{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreidtovevyydfabajd23h3ey6syoqt6edpwj5fogcdghxbkjz3hnewm",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mef7l45mbt32"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreibw5zahudlbqgjdyo6gftapfcmtaol3hzor7c2x7kugvtewxxeaby"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 64742
},
"path": "/node/184532",
"publishedAt": "2026-02-08T11:30:01.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"ایران",
"امریکہ",
"جوہری مذاکرات",
"کشیدگی",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"دنیا",
"video"
],
"textContent": "**ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کی کامیابی کے لیے ایران کے ’یورینیم افزودگی کے حق‘ کو تسلیم کرنا لازمی شرط ہے۔**\n\nعمان میں ہونے والے حالیہ بالواسطہ مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران 'صفر افزودگی' کے مطالبے کو کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔\n\nان کا کہنا تھا کہ بات چیت کا رخ اس طرف ہونا چاہیے جہاں ایران کی سرزمین پر افزودگی کو قبول کیا جائے اور ایران اس کے پرامن ہونے کا مکمل بھروسہ فراہم کرے۔\n\n**'میزائل پروگرام پر سمجھوتہ نہیں ہوگا‘**\n\nیہ سفارتی کوششیں ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب خطے میں امریکی بحری بیڑے کی موجودگی کے باعث تناؤ عروج پر ہے۔\n\nوزیر خارجہ عراقچی نے واضح کیا کہ ایران کا میزائل پروگرام کبھی بھی مذاکرات کے ایجنڈے کا حصہ نہیں رہا اور اسے جوہری بات چیت میں شامل نہیں کیا جائے گا۔\n\nانہوں نے مزید کہا کہ افزودگی کا مطالبہ محض تکنیکی نہیں بلکہ ایران کی آزادی اور قومی وقار کا معاملہ ہے اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ایرانی قوم کو بتائے کہ اسے کیا رکھنا چاہیے اور کیا نہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\n**مستقبل کے مذاکرات کا لائحہ عمل**\n\nایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی حکام کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو ایک ’مثبت قدم‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران جوہری عدم پھیلاؤ کے بین الاقوامی معاہدوں (این پی ٹی) کے تحت اپنے حقوق کا تحفظ چاہتا ہے۔\n\nسفارتی ذرائع کے مطابق ایران افزودگی کی سطح پر بات کرنے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ پابندیوں میں نرمی کی جائے اور فوجی تناؤ کم ہو۔\n\nمذاکرات کے اگلے دور کی جگہ اور تاریخ کا فیصلہ جلد عمان کی مشاورت سے کیا جائے گا جو ممکنہ طور پر مسقط کے بجائے کسی اور مقام پر منعقد ہوگا۔\n\nایران\n\nامریکہ\n\nجوہری مذاکرات\n\nکشیدگی\n\nیہ سفارتی کوششیں ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب خطے میں امریکی بحری بیڑے کی موجودگی کے باعث تناؤ عروج پر ہے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nاتوار, فروری 8, 2026 - 16:15\n\nMain image:\n\n> <p>ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی 7 فروری 2026 کو دوحہ میں ایک تقریب سے خطاب کے بعد سٹیج سے روانہ ہو رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\njw id:\n\nGDuxob0w\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nحملے کی صورت میں خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے: ایران\n\nایران کے ساتھ ’بہت اچھی بات چیت‘ ہوئی: ٹرمپ\n\nایران امریکہ عمان میں مذاکرات شروع، ایجنڈے پر اختلافات\n\nامریکہ سے مذاکرات کے ’اچھے آغاز‘ کے بعد بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق: ایران\n\nSEO Title:\n\nامریکہ سے مذاکرات، ’یورینیم افزودگی کا حق‘ تسلیم کرنا لازمی شرط: ایران\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "امریکہ سے مذاکرات، ’یورینیم افزودگی کا حق‘ تسلیم کرنا لازمی شرط: ایران"
}