{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreieqtm6u6ifgqcitdvqlbpvjoswxt6kzk47os3hwdp3j6yawdg6b6y",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mef7kxcnome2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreiaizlgnehhl2yqpy2cxqu2hznrxpvbvrhhmofsx7fsmopwjt2ykvu"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 108925
  },
  "path": "/node/184533",
  "publishedAt": "2026-02-08T13:11:14.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "بنگلہ دیش",
    "عام انتخابات",
    "شیخ حسینہ",
    "چین",
    "پاکستان",
    "انڈیا",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "ایشیا",
    "video"
  ],
  "textContent": "**بنگلہ دیش میں عام انتخابات کا انعقاد 12 فروری سے ہو رہا ہے جو جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو نئی شکل دے سکتے ہیں کیوں کہ ڈھاکہ میں نئی حکومت چین اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور انڈیا کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری کو ہوا دے سکتی ہے۔**\n\nخبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعرات کو ہونے والے یہ انتخابات اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی تحریک کے بعد پہلے الیکشن ہوں گے، جس کے نتیجے میں سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی ’آمرانہ حکومت‘ کا خاتمہ ہوا تھا۔\n\nانڈیا کی جانب سے شیخ حسینہ کو پناہ دیے جانے اور ان کی حوالگی کے مطالبے کو مسترد کیے جانے نے ڈھاکہ میں نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی سربراہی میں قائم عبوری حکومت کو ناراض کیا ہے، جس کے بعد بنگلہ دیش نے چین اور پاکستان کے ساتھ روابط میں اضافہ کیا ہے۔\n\n17 کروڑ آبادی پر مشتمل مسلم اکثریتی ملک بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کے دور میں انڈیا ڈھاکہ کا سب سے بڑا شراکت دار رہا تھا لیکن یہ توازن اب بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔\n\n**پاکستان اور چین کی جانب جھکاؤ**\n\nامریکی تھنک ٹینک کونسل آن فارن ریلیشنز کے سینیئر فیلو جوشوا کرلنٹسک کے مطابق: ’بنگلہ دیش کی عبوری حکومت اور آنے والی حکومت واضح طور پر چین اور اس کے اتحادی پاکستان کی طرف جھکاؤ اختیار کر رہی ہے۔‘\n\nان کے مطابق بنگلہ دیش اب خلیج بنگال سے متعلق چین کی سٹریٹجک سوچ کا اہم مرکز بن چکا ہے۔ محمد یونس کا پہلا سرکاری دورہ چین تھا، جو اس پالیسی تبدیلی کا واضح اشارہ تھا۔\n\nسات اگست 2024 کو ڈھاکہ میں خالدہ ضیا کی جماعت بی این پی کے حامیوں کا جلسہ (اے ایف پی)\n\n\n\n\nجنوری میں دونوں ممالک نے انڈیا کے قریب شمالی بنگلہ دیش میں ایک مجوزہ ایئربیس پر ڈرون پلانٹ کے قیام کے لیے ایک اہم دفاعی معاہدہ بھی کیا۔\n\n**انڈیا کے ساتھ کشیدگی**\n\nدوسری جانب، شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد سے انڈیا اور بنگلہ دیش کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔\n\nانڈیا نے دسمبر میں بنگلہ دیش میں اقلیتوں کے خلاف تشدد پر تشویش ظاہر کی سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید بگڑ گئے۔\n\nڈھاکہ نے انڈیا پر تشدد کے پیمانے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا الزام لگایا۔\n\nاگرچہ انڈین وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر جنوری میں ڈھاکہ گئے جبکہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان کو تعزیتی پیغام بھیجا۔\n\nتاہم حالات اس وقت ناقابل یقین حد تک خراب ہو گئے جب ایک بنگلہ دیشی کرکٹر کو ہندو انتہاپسند احتجاج کے بعد آئی پی ایل سے نکال دیا گیا، جس کے ردِعمل میں بنگلہ دیش نے انڈیا میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے دستبرداری اختیار کر لی۔\n\n**استحکام کو ترجیح**\n\nانٹرنیشنل کرائسز گروپ کے ماہر پروین دونتھی کے مطابق، دونوں ممالک عملی رویہ اپنائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی حکومت ممکنہ طور پر استحکام کو انتشار پر ترجیح دے گی۔