{
  "$type": "site.standard.document",
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreiat4wk6375f2oub45znsnol6cdv2l6wtuf3wayutmfh4olrjrccy4"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 133971
  },
  "path": "/node/184478",
  "publishedAt": "2026-02-05T06:39:06.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "حالیہ ٹی20 کرکٹ ورلڈ کپ",
    "پاکستان کرکٹ بورڈ",
    "ٹی 20 ورلڈ کپ 2026",
    "ایسوسی ایٹڈ پریس",
    "کرکٹ",
    "news"
  ],
  "textContent": "**حالیہ ٹی20 کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان اپنی کارکردگی کی بجائے زیادہ تر اس وجہ سے خبروں کی زینت بنے گا کہ اس نے ٹورنامنٹ کے گروپ مرحلے میں انڈیا کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔**\n\nانڈیا اور سری لنکا کی مشترکہ میزبانی میں 20 ٹیموں پر مشتمل اس ٹورنامنٹ میں ہر ٹیم سپر ایٹ اور ناک آؤٹ مرحلے سے قبل چار گروپ میچ کھیلے گی اور یہ تمام مقابلے سات فروری سے آٹھ مارچ کے درمیان شیڈول ہیں۔\n\nپاکستان کو گروپ اے میں شامل کیا گیا ہے جہاں اس کا پہلا میچ سات فروری کو کولمبو میں نیدرلینڈز کے خلاف شیڈول ہے۔\n\nپاکستان کی حکومت نے قومی ٹیم کو ہدایت دی ہے کہ وہ 15 فروری کو اپنے روایتی حریف انڈیا کے خلاف گروپ اے کے میچ کا بائیکاٹ کرے، جس کے فیصلے نے کرکٹ کی دنیا کو چونکا دیا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nپاکستان کے کپتان سلمان علی آغا نے بائیکاٹ کے حوالے سے کہا: ’یہ ہمارا فیصلہ نہیں ہے، ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ ہم وہی کریں گے جو ہماری حکومت اور چیئرمین (پاکستان کرکٹ بورڈ) ہمیں بتائیں گے۔‘\n\nوزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو تصدیق کی تھی کہ انڈیا کے بائیکاٹ کا مقصد بنگلہ دیش کے ساتھ اظہار یکجہتی تھا، جو اس ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا ہے۔\n\nگروپ اے میں پاکستان کے تین حریفوں میں سے ایک امریکہ ہے، جس نے ٹیکساس میں 2024 کے ٹورنامنٹ کے بعد پاکستان کو سپر اوور میں شکست سے دوچار کیا تھا۔ نیدرلینڈز نے بھی 2022 میں جنوبی افریقہ کو ہرا کر بڑے حریفوں کو حیران کیا تھا۔\n\nپاکستان کے حالیہ سکواڈ میں موجود چھ کھلاڑی بابر اعظم، فخر زمان، وکٹ کیپر بلے باز عثمان خان، نسیم شاہ، شاداب خان، اور شاہین شاہ آفریدی امریکہ کے خلاف پلیئنگ الیون میں شامل تھے۔\n\nگروپ کا دوسرا ایسوسی ایٹ ملک نمبیا ہے اور انڈیا کے بائیکاٹ سے اسے پہلے ہی دو پوائنٹس دینے کے بعد پاکستان کے لیے اپنے کسی بھی حریف کے خلاف شکست کی گنجائش نہیں ہے۔\n\nپاکستانی کھلاڑی سات ستمبر، 2025 کو شارجہ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ میچ کے دوران افغانستان کے درویش رسولی کا وکٹ حاصل کرنے پر جشن منا رہے ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\nپاکستان ہفتے کو کولمبو، سری لنکا میں نیدرلینڈز کے خلاف اپنے ٹورنامنٹ کا آغاز کرے گا۔ اس کے بعد امریکہ کے خلاف میچ10 فروری کو ہوگا اور پھر ممکنہ طور پر آٹھ دن کا وقفہ آئے گا کیونکہ انڈیا کے خلاف پاکستان کا میچ 15 فروری کے لیے مقرر تھا اور پھر 18 فروری کو پاکستان نمبیا کے خلاف میچ کھیلے گا۔\n\nپاکستان کا سکواڈ کوچ مائیک ہیسن کی زیر قیادت تبدیل ہوا ہے، جو گذشتہ سال ٹیم کے ساتھ شامل ہوئے اور انہوں نے مضبوط ٹی20 ممالک کے خلاف مقابلہ کرنے کے لیے جارحانہ انداز متعارف کروایا۔