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں درست، لیکن دہشت گردوں کا مذہب تو ضرور ہے جو فرقہ واریت اور نفرت کی بنیاد پر نشانہ بناتے ہیں۔ انکار کی اس کیفیت سے نکلیں گے تو ادراک کی منزل تک پہنچیں گے۔\n\nاس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی۔ پریشان کُن یہ کہ دہشت گرد کی والدہ اسلام آباد کے ایک پوش علاقے میں رہائش پذیر اور خودکش حملہ آور سے مسلسل رابطے میں تھی۔ اس سے جڑی مزید اطلاعات نے سراسیمگی کے ساتھ تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔\n\nداعش کی وفاقی دارالحکومت میں موجودگی اور بظاہر ایک بڑی حکمت عملی میں کامیابی نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اسلام آباد میں داعش کا حملہ ایک خطرناک صورت حال کی جانب اشارہ کر رہا ہے۔ یہ نکتہ اہم ہے کہ حملہ آور جس کا تعلق خیبر پختونخوا سے تھا پانچ بار افغانستان سے تربیت لے کر واپس آ چکا تھا۔ اس حملے نے سکیورٹی سے متعلق کئی ایک سوالات کو جنم دیا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nخودکش بمبار کی بلا روک ٹوک نقل وحرکت اور اسلام آباد میں ہدف یعنی امام بارگاہ تک رسائی اور حملہ سیکورٹی کی ناکامی نہیں تو اور کیا ہے؟ نیٹ ورک سے وابستہ گروہ کے ہینڈلرز کی گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ دارلحکومت میں منظم گروہ موجود ہے جس کے شواہد اب سلامتی کے اداروں کے پاس ہیں۔\n\nاہم بات یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں تحریک طالبان (خوارج) کے ساتھ ساتھ داعش کا خطرہ کس حد تک بڑھ سکتا ہے جو سکیورٹی اداروں، اقلیتوں اور شیعہ کمیونٹی کو ٹارگٹ کر سکتا ہے؟\n\nیہ خطرہ پاکستان سمیت افغانستان اور اس پورے خطے کو لاحق ہے۔ اسلامک سٹیٹ داعش کی یہ شاخ جنوری 2015 میں وجود میں آئی جب تحریک طالبان کے سابقہ حافظ سعید خان کو بغدادی نے اپنا امیر مقرر کیا۔\n\n2016 کی امریکی ادارے برائے امن یو ایس آئی پی کی تحقیق کے مطابق خراسان چیپٹر میں زیادہ تر تحریک طالبان کے وہ راہنما شامل تھے جو سابقہ فاٹا پر سے اثرورسوخ کھو دینے کے بعد مایوس تھے۔\n\nامریکی رائل یونائیٹڈ انسٹیٹیوٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق 16-2015 میں افغانستان میں داعش کے سات سے آٹھ ہزار جبکہ پاکستان میں دو سے تین ہزار جنگجو موجود ہیں۔ ظاہر ہے اب تک یہ تعداد کئی گنا بڑھ چکی ہو گی۔\n\nدلچسپ بات یہ ہے کہ ان گروہوں کو سیاسی بیانیہ بھی ملتا ہے اور فکری پرورش بھی، نفرت کی ترویج کا موقع بھی دستیاب ہے اور انتہا پسندی کی تشہیر بھی۔ سوال یہ بھی ہے کہ ریاست ایسے گروہوں اور تنظیموں کے خلاف کارروائی سے ہچکچاتی کیوں ہے؟ ایک طرف ایمان مزاری جیسے انسانی حقوق کے نمائندوں کو سنگین سزائیں دی جا رہی ہیں تو دوسری جانب نفرت کے یہ سوداگر کھلے عام ریاست کو چیلنج کر رہے ہیں۔\n\nملک میں کئی فالٹ لائنز ایک ہی وقت میں متحرک ہیں ایسے میں انتہاپسندی کی یہ دراڑ وہ آتش فشاں ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔\n\nریاست ایسے تمام گروہوں کے خلاف سخت کاروائی کرے ورنہ مذہبی انتہا پسندی کی آگ ایک مرتبہ پھر دروازے پر دستک دے رہی ہے۔\n\n_نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کو متفق ہونا ضروری نہیں۔_\n\nداعش خراسان\n\nبسنت\n\nخودکش دھماکہ\n\nداعش کی وفاقی دارالحکومت میں موجودگی اور بظاہر ایک بڑی حکمت عملی میں کامیابی نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور سکیورٹی سے متعلق کئی ایک سوالات کو جنم دیا ہے۔\n\nعاصمہ شیرازی\n\nمنگل, فروری 10, 2026 - 13:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">چھ فروری 2026 کو اسلام آباد کے نواحی علاقے میں ہونے والے دھماکے میں جان سے جانے والوں کے لواحقین (اے ایف پی)</p>\n\nنقطۂ نظر\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nاسلام آباد مسجد حملے میں 31 اموات، حملہ آور کی شناخت کر لی: طلال چوہدری\n\nاسلام آباد دھماکہ: ذمہ داری داعش خراسان نے قبول کرلی، جان سے جانے والوں کی نماز جنازہ ادا\n\nترلائی مسجد حملے میں بچوں کا قتل ناقابل قبول: یونیسف\n\nترلائی مسجد حملے کا ماسٹر مائنڈ اور چار سہولت کار پکڑے گئے: محسن نقوی\n\nSEO Title:\n\nداعش اسلام آباد تک کیسے پہنچ گئی؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "داعش اسلام آباد تک کیسے پہنچ گئی؟"
}