\n\nبنگلہ دیش نے پاکستان کے ساتھ بھی تعلقات بحال کرتے ہوئے جنوری میں ایک دہائی بعد براہِ راست پروازیں شروع کیں۔\n\nبنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان 30 دسمبر 2023 کو جنوب مغربی لندن کے ایک پارک میں تصویر کے لیے پوز دے رہے ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\nماہرین کے مطابق چین کے ساتھ مضبوط تعلقات کا مطلب یہ نہیں کہ انڈیا کے ساتھ دشمنی ناگزیر ہو۔\n\nجیسا کہ سابق سفارت کار ہیومایوں کبیر کے مطابق: ’یہ وہ کی صورت حال نہیں۔ ڈھاکہ کے دونوں ممالک سے تعلقات بیک وقت مضبوط رہ سکتے ہیں۔‘\n\nبنگلہ دیش میں وزارت عظمیٰ کے سرِفہرست امیدوار طارق رحمان نے انتخابات کے بعد قومی اتحاد کی حکومت بنانے کی تجویز مسترد کر دی۔ یہ تجویز ان کے مرکزی سیاسی حریف کی جانب سے دی گئی تھی۔ طارق رحمان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت اپنی قوت پر حکومت بنانے کے لیے پُراعتماد ہے۔\n\n60 سالہ طارق رحمان، جو بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سربراہ ہیں، دسمبر میں تقریباً دو دہائیوں بعد جلاوطنی ختم کر کے وطن واپس آئے تھے۔\n\n12 فروری کو ہونے والے انتخابات میں بی این پی کا بڑا مقابلہ جماعت اسلامی سے ہے، جو شیخ حسینہ کے دور میں کالعدم رہی مگر اب دوبارہ متحرک ہو چکی ہے۔\n\nروئٹرز کے مطابق دونوں جماعتیں 2001 سے 2006 تک اتحادی حکومت میں شامل رہ چکی ہیں۔ جماعت اسلامی نے حالیہ مہینوں میں ایک بار پھر اتحاد کی خواہش ظاہر کی تھی تاکہ 2024 کے سیاسی بحران سے متاثر ہونے والی گارمنٹس انڈسٹری اور ملک میں استحکام لایا جا سکے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nبی این پی 300 رکنی پارلیمنٹ میں دو تہائی سے زیادہ نشستیں جیتنے کی توقع رکھتی ہے۔ جماعت 292 نشستوں پر خود انتخاب لڑ رہی ہے جبکہ باقی پر اتحادی امیدوار ہیں۔\n\n**عالمی تعلقات اور انڈیا، چین کے درمیان توازن**\n\nطارق رحمان نے کہا کہ بنگلہ دیش کو ایسے شراکت داروں کی ضرورت ہے جو 17 کروڑ سے زائد آبادی کے لیے روزگار اور معاشی ترقی میں مدد دے سکیں۔\n\nانہوں نے واضح کیا کہ ان کی خارجہ پالیسی کسی ایک ملک تک محدود نہیں ہوگی۔\n\nان کے بقول: ’جو بھی ملک بنگلہ دیش کی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے ہمارے عوام کے مفاد میں تعاون کرے گا، ہم اس کے ساتھ دوستی رکھیں گے۔‘\n\nشیخ حسینہ کے بھارت میں قیام پر طارق رحمان نے کہا کہ 2024 میں ان کے خلاف فیصلہ آ چکا ہے، اس لیے انہیں قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔\n\nبنگلہ دیش\n\nعام انتخابات\n\nشیخ حسینہ\n\nچین\n\nپاکستان\n\nانڈیا\n\n17 کروڑ آبادی پر مشتمل مسلم اکثریتی ملک بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کے دور میں انڈیا ڈھاکہ کا سب سے بڑا شراکت دار رہا تھا لیکن یہ توازن اب بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nاتوار, فروری 8, 2026 - 18:15\n\nMain image:\n\n> <p>بنگلہ دیش کے عام انتخابات سے قبل سات فروری 2026 کو ڈھاکہ میں الیکشن کمیشن کی عمارت کے باہر کارکن خالی بیلٹ باکس ایک ٹرک پر لاد رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\njw id:\n\nl9FbVaOI\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nبنگلہ دیش کے انتخابات جمہوریت کا امتحان\n\nبنگلہ دیش: جماعت اسلامی کی حمایت میں اضافہ، اعتدال پسند حلقوں میں تشویش\n\nڈھاکہ: شیخ حسینہ اور بھانجی کو کرپشن کے مقدمے میں سزا\n\n’اہم سنگ میل‘: 14 برس بعد بنگلہ دیشی قومی ایئرلائن کی پہلی پرواز کراچی پہنچی\n\nSEO Title:\n\nبنگلہ دیش انتخابات کیسے جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو نئی شکل دے سکتے ہیں؟\n\ncopyright:\n\nTranslator name:\n\nعبدالقیوم\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "بنگلہ دیش انتخابات کیسے جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو نئی شکل دے سکتے ہیں؟"
}