{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreibd6cdcbiecdieihnxkseurjkxltrko5bl5duo7idnzpg5sy3vhy4",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3megip2i7xde2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreib7vpc5op3oma4ygyiw3wp2eiunofugw5otnzqtezjy47xvdx3ncq"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 145396
  },
  "path": "/node/184550",
  "publishedAt": "2026-02-09T11:41:35.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "بنگلہ دیش",
    "شیخ حسینہ",
    "View this post on Instagram",
    "A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)",
    "بنگلہ دیش",
    "بیگم خالدہ ضیاء",
    "شیخ حسینہ",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "دنیا",
    "video"
  ],
  "textContent": "**بنگلہ دیشمیں آئندہ عام انتخابات کو دنیا کا پہلا ’جین زی سے متاثر‘ انتخاب قرار دیا جا رہا ہے جہاں نوجوان ووٹرز کا کردار فیصلہ کن سمجھا جا رہا ہے۔ یہ ووٹ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی عوامی لیگ اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد پابندی کا سامنا کر رہی ہے اور ملکی سیاست ایک بالکل نئے موڑ پر کھڑی ہے۔**\n\nاے ایف پی کے مطابق، کئی برس تک شیخ حسینہ کے دور حکومت میں اپوزیشن جماعتیں انتخابی عمل کے دوران یا تو بائیکاٹ کرتی رہیں یا پھر ان کے رہنماؤں کو بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کا سامنا رہا۔ تاہم اب منظرنامہ بدل چکا ہے۔ 2024 کی عوامی بغاوت کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد بہت سے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ 2009 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب بنگلہ دیش میں حقیقی معنوں میں مسابقتی انتخابات ہو رہے ہیں۔\n\nشیخ حسینہ کی 15 سالہ حکمرانی کے اختتام کے بعد ان کی جماعت عوامی لیگ انتخابی سیاست سے باہر ہے جبکہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کو عام انتخابات میں سب سے مضبوط امیدوار تصور کیا جا رہا ہے۔ تاہم جماعت اسلامی کی قیادت میں بننے والا اتحاد بھی سخت مقابلہ دے رہا ہے۔ اسی اتحاد کے ساتھ ایک نئی سیاسی جماعت بھی منسلک ہے جسے 30 سال سے کم عمر جن زیڈ کارکنان چلا رہے ہیں۔ یہ جماعت اگرچہ حسینہ مخالف عوامی تحریک میں پیش پیش رہی تھی لیکن وہ اس عوامی طاقت کو انتخابی بنیاد میں تبدیل کرنے میں ناکام رہی۔\n\nدوسری جانب بی این پی کے سربراہ طارق رحمان نے روئٹرز سے گفتگو میں کہا کہ ان کی جماعت پارلیمان کی 300 نشستوں میں سے 292 پر مقابلہ کر رہی ہے اور انہیں حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل ہونے کا پورا یقین ہے۔\n\nسیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق 12 فروری کو ہونے والے انتخابات میں واضح نتیجہ سامنے آنا بے حد ضروری ہے کیونکہ شیخ حسینہ کی برطرفی کے بعد مہینوں تک جاری رہنے والے عدم استحکام نے 17 کروڑ 50 لاکھ آبادی والے ملک میں شدید بے چینی پیدا کی ہے۔ اس سیاسی بحران کے اثرات گارمنٹس سمیت اہم صنعتوں پر بھی پڑے ہیں جو دنیا میں کپڑوں کی برآمد کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nماہرین کا کہنا ہے کہ اس انتخابی نتیجے کے اثرات صرف داخلی سیاست تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خطے کی دو بڑی طاقتوں چین اور انڈیا کے کردار پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ شیخ حسینہ کو انڈیا نواز سمجھا جاتا تھا اور اقتدار سے ہٹنے کے بعد وہ نئی دہلی چلی گئی تھیں جہاں وہ اب بھی مقیم ہیں۔ ان کے جانے کے بعد بنگلہ دیش میں چین کا اثر و رسوخ بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے جبکہ انڈیا کا کردار نسبتاً کمزور ہو رہا ہے۔\n\nڈھاکہ کے سینٹر فار گورننس سٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پرویز کریم عباسی کے مطابق، رائے عامہ کے جائزے بی این پی کو برتری دیتے دکھائی دیتے ہیں لیکن ووٹروں کی ایک بڑی تعداد اب بھی غیر یقینی کیفیت میں ہے۔ ان کے مطابق ’جنریشن زی‘ جو کل ووٹرز کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ہے، اس انتخاب میں انتہائی اہم کردار ادا کرے گی۔\n\nپورے بنگلہ دیش میں بی این پی کے ’دھان کے خوشے‘ اور جماعت اسلامی کے ’ترازو‘ کے انتخابی نشانات سیاہ و سفید پوسٹروں اور بینرز کی صورت میں سڑکوں، درختوں اور بجلی کے کھمبوں پر آویزاں نظر آ رہے ہیں۔ یہ منظر ماضی کے انتخابات سے بالکل مختلف ہے جہاں عوامی لیگ کا ’کشتی‘ کا نشان ہر جگہ غالب ہوا کرتا تھا۔\n\n> \n>\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\nسیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک جماعت اسلامی کی زیر قیادت حکومت بننے کی صورت میں بنگلہ دیش کا جھکاؤ پاکستان کی جانب بڑھ سکتا ہے جو انڈیا کا دیرینہ حریف اور ایک مسلم اکثریتی ملک ہے۔ جماعت اسلامی کی جن زیڈ اتحادی جماعت بھی نئی دہلی کی ’بالادستی‘ کو اپنے اہم خدشات میں شمار کرتی ہے اور اس کے رہنماؤں کی حالیہ ملاقاتیں چینی سفارتکاروں سے ہو چکی ہیں۔ تاہم جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ وہ کسی ایک ملک کی جانب جھکاؤ کی حامی نہیں اور اسلامی اصولوں پر مبنی معاشرے کی بات کرتی ہے۔\n\nدوسری جانب بی این پی کے طارق رحمان کا کہنا ہے کہ اگر ان کی جماعت حکومت بناتی ہے تو وہ ہر اس ملک کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرے گی جو بنگلہ دیش اور اس کے عوام کے مفاد میں ہو۔\n\nاقتصادی محاذ پر بنگلہ دیش شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بلند افراط زر، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور سرمایہ کاری کی رفتار میں سست روی نے ملک کو 2022 سے اب تک بین الاقوامی مالیاتی اداروں، بشمول آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک، سے اربوں ڈالر کی مالی معاونت حاصل کرنے پر مجبور کیا ہے۔\n\nایک حالیہ سروے کے مطابق، 12 کروڑ 80 لاکھ ووٹرز کے لیے بدعنوانی سب سے بڑا مسئلہ ہے جبکہ مہنگائی دوسرے نمبر پر آتی ہے۔ ماہرین کے مطابق جماعت اسلامی کی نسبتاً صاف شبیہ اس کے حق میں ایک اہم عنصر ہے اور ووٹرز مذہبی نعروں کے بجائے شفافیت، اہلیت اور جوابدہی کو ترجیح دے رہے ہیں۔\n\nاگرچہ طارق رحمان کو آئندہ وزیر اعظم کے مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اگر جماعت اسلامی کی قیادت میں اتحاد سبقت لے جاتا ہے تو اس کے سربراہ شفیق الرحمن اس عہدے کے لیے سامنے آ سکتے ہیں۔\n\nڈھاکہ کے 21 سالہ نوجوان ووٹر محمد راقب، جو پہلی بار ووٹ ڈالنے جا رہے ہیں، کہتے ہیں کہ انہیں امید ہے آئندہ حکومت اظہار رائے اور آزادانہ ووٹنگ کے حق کو یقینی بنائے گی۔ ان کے بقول ’لوگ عوامی لیگ سے تنگ آ چکے تھے۔ قومی انتخابات میں ووٹ ڈالنا بھی ممکن نہیں رہا تھا۔ ہمیں امید ہے کہ جو بھی حکومت آئے گی، وہ ہمیں اپنی آواز بلند کرنے کی آزادی دے گی‘۔\n\nبنگلہ دیش\n\nبیگم خالدہ ضیاء\n\nشیخ حسینہ\n\nسیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ’جنریشن زی‘ جو بنگلہ دیش میں کل ووٹروں کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ہے، انتخابات میں انتہائی اہم کردار ادا کرے گی۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nسوموار, فروری 9, 2026 - 16:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">نو فروری 2026 کو ڈھاکہ میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے حامی طارق رحمان کے پوسٹر اٹھائے ہوئے (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\njw id:\n\nCWgYczPk\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nبنگلہ دیش انتخابات کیسے خطے میں طاقت کا توازن بدل سکتے ہیں؟\n\nبنگلہ دیش کے انتخابات جمہوریت کا امتحان\n\nبنگلہ دیش: جماعت اسلامی کی حمایت میں اضافہ، اعتدال پسند حلقوں میں تشویش\n\nSEO Title:\n\nبنگلہ دیش: انتخابات میں ’جنریشن زی کا کردار اہم‘\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "بنگلہ دیش: انتخابات میں ’جنریشن زی کا کردار اہم‘"
}