{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreicksa52hrnvtc4ank56vsb3ynyqxmikph6lfswws34etxrrfobjuy",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3me7r7zgytnp2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreid35auloriqo22jclkmb62hi3zxniimxtwxzcuz3oya6dzn6exihq"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 157457
},
"path": "/node/184501",
"publishedAt": "2026-02-06T09:17:29.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"دھماکہ",
"اسلام آباد",
"مسجد",
"خود کش",
"قرۃ العین شیرازی",
"پاکستان",
"video"
],
"textContent": "**اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق دارالحکومت کے نواحی علاقے ترلائی میں جمعے کی نماز کے دوران ایک امام بارگاہ سے متصل مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں ہونے والے بم دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد 31 ہو گئی ہے۔**\n\nڈی سی اسلام آباد نے ایکس پر ایک بیان میں بتایا ہے کہ ’دھماکے کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی مجموعی تعداد 31 ہوگئی ہے جبکہ 169 افراد زخمی ہوئے ہیں۔‘\n\nترجمان اسلام آباد پولیس تقی جواد نے انڈپینڈنٹ اردو کو تصدیق کی ہے کہ اس دھماکے میں مرنے والوں میں آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کے ایک کزن بھی شامل ہیں جبکہ ان کے چچا زخمی ہوئے ہیں۔\n\nپاکستان کے وزیر داخلہ برائے مملکت طلال چوہدری نے جمعے کو ترلائی میں امام بارگاہ و جامع مسجد خدیجۃ الکبریٰ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ واقعہ انتظامیہ کے علم میں ایک بج کر 42 منٹ پر آیا۔‘\n\nطلال چوہدری نے بتایا کہ اس واقعے میں 31 افراد کو موت ہوئی جبکہ 100 سے زائد زخمی ہیں۔\n\n’یہ ایک خودکش دھماکہ تھا۔ حملہ آور افغان شہری تو نہیں تھا لیکن اس کا افغانستان کتنی مرتبہ جانا ہوا، وہ تفصیلات آ چکی ہیں۔‘\n\nطلال چوہدری نے آئی جی اسلام آباد کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’اس حملے میں آئی جی اسلام آباد کے فرسٹ کزن بھائی بھی شہید ہوئے ہیں۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ ’یہ سافٹ ٹارگٹ ڈھونڈتے ہیں۔ اسلام، لسانیت کا نام لے کر مسلمانوں کو مارا نہیں جاتا۔ ہم نے دیگر ممالک کو ثبوت دیا ہے کہ یہ انڈیا سپانسرڈ ہے۔ بی ایل اے کا ہو یا ٹی ٹی پی کا، انہیں ڈالرز میں پیسے دیے جاتے ہیں۔\n\n’اس واقعے کی تفصیلی رپورٹ 72 گھنٹے میں دی جائے گی۔ کچھ متعلقہ افراد بھی پکڑے گئے ہیں۔‘\n\nترجمان ضلعی انتظامیہ کے مطابق پمز، پولی کلینک اور سی ڈی اے ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور اسسٹنٹ کمشنرز کو زخمیوں کے علاج و معالجے کی نگرانی کے لیے مختلف ہسپتالوں میں تعینات کیا گیا ہے، جبکہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر دھماکے کی جگہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔\n\nپیمز ہسپتال کی ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جمعے کو مجموعی طور پر 149 افراد ہسپتال لائے گئے جن میں 28 جان سے جا چکے تھے اور 121 زخمی تھے۔\n\nترجمان نے کہا کہ اب تک 20 بڑے آپریشن مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ چار سے چھ آپریشنز جاری ہیں۔\n\nترجمان نے مزید بتایا کہ سرجیکل آئی سی یو اور ہائی ڈیپنڈنسی یونٹ کو فوری طور پر فعال کر دیا گیا اور 60 سے زائد یونٹس خون منتقل کیا گیا۔\n\nپمز ہسپتال میں موجود انڈپینڈنٹ اردو کے نامہ نگار فہد منظر نے بتایا ہے کہ زخمی یا جان سے جانے والوں کے رشتہ داروں کی بھی ایک بڑی تعداد ہسپتال میں موجود ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاسلام آباد کے نواحی علاقے ترلائی میں امام بارگاہ سے متصل مسجد خدیجۃ الکبریٰ کے باہر موجود نامہ نگار قرۃ العین شیرازی نے ایک عینی شاہد سے بات کی جنہوں نے بتایا ہے کہ ’حملہ آوروں کی تعداد تین تھی جن میں سے ایک احاطے سے باہر جبکہ دو اندر موجود تھے‘۔\n\nتاہم تاحال حکام کی جانب سے اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔\n\nصدر آصف زرداری اور وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ترلائی میں مسجد میں ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ ایوانِ وزیرِ اعظم کے ایک بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات ہوئی جس میں واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ داران کے فوری تعین کی ہدایت کی گئی۔\n\nوزیرِ اعظم نے کہا کہ ’دھماکے کے ذمہ داران کو تعین کر کے انہیں قرار واقعی سزا دلوائی جائے‘ اور ’ملک میں شر پسندی اور بدامنی پھیلانے کی ہر گز کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔‘\n\nصدرِ مملکت آصف علی زرداری نے جان سے جانے والے افراد کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی اور زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ’بےگناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف جرم ہے۔‘\n\nدھماکہ\n\nاسلام آباد\n\nمسجد\n\nخود کش\n\nاسلام آباد پولیس کے مطابق دھماکہ اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی میں ایک امام بارگاہ سے متصل مسجد میں ہوا ہے جس میں کم از کم 31 اموات ہوئی ہیں جبکہ 169 افراد زخمی ہوئے ہیں۔\n\nقرۃ العین شیرازی\n\nجمعہ, فروری 6, 2026 - 15:45\n\nMain image:\n\n> <p>اسلام آباد کے نواحی علاقے ترلائی میں 6 فروری 2026 کو جمعہ کی نماز کے دوران مسجد میں ہوئے دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز کے اہلکار ڈیوٹی پر مامور ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\njw id:\n\nVQ5i50Cs\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nپشاور: مسجد میں بم دھماکہ، آٹھ افراد ہلاک\n\nڈی آئی خان: شادی کی تقریب میں دھماکہ، اموات سات ہو گئیں\n\nاسلام آباد: شادی میں سلینڈر دھماکہ، دلہا، دلہن سمیت آٹھ اموات\n\nفیصل آباد میں گیس لیک ہونے سے دھماکہ، خواتین سمیت 15 اموات\n\nSEO Title:\n\nاسلام آباد مسجد حملے میں 31 اموات، حملہ آور کی شناخت کر لی گئی: طلال چوہدری\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "اسلام آباد مسجد حملے میں 31 اموات، حملہ آور کی شناخت کر لی گئی: طلال چوہدری"
}