{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreietxw44djhovwslzpuduseslbcci3h2cn7q3j3zr2udxntd4igu3u",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mecig3my7ya2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreihnkr62tnsmz3munhbyprzofhqyuu3oeue3qwvetjofwvqmsqn5qi"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 56433
},
"path": "/node/184513",
"publishedAt": "2026-02-07T07:45:23.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"استنبول",
"ترکی",
"جاسوس",
"اسرائیل",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"دنیا",
"news"
],
"textContent": "**ترک خبر رساں ادارے انادولو نے جمعے کو خبر دی ہے کہ ملک کے خفیہ ادارے نے اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے لیے جاسوسی کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔**\n\nترکی کی نیشنل انٹیلی جنس ایجنسی (ایم آئی ٹی) نے دو افراد کو استبول میں گرفتار کیا جو موساد کے لیے کام کرنے میں ملوث تھے۔ گرفتار ہونے والوں میں محمد بوداک دریا اور فیصل کریم اوغلو شامل ہیں جنہیں طویل عرصے جاری رہنے والی خفیہ نگرانی کے بعد حراست میں لیا گیا۔\n\nتفتیش کاروں نے ان کی جانب سے موساد کو معلومات براہ راست منتقل کرنے کی تصدیق کی ہے۔ سکیورٹی ذرائع نے انادولو ایجنسی کو بتایا کہ محمد بوداک دریا 2013 سے کان کنی اور سنگ مرمر کے شعبے میں اپنی کاروباری آڑ کو اسرائیلی انٹیلی جنس عناصر سے رابطے کے لیے استعمال کر رہا تھے۔\n\nفیصل کریم اوغلو کو موساد کی براہ راست ہدایات پر بھرتی کیا گیا۔ ان کی تنخواہ کا انتظام کیا گیا اور مشرق وسطیٰ میں کارروائیوں کو وسعت دینے میں انہیں شامل کیا گیا۔\n\nموساد نے محمد بوداک دریا کا پولی گراف ٹیسٹ کیا۔ انہیں محفوظ مواصلاتی نظام فراہم کیا اور جدید تکنیکی کام سونپے۔\n\nدریا اور کریم نے اسرائیل مخالف فلسطینیوں کے بارے میں معلومات منتقل کیں اور غزہ اور رسد کے سلسلوں سے متعلق تصاویر اور حساس ڈیٹا بھیجا۔\n\nالجزیرہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دریا، کان کنی کے انجینئر کے طور پر کام کرتے ہیں اور انہوں نے 2005 میں اپنی ذاتی کمپنی قائم کی۔ وہ پہلی بار اس وقت موساد کی توجہ کا مرکز بنے جب انہوں نے جنوبی ساحلی شہر مرسین کے قریب سنگ مرمر کی کان پر کام شروع کیا اور بیرون ملک کاروبار شروع کی۔ ذرائع کے مطابق ان سے پہلی بار 2012 میں علی احمد یاسین نامی شخص نے رابطہ کیا۔\n\nتفتیش کاروں نے بتایا کہ یاسین، جو اسرائیل کے لیےدکھاوے کی کمپنی چلا رہے تھے، نے 2013 میں دریا کو یورپ میں ایک کاروباری اجلاس میں مدعو کیا، جہاں ان کی ملاقات تاجروں کے روپ میں موساد کے ایجنٹوں سے ہوئی، جنہوں نے شراکت داری کی تجویز دی اور ان سے کہا کہ وہ فلسطینی نژاد ترک شہری فیصل کریم اوغلو کو ملازمت پر رکھیں۔\n\nذرائع نے بتایا کہ دریا نے اسے ایک کاروباری موقع سمجھا اور موساد کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے کریم اوغلو کو ملازمت دے دی، جن کی تنخواہ اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنٹ ادا کرتے تھے اور پھر ان کے درمیان تعلق دوستی میں بدل گیا۔\n\n**ڈرونز اور غزہ**\n\nاطلاعات کے مطابق کریم اوغلو کے ذریعے دریا نے مشرق وسطیٰ میں اپنی سرگرمیاں بڑھائیں، فلسطینیوں کے ساتھ سماجی اور تجارتی تعلقات قائم کیے اور موساد کے ساتھ ان کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کیا۔\n\nرپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کریم اوغلو نے 2016 کے اوائل میں دریا کو تجویز دی کہ وہ ڈرونز کے پرزے فراہم کرنا شروع کریں اور جب دریا نے موساد کو اس بارے میں آگاہ کیا تو وہ فوراً اس تجویز پر راضی ہو گئی اور انہیں پہلے نمونے فراہم کیے۔\n\nتحقیقات کے مطابق جن لوگوں کو دریا نے ڈرون کے پرزے فروخت کرنے کی کوشش کی ان میں محمد الزواری بھی شامل تھے، جنہیں 2016 میں تیونس میں اسرائیلی انٹیلی جنس نے قتل کر دیا تھا۔