{
  "$type": "site.standard.document",
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreigknmz6nk3augtrarntiaakgoejhajcn5nstpm5qyjzspay3mxqzi"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 150273
  },
  "path": "/node/184480",
  "publishedAt": "2026-02-05T07:31:39.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "IndependentUrdu",
    "Balochistan",
    "India",
    "Attack",
    "mohsinnaqvi",
    "pic.twitter.com/8y7T5fFu9A",
    "February 1, 2026",
    "بلوچستان",
    "آئی ایس پی آر",
    "بی ایل اے",
    "پاکستانی فوج",
    "عسکریت پسندی",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "پاکستان",
    "news",
    "@indyurdu"
  ],
  "textContent": "**پاکستانی فوج نے جمعرات کو بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں آپریشن ردّ الفتنہ-1 کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا ہے، جس کے دوران 216 عسکریت پسند مارے گئے جبکہ 36 عام شہری اور 22 سکیورٹی اہلکار بھی جان سے گئے۔**\n\nہفتے (31 جنوری) کو بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے 12 سے زائد مقامات پر مربوط حملوں کی لہر نے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کو تقریباً بند کر دیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے ان حملوں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا۔\n\nبلوچستان، جس کی سرحدیں ایران اور افغانستان سے ملتی ہیں، گذشتہ کئی دہائیوں سے علیحدگی پسندی کا سامنا کر رہا ہے جس میں سکیورٹی فورسز، بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور شہریوں پر حملے شامل ہیں۔ پاکستان نے حالیہ دنوں میں علاقے میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر رکھی ہیں۔\n\nپاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جمعرات کو جاری بیان کے مطابق ’انڈین حمایت یافتہ‘ عسکریت پسند عناصر کے خلاف ’ایک سلسلہ وار، تیز رفتار اور انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں کی گئیں، جو معصوم شہریوں، بشمول خواتین اور بچوں کو نشانہ بنا کر امن و ترقی کو تباہ کرنا چاہتے تھے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nآئی ایس پی آر کے مطابق گذشتہ ہفتے29 جنوری کو بلوچستان کے ضلع پنجگور اور ہرنائی کے مضافاتی علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں شروع کی گئیں، جس کے نتیجے میں 41 عسکریت پسند مارے گئے، جو ’انڈین پراکسی نیٹ ورکس سے تعلق رکھتے تھے۔ُ\n\nبیان میں کہا گیا کہ ’بعد ازاں، بہادر سکیورٹی فورسز کی جارحانہ اور ثابت قدم کارروائیوں نے فتنہ ہند کے بلوچستان کے امن کو خراب کرنے کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ اس کے بعد، دہشت گردوں کے سلیپر سیلز کو ختم کرنے کے لیے متعدد علاقوں میں وسیع پیمانے پر انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں شروع کی گئیں، جن میں مسلسل سرچ اور سینیٹائزیشن آپریشنز شامل تھے۔‘\n\nمزید بتایا گیا کہ ’احتیاط سے کی گئی منصوبہ بندی، قابل عمل انٹیلی جنس اور مشترکہ عملدرآمد کے ذریعے پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مدد سے آپریشن ردّ الفتنہ-1 کے تحت مؤثر اور پرعزم کارروائی کی۔‘\n\nآئی ایس پی آر کے مطابق ان مربوط کارروائیوں اور کلیئرنس آپریشنز کے نتیجے میں 216 عسکریت پسند مارے گئے، ’جس سے دہشت گرد نیٹ ورکس کی قیادت، کمانڈ اینڈ کنٹرول کے ڈھانچے اور آپریشنل صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا۔‘\n\nآئی ایس پی آر کے مطابق عسکریت پسندوں کے قبضے سے ’غیر ملکی ساخت کا اسلحہ، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور ساز و سامان بھی برآمد ہوئے۔ ابتدائی تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ ان انتہا پسند پراکسیوں کو منظم بیرونی معاونت اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کی گئی تھی۔‘\n\n> بلوچستان پر حملہ کرنے والے عام دہشت گرد نہیں تھے، انڈیا ان کے پیچھے ہے: وزیر داخلہ محسن نقوی#IndependentUrdu #Balochistan #India #Attack #mohsinnaqvi pic.twitter.com/8y7T5fFu9A\n>\n> — Independent Urdu (@indyurdu) February 1, 2026\n\nفوج نے بتایا کہ ان کارروائیوں کے دوران خواتین اور بچوں سمیت 36 شہری اور سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 22 اہلکار بھی جان سے چلے گئے۔\n\nآئی ایس پی آر کے مطابق: ’پاکستان کی مسلح افواج دہشت گردی کے تمام اقسام اور شکلوں کے خلاف حکومت پاکستان کے نیشنل ایکشن پلان کے تحت پرعزم ہیں اور دہشت گرد خطرات کے مکمل خاتمے تک انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔‘\n\nوزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان میں جاری آپریشن رد الفتنہ۔1 کی کامیابی پر سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کی اور 216 دہشت گردوں کو مارنے پر سراہا۔\n\nوزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے 36 عام شہریوں کی اموات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے جان سے جانے والے 22 سکیورٹی اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستانی قوم اپنے شہداء کی قربانی کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔‘\n\nان کا مزید کہنا تھا کہ ’بلوچستان کے معصوم شہریوں کو نشانہ بنا کر دہشت گردوں نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ بلوچستان کی ترقی و خوش حالