{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiftjna6khclajgnvxjipwpek7ykntz6fovlpifeb24nvavmvsdebe",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mefnjviizur2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiczu7jyys76sijmprgibplgi6udilksrlp7u7dmnftvif25rroiue"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 61847
},
"path": "/node/184539",
"publishedAt": "2026-02-09T03:27:04.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"وزیر خزانہ",
"پاکستان سعودی عرب تعلقات",
"سعودی عرب",
"پاکستانی معیشت",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"معیشت",
"news"
],
"textContent": "**پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سعودی عرب کو ’دیرینہ شراکت دار‘ قرار دیتے ہوئے خاص طور پر کلیدی اقتصادی شعبوں میں پائیدار اور باہمی طور پر مفید تعاون کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری کا فعال سلسلہ موجود ہے۔**\n\nابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے ہونے والی العلا کانفرنس کے موقعے پر اتوار کو عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اورنگزیب نے کہا کہ عالمی سیاسی جغرافیائی کشیدگی کے باوجود پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مضبوط ہیں۔\n\n’مملکت طویل عرصے سے پاکستان کی دیرینہ شراکت دار رہی ہے، اور ہم اس بات کے لیے بہت شکر گزار ہیں کہ ہر مشکل وقت اور کٹھن حالات میں ہماری حمایت کی گئی، اور اب جب کہ ہم نے معاشی استحکام حاصل کر لیا ہے، میرے خیال میں ہم ترقی کی بہتر پوزیشن میں ہیں۔‘\n\nپاکستانی وزیر خزانہ اورنگزیب نے کہا کہ اس شراکت داری نے معدنیات اور کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت اور سیاحت سمیت کئی شعبوں میں سرمایہ کاری کی راہیں ہموار کی ہیں۔ انہوں نے سعودی سرمایہ کاری کے ایک فعال سلسلے کا حوالہ دیا، جس میں پاکستان کے ڈاون سٹریم آئل اینڈ گیس سیکٹر میں سعودی توانائی کمپنی وافی کی آمد شامل ہے۔\n\nان کا کہنا تھا کہ ’مملکت نے ملک میں اپنی دلچسپی کا کھلا اظہار کیا ہے، اور یہ شعبے معدنیات اور کان کنی، آئی ٹی، زراعت اور سیاحت ہیں۔ یہاں پہلے ہی سرمایہ کاری آ چکی ہے۔ مثال کے طور پر، وافی (ڈاون سٹریم آئل اور گیس سٹیشنز کے حوالے سے) آ چکی ہے۔ سرمایہ کاری کا بہت فعال سلسلہ موجود ہے۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ نجی شعبے کی سرگرمیاں ان شعبوں میں ترقی کا باعث بن رہی ہیں، جبکہ حکومت کی سطح پر تعاون کا مرکز بنیادی طور پر بنیادی ڈھانچے کی ترقی ہے۔\n\nبیوروکریسی اور تاخیر سے متعلق سرمایہ کاروں کے دیرینہ تحفظات کو تسلیم کرتے ہوئے، اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان نے گذشتہ دو برسوں میں کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کے ذریعے پیش رفت کی ہے۔\n\nپاکستان کے وزیر خزانہ کے بقول: ’گذشتہ دو سال میں ہم نے ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر بہت محنت کی ہے، جسے میں ’بنیادی معاملات کی درستی‘ کہتا ہوں، چاہے وہ مالیاتی صورت حال ہو یا موجودہ معاشی صورتحال۔ ان تمام شعبوں میں بنیادی معاملات کو درست سمت میں لانے کے لیے کام کیا گیا ہے۔‘\n\nانہوں نے کان کنی اور تیل کی صفائی کو تعاون کے کلیدی شعبوں کے طور پر اجاگر کیا، جس میں ریکوڈک منصوبے پر بات چیت بھی شامل ہے، تاہم انہوں نے زور دیا کہ سعودی سرمایہ کاروں کے ساتھ بات چیت انفرادی منصوبوں سے آگے کی بات ہے۔\n\n’میرے نقطہ نظر سے، یہ صرف ایک کان کی بات نہیں ہے۔ سعودی سرمایہ کاروں کے ساتھ ان میں سے کئی شعبوں پر بات چیت جاری رہے گی۔‘\n\nانہوں نے آئی ٹی کے شعبے، خاص طور پر مصنوعی ذہانت میں بڑھتے ہوئے تعاون کی طرف بھی اشارہ کیا اور بتایا کہ کئی پاکستانی ٹیک کمپنیاں پہلے ہی اپنے سعودی ہم منصبوں کے ساتھ بات چیت کر رہی ہیں یا مملکت میں اپنے دفاتر قائم کر چکی ہیں۔\n\nسعودی وزیر برائے معیشت و منصوبہ بندی فیصل الابراہیم کے ساتھ حالیہ مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے، اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی بڑی فری لانس ورک فورس گہرے تعاون کے مواقع فراہم کرتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ ہنر مندی کا فروغ طلب کے مطابق ہو۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے مزید کہا کہ ’میں ابھی (سعودی) وزیر معیشت اور منصوبہ بندی کے ساتھ تھا، اور وہ خاص طور پر پاکستانی ٹیک ٹیلنٹ کا حوالہ دے رہے تھے، اور وہ بالکل درست کہہ رہے ہیں۔ ہمارے پاس دنیا کی تیسری بڑی فری لانس آبادی ہے، اور ہمیں یہ یقینی بنانا ہے کہ ہم ان کی صلاحیتوں میں اضافہ کریں، انہیں نئی مہارتیں سکھائیں اور انہیں اپ گریڈ کریں۔‘\n\nپاکستانی وزیر خزانہ نے توانائی کے شعبے میں سعودی عرب کے تجربے سے فائدہ اٹھانے کے مواقع کا بھی ذکر کیا اور دفاعی پیداوار میں جاری تعاون کی طرف اشارہ کیا۔\n\nمستقبل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مقصد سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو امداد پر انحصار کے بجائے تجارت اور سرمایہ کاری کی طرف موڑنا ہے۔\n\n’ہمارے وزیر اعظم بالکل واضح کر چکے ہیں کہ ہم مستقبل میں اس پوری بحث کو امداد اور تعاون سے نکال کر تجارت اور سرمایہ کاری کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔‘\n\nوزیر خزانہ\n\nپاکستان سعودی عرب تعلقات\n\nسعودی عرب\n\nپاکستانی معیشت\n\nپاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ صرف کان کنی نہیں بلکہ سعودی سرمایہ کاروں کے ساتھ کئی شعبوں میں بات چیت جاری رہے گی۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nسوموار, فروری 9, 2026 - 08:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب 13 جون 2024 کو وفاقی بجٹ پیش کرنے کے بعد ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے (فائل فوٹو/ اے ایف پی)</p>\n\nمعیشت\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nپاکستان سعودی عرب، معدنیات میں سرمایہ کاری کے مواقع کی تلاش پر اتفاق\n\nپاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدہ خطے میں استحکام کا ضامن\n\nفارمنگ: پاکستان سعودی عرب اور دیگر سے چھ ارب ڈالر کا خواہاں\n\nپاکستان سعودی عرب تعلقات: اتنے اہم کہ ناکام نہیں ہو سکتے\n\nSEO Title:\n\nپاکستان میں سعودی سرمایہ کاری کا سلسلہ فعال ہے: وزیر خزانہ اورنگزیب\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری کا سلسلہ فعال ہے: وزیر خزانہ اورنگزیب"
}