{
  "$type": "site.standard.document",
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreiaunvl3uwiipqr5ap72ifefbcghkzhf6vbf2vrclckip2sdatue4i"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 135309
  },
  "path": "/node/184474",
  "publishedAt": "2026-02-05T03:16:55.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "ڈیپ فیک",
    "مصنوعی ذہانت",
    "بچے",
    "پاکستان",
    "دنیا",
    "اقوام متحدہ",
    "یونیسیف",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "نئی نسل",
    "news"
  ],
  "textContent": "**اقوام متحدہ کی بچوں سے متعلق ایجنسی (یونیسیف) نے بدھ کو پاکستان سمیت دنیا میں بچوں کی واضح جنسی تصاویر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال میں تیزی سے اضافے پر روشنی ڈالتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ ڈیپ فیکس کی وجہ سے متاثر ہونے والے نوجوان کو حقیقی نقصان پہنچ رہا ہے۔**\n\nپاکستان سمیت گیارہ ممالک میں یونیسیف کی زیرقیادت تحقیقات کے مطابق، کم از کم 12 لاکھ بچوں نے کہا کہ ان کی تصاویر کو واضح جنسی ڈیپ فیکس میں تبدیل کیا گیا۔ کچھ ممالک میں یہ شرح 25 طلبہ کے ’ایک عام کلاس روم میں ایک بچے‘ کے برابر رہی۔\n\nدنیا کے جن دوسرے ممالک میں یہ سٹڈی کی گئی ان میں آرمینیا، برازیل، کولمبیا، ڈومینیکن ریپبلک، میکسیکو، مونٹی نیگرو، مراکش، شمالی مقدونیہ، سربیا اور تیونس شامل تھے۔\n\nنتائج نے ’نوڈیفیکیشن‘ ٹولز کے استعمال کا ذکر کیا۔ یہ ایسے ٹولز ہیں جو جنسی تصاویر بنانے کے لیے لباس کو تبدیل کرتے یا مکمل طور پر ہٹا دیتے ہیں۔\n\nیونیسیف نے ایک بیان میں کہا، ’ہمیں بہت واضح ہونا چاہیے۔ اے آئی ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے بچوں کی جنسی تصویریں بنائی گئی ہیں یا ان سے ہیرا پھیری کی گئی ہیں، یہ بچوں کے جنسی استحصال کا مواد ہے۔\n\n’ڈیپ فیک کا غلط استعمال زیادتی ہے اور اس سے ہونے والے نقصان کے بارے میں کچھ بھی جعلی نہیں ہے۔‘\n\n30 اکتوبر 2025 کو لی گئی اس تصویر میں 10 سالہ بیانکا ناوارو مغربی سڈنی میں واقع اپنے گھر میں یوٹیوب استعمال کر رہی ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\nایجنسی نے مناسب حفاظتی اقدامات کا خیال رکھے بغیر اے آئی ٹولز بنانے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔\n\nیونیسیف نے کہا کہ ’خطرات اس وقت بڑھ سکتے ہیں جب تخلیقی اے آئی ٹولز کو براہ راست سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پوسٹ کیا جاتا ہے، جہاں بگاڑی گئی تصاویر تیزی سے پھیلتی ہیں۔‘\n\nایلون مسک کی اے آئی چیٹ بوٹ گروک کو متعدد ممالک میں پابندیوں اور تحقیقات کا نشانہ بنایا گیا ہے جس نے صارفین کو سادہ ٹیکسٹ پرامپٹس کا استعمال کرتے ہوئے خواتین اور بچوں کی جنسی تصاویر بنانے اور شیئر کرنے کی اجازت دی ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nیونیسیف کے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ بچے ڈیپ فیکس کے بارے میں تیزی سے آگاہ ہو رہے ہیں۔\n\nایجنسی نے کہا کہ ’مطالعہ کرنے والے کچھ ممالک میں دو تہائی تک بچوں نے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ جعلی جنسی تصاویر یا ویڈیوز بنانے کے لیے اے آئی کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تشویش کی سطح ممالک کے درمیان وسیع پیمانے پر مختلف ہوتی ہے، جو مضبوط بیداری، روک تھام اور تحفظ کے اقدامات کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہیں۔‘\n\nیونیسیف نے اے آئی چیٹ بوٹس کے لیے ’مضبوط گارڈریلز‘ (حفاظتی اقدامات) کے علاوہ ڈیپ فیکس کی گردش کو روکنے کے لیے ڈیجیٹل کمپنیوں کے اقدامات پر زور دیا، نا کہ صرف ان کی طرف سے پہلے سے شیئر کی جانے والی گستاخانہ تصاویر کا ہٹایا جانا۔\n\nاس میں کہا گیا ہے کہ تمام ممالک میں بچوں کے جنسی استحصال کے مواد کی تعریف کو وسعت دینے کے لیے قانون سازی کی بھی ضرورت ہے تاکہ اے آئی سے تیار کردہ امیجری کو شامل کیا جا سکے۔\n\nڈیپ فیک\n\nمصنوعی ذہانت\n\nبچے\n\nپاکستان\n\nدنیا\n\nاقوام متحدہ\n\nیونیسیف\n\nیونیسیف کی ایک سٹڈی میں معلوم ہوا کہ بچوں کی جنسی تصاویر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعرات, فروری 5, 2026 - 08:15\n\nMain image:\n\n> <p>25 اکتوبر 2021 کی اس تصویر میں وسطی لندن میں پارلیمنٹ کے سامنے ہونے والے ایک احتجاج کے دوران مظاہرین نے فیس بک کے بانی مارک زوکربرگ کو کرنسی نوٹوں کی لہر پر سرفنگ کرتے ہوئے اور پریشان نوجوانوں سے گھرے ہوئے ایک انسٹالیشن کے ساتھ پوز کرتے دکھایا گیا ہے (ٹولگا اکمین / اے ایف پی)</p>\n\nنئی نسل\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nجنسی ڈیپ فیک پر ملائیشیا، انڈونیشیا میں گراک پر پابندی\n\nامریکہ سے پاکستان تک، ڈیپ فیک کیسے خواتین سیاست دانوں کو نشانہ بنا رہی ہے؟\n\nڈیپ فیکس کیسے پاکستانی خواتین کو نشانہ بنا رہے ہیں؟\n\nانڈین اداکارہ بھی 'انتہائی خوفناک‘ وائرل ڈیپ فیک کا شکار\n\nSEO Title:\n\nپاکستان سمیت دنیا میں اے آئی کے ذریعے بچوں کا جنسی استحصال جاری: یونیسیف رپورٹ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "پاکستان سمیت دنیا میں اے آئی کے ذریعے بچوں کا جنسی استحصال جاری: یونیسیف رپورٹ"
}