\n\nگذشتہ دو سیریز میں، کپتان سلمان علی آغا نے سری لنکا اور ہوم گراؤنڈ پر آسٹریلیا کے خلاف نمبر 3 پر تیز رفتار اننگز کھیلنے کی کوشش کی۔\n\nبابر اعظم کا سٹرائیک ریٹ 128.38 رہا لیکن وہ ٹی20 ورلڈ کپ کی تیاریوں کے ایک بڑے حصے سے محروم رہے۔ انہیں اکتوبر کے آخر میں جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز میں واپس بلایا گیا۔\n\nبابر کی سست پچوں پر بیٹنگ کا تجربہ انہیں سکواڈ میں جگہ دلانے میں مددگار رہا، حالانکہ آسٹریلیا کی بگ باش لیگ میں سڈنی سکسیرز کے لیے ان کا رن ریٹ کم رہا تھا، یعنی 11 میچوں میں 202 رنز۔\n\nبابر اعظم 23 فروری 2025 کو انڈیا کے خلاف دبئی میں ایک روزہ میچ کھیل رہے ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\nپاکستان نے اپنی تجربہ شدہ اوپننگ جوڑی صائم ایوب اور صاحبزادہ فرحان کے ساتھ جاری رکھنے کا منصوبہ بنایا ہے، جبکہ بابر اعظم نمبر 4 پر بیٹنگ کریں گے۔\n\nپاکستان اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے گا، بشمول سیمی فائنلز اور فائنل، اگر ٹیم اس حد تک پہنچے۔ چونکہ وکٹیں سپنرز کے مددگار ثابت ہونے کی توقع ہے، پاکستان نے 15 رکنی سکواڈ میں مختلف قسم کے سلو بولرز شامل کیے ہیں۔\n\nسپینر عثمان طارق کے منفرد بولنگ ایکشن اور گیند پھینکنے سے قبل لمبا توقف آسٹریلیائی کھلاڑیوں کے لیے حیران کن رہا۔ لیگ سپنرز شاداب خان اور ابرار احمد، لیفٹ آرم سپنر محمد نواز اور پاور پلے میں ایوب کی آف سپن پاکستان کو اچھا سہارا دیں گے۔\n\nپاکستان نے حارث رؤف کو سکواڈ میں شامل نہیں کیا، حالانکہ وہ آسٹریلیا کی بگ باش لیگ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والوں میں شامل تھے، کیونکہ سلیکٹرز کا خیال ہے کہ سری لنکا کے میچوں میں سپنرز کا اہم کردار ہوگا۔\n\nنسیم شاہ، شاہین آفریدی اور سلمان مرزا سکواڈ کے تین سپیشلسٹ فاسٹ بولرز ہیں، جبکہ آل راؤنڈر فہیم اشرف دوسرا سیم آپشن ہیں۔\n\nپاکستان ٹی20 ورلڈ کپ میں شاندار تاریخ رکھتا ہے۔ اس نے تین فائنلز میں حصہ لیا ہے، 2009 میں ٹائٹل جیتا، اور تین بار سیمی فائنلز تک بھی رسائی حاصل کی۔\n\nپاکستان کرکٹ بورڈ\n\nٹی 20 ورلڈ کپ 2026\n\nحالیہ ٹی 20 کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان اپنی کارکردگی کی بجائے زیادہ تر اس وجہ سے خبروں کی زینت بنے گا کہ اس نے ٹورنامنٹ کے گروپ مرحلے میں انڈیا کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔\n\nایسوسی ایٹڈ پریس\n\nجمعرات, فروری 5, 2026 - 15:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی 28 ستمبر 2025 کو دبئی انٹرنیشنل سٹیڈیم میں انڈیا کے خلاف ایشیا کپ 2025 کے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل فائنل میچ کے اختتام پر پریزنٹیشن تقریب کے لیے انتظار کر رہے ہیں (سجاد حسین / اے ایف پی</p>\n\nکرکٹ\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nانڈیا سے نہ کھیلنے کا فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کیا: شہباز شریف\n\nپاکستان کا انڈیا سے کھیلنے سے انکار، آئی سی سی کا منفی اثرات پر غور کرنے پر زور\n\nٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے پاکستانی ٹیم کو کیسی پچز پر تیاری کروائی گئی؟\n\nٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ، پاکستان کرکٹ ٹیم سری لنکا پہنچ گئی\n\nSEO Title:\n\nٹی20 ورلڈکپ میں انڈیا کا بائیکاٹ: پاکستان کے پاس شکست کی گنجائش نہیں\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "ٹی20 ورلڈکپ میں انڈیا کا بائیکاٹ: پاکستان کے پاس شکست کی گنجائش نہیں"
}