{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreih4wkhfh6oarxh63y75oxm4fbnhvygefruqll5suxyueepev6pcri",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3me7ra7s7z5u2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreicjyptmw3nd34jzbjwjc3gf5vwkmpcb4724flyal27b24jgem6ohe"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 103205
  },
  "path": "/node/184499",
  "publishedAt": "2026-02-06T06:55:56.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "خیبر پختونخوا",
    "آئی ایس پی آر",
    "عسکریت پسند",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "پاکستان",
    "news"
  ],
  "textContent": "**پاکستانی فوج نے جمعے کو بتایا ہے کہ چار اور پانچ فروری 2026 کو خیبر پختونخوا میں دو الگ الگ کارروائیوں میں ’انڈین پراکسی فتنہ الخوارج‘ سے تعلق رکھنے والے 24 عسکریت پسندوں کو مار دیا گیا۔**\n\n’فتنہ الخوارج‘ کی اصطلاح پاکستانی حکومت اور فوج کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے استعمال کرتی ہے، جن کے بارے میں اسلام آباد کا موقف ہے کہ ان کی قیادت افغانستان میں موجود ہے اور انہیں انڈیا کی سرپرستی حاصل ہے۔ تاہم کابل اور نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔\n\nپاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق عسکریت پسندوں کی ’مبینہ موجودگی کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز نے ضلع اورکزئی میں ایک انٹیلی جنس پر مبنی کارروائی کی۔‘\n\nبیان کے مطابق آپریشن کے دوران فورسز نے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 14 عسکریت پسند مارے گئے۔\n\nآئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے ضلع خیبر میں انٹیلی جنس پر مبنی ایک اور کارروائی کی، جس کے دوران ہونے والے فائرنگ کے تبادلے میں مزید 10 عسکریت پسند مارے گئے۔\n\nبیان میں کہا گیا کہ علاقے میں کسی اور انڈین حمایت یافتہ عسکریت پسند کے خاتمے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں۔\n\nبقول آئی ایس پی آر: ’پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے وفاقی ایپکس کمیٹی برائے قومی ایکشن پلان سے منظور شدہ ’عزمِ استحکام‘ کے وژن کے تحت غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کو ملک سے مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے جاری انتھک انسداد دہشت گردی مہم کو پوری شدت کے ساتھ جاری رکھیں گے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nجنوری میں خیبر پختونخوا میں دو الگ الگ کارروائیوں میں 11 عسکریت پسند مارے گئے تھے۔\n\nنومبر 2022 میں ٹی ٹی پی کی جانب سے حکومت کے ساتھ جنگ ​​بندی کا معاہدہ ختم کرنے کے بعد سے پاکستان میں عسکریت پسندی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔\n\nاسلام آباد میں قائم پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، ریکارڈ عسکریت پسندوں کی اموات کے باوجود، پاکستان میں 2025 میں عسکریت پسندوں کے تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس میں عسکریت پسندانہ حملوں میں 34 فیصد اضافہ ہوا اور عسکریت پسندی سے متعلقہ اموات میں سال بہ سال 21 فیصد اضافہ رہا۔\n\nاسلام آباد میں ایوان وزیر اعظم سے جاری ہونے والے ایک بیان میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کے اضلاع خیبر اور اورکزئی میں فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں 24 عسکریت پسندوں کے مارے جانے پر سکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کی ہے۔\n\nانہوں نے کہا کہ ’دہشت گردی کی عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔‘\n\nخیبر پختونخوا\n\nآئی ایس پی آر\n\nعسکریت پسند\n\nپاکستانی فوج کے مطابق یہ کارروائیاں چار اور پانچ فروری 2026 کو خیبر پختونخوا کے ضلع اورکزئی اور خیبر میں کی گئیں۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعہ, فروری 6, 2026 - 12:00\n\nMain image:\n\n> <p>پاکستانی فوج کا ایک اہلکار تین اگست، 2021 کو خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں پاکستان-افغانستان سرحد پر واقع بگ بین پوسٹ کے قریب تعینات ہے (اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے گٹھ جوڑ کے ٹھوس ثبوت ہیں: وزیراعظم\n\nریاست دشمن ٹی ٹی پی کو ہر صورت ختم کریں گے: پاکستان\n\nٹی ٹی پی کی ’فضائی فورس یونٹ‘ کے قیام کے اعلان کا مطلب کیا ہے؟\n\nافغانستان کا اپنی سرزمین پر ٹی ٹی پی کی موجودگی کا ’اعتراف‘\n\nSEO Title:\n\nخیبرپختونخوا میں دو آپریشنز، ’انڈین حمایت یافتہ‘ 24 عسکریت پسند مارے گئے: فوج\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "خیبرپختونخوا میں 24 عسکریت پسند مارے گئے: فوج"
}