{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiafqfbaodpvvsosknj5zrnntfbvhgnost7sq4h6ripvpsbujfq37e",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mecifp776bh2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreigjgsbfrl3zjbh3j66piq3jenfqnfn3f3ykfusrccagxbjjhfbhxi"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 75128
  },
  "path": "/node/184517",
  "publishedAt": "2026-02-07T12:52:14.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "ایران",
    "امریکہ",
    "کشیدگی",
    "جوہری مذاکرات",
    "ممکنہ حملہ",
    "صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
    "عباس عراقچی",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "ایشیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کو خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔**\n\nتاہم الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران ہمسایہ ممالک پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔\n\nیہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب مشرق وسطیٰ کے سمندر میں طیارہ بردار جہاز کی قیادت میں امریکی بحری بیڑہ موجود ہے۔\n\nامریکی اور ایرانی وفود نے مسقط میں عمان کی ثالثی میں اعلانیہ طور پر آمنے سامنے آئے بغیر بات چیت کی۔\n\nمذاکرات ختم ہونے کے کچھ ہی دیر بعد امریکہ نے جہاز رانی کی کمپنیوں اور جہازوں کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا، جن کا مقصد ایران کی تیل کی برآمدات کو روکنا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا اس اقدام کا تعلق ان مذاکرات سے تھا۔\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو کہا تھا کہ واشنگٹن کی ایران سے ’بہت اچھی بات چیت‘ ہوئی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔\n\nعباس عراقچی نے الجزیرہ کو دیے انٹرویو میں مزید کہا کہ ایران اپنی سلامتی پر کسی بھی قسم کے حملے کو برداشت نہیں کرے گا اور دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گا۔\n\nان کا کہنا تھا کہ ’اگر ایران پر حملہ ہوا تو ہم خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے، تاہم پڑوسی ممالک کو اس تنازع میں گھسیٹنے کا کوئی ارادہ نہیں۔‘\n\nایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ فوجی اڈوں اور ہمسایہ ریاستوں کے درمیان واضح فرق ہے اور ایران اپنی جوابی کارروائی صرف جارحیت کرنے والوں تک محدود رکھے گا۔\n\nعباس عراقچی نے خبردار کیا کہ خطے میں جنگ کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے، تاہم ایران امن کو ترجیح دیتا ہے اور اپنے جوہری مسئلے کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ بالواسطہ مذاکرات عمان کی ثالثی میں مسقط میں ہوئے، جن میں فریقین نے اپنے مؤقف ایک دوسرے تک پہنچائے۔\n\nایرانی وزیر خارجہ کے مطابق، ایران یورینیم افزودگی کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوگا اور کسی دباؤ یا دھمکی کے تحت مذاکرات نہیں کرے گا۔\n\nعراقچی نے مزید کہا کہ ایران اپنے دفاعی میزائل پروگرام پر کسی قسم کے مذاکرات کو قبول نہیں کرے گا، کیونکہ یہ قومی سلامتی کا اہم جزو ہے۔\n\nجون 2024 میں اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ کی شمولیت اور ایٹمی تنصیبات پر حملوں کے بعد سے مسقط میں یہ دونوں حریفوں کے درمیان یہ پہلے مذاکرات تھے۔\n\nدوسری جانب عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں، جبکہ سفارتی حلقے دونوں ممالک پر تحمل اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دے رہے ہیں۔\n\nایران\n\nامریکہ\n\nکشیدگی\n\nجوہری مذاکرات\n\nممکنہ حملہ\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nعباس عراقچی\n\nیہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب مشرق وسطیٰ کے سمندر میں طیارہ بردار جہاز کی قیادت میں امریکی بحری بیڑہ موجود ہے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nہفتہ, فروری 7, 2026 - 18:00\n\nMain image:\n\n> <p>ایران کے وزیر خارجہ 30 جنوری 2026 کو استنبول میں اپنے ترک ہم منصب سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے (فائل فوٹو/ اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nایران کے ساتھ ’بہت اچھی بات چیت‘ ہوئی: ٹرمپ\n\nامریکہ سے مذاکرات کے ’اچھے آغاز‘ کے بعد بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق: ایران\n\nایران امریکہ عمان میں مذاکرات شروع، ایجنڈے پر اختلافات\n\nایران سے مذاکرات کی ناکامی پر ٹرمپ کے پاس دیگر آپشنز ہیں: امریکہ\n\nSEO Title:\n\nحملے کی صورت میں خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے: ایران\n\ncopyright:\n\nTranslator name:\n\nعبدالقیوم\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "حملے کی صورت میں خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے: ایران"
}