\n\nتیونسی نژاد محمد الزواری، جو اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) کی صفوں میں ڈرون بنانے کے ماہر انجینئر تھے، انہیں دسمبر 2016 میں مشرقی تیونس کے شہر صفاقس میں ان کی گاڑی میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ گذشتہ سال کے آخر میں تیونس کی ایک عدالت نے ان کے قتل کے سلسلے میں 18 افراد کو ان کی غیر موجودگی میں سزا سنائی۔\n\nذرائع نے یہ بھی بتایا کہ دریا، جو غزہ کی پٹی پر اسرائیلی قبضے کی پالیسیوں کے تحت قائم اپنے کاروباری تعلقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غزہ میں داخل ہونے کی اجازت کا خواہشمند تھے، انہوں نے وہاں موجود ان گوداموں کی تصاویر اسرائیلی انٹیلی جنس کو بھیجیں جن کی اسے تلاش تھی۔\n\n**جھوٹ پکڑنے کا ٹیسٹ**\n\nذرائع نے وضاحت کی کہ موساد نے رازداری کو انتہائی اہمیت دی تاکہ وہ آپریشن خطرے میں نہ پڑ جائے جو وہ کئی سال سے کر رہی تھی۔ اس نے دریا کو ایک خفیہ مواصلاتی نظام فراہم کیا اور 2016 میں ایک ایشیائی ملک میں ان کا جھوٹ پکڑنے کا ٹیسٹ لیا، جسے انہوں نے کامیابی سے پاس کر لیا۔\n\nانہوں نے 2024 میں ایک یورپی ملک کے ہوٹل میں اسی طرح کا دوسرا ٹیسٹ دیا اور وہ اسے بھی پاس کرنے میں کامیاب رہے جس کی وجہ سے موساد کو اپنے آپریشن کو اعلیٰ سطح پر منتقل کرنے کا موقع ملا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nموساد کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے دریا نے ترکی اور دیگر ممالک سے سم کارڈز، موڈیم اور انٹرنیٹ راؤٹرز خریدے اور ان کی تکنیکی معلومات بشمول سیریل نمبرز کی تصاویر بھیجیں۔\n\nانادولو کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ جنوری میں دریا نے ترکی سے باہر موساد کے ایجنٹوں کے ساتھ ایک اہم ملاقات کی، جس کے دوران ایک فرضی کمپنی قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی جسے آپریشنل مقاصد کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔\n\nدریا کو وہ کمپنی قائم کرنے کی کوشش کے دوران گرفتار کیا گیا جو تین ایشیائی فرضی کمپنیوں کی نگرانی کرتی ہے، ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان کا مقصد ان مختلف مصنوعات کے ذرائع کو چھپانا تھا جو موساد کے مطلوبہ خریداروں کو فراہم کی جانی تھیں۔\n\nتاہم پولیس کے مطابق دریا اور کریم اوغلو جن کی کچھ عرصے سے ترک انٹیلی جنس نگرانی کر رہی تھی، انہیں مشن مکمل ہونے سے پہلے استنبول میں گرفتار کر لیا گیا۔ یہ آپریشن انٹیلی جنس سروس، پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر اور استنبول سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کے باہمی تعاون سے کیا گیا اور فی الحال ان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔\n\nاستنبول\n\nترکی\n\nجاسوس\n\nاسرائیل\n\nترکی کی نیشنل انٹیلی جنس ایجنسی نےمحمد بوداک دریا اور فیصل کریم اوغلو کو استبول میں گرفتار کیا، جو اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے کام کرنے میں ملوث تھے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nہفتہ, فروری 7, 2026 - 12:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">ترکی میں اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار ہونے والے دو افراد محمد بوداک دریا اور فیصل کریم اوغلو (انادولو ایکس اکاؤنٹ)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nحماس رہنما کے قتل کے بعد اسرائیلی جاسوسی پر ترکی میں 34 گرفتار\n\nغزہ کی نگرانی کے باوجود اسرائیلی جاسوس کیسے ناکام ہو گئے؟\n\nلبنان میں ’اسرائیلی جاسوسوں کے 17 نیٹ ورک‘ پکڑ لیے گئے\n\nایران: اسرائیلی جاسوسی کا الزام، دہری شہریت والے شخص پر فرد جرم\n\nSEO Title:\n\nڈرونز، غزہ، ایشیا اور خفیہ روابط: ترکی میں موساد کے لیے کام کرنے والے دو افراد گرفتار\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "ڈرونز، غزہ، ایشیا اور خفیہ روابط: ترکی میں موساد کے لیے کام کرنے والے دو افراد گرفتار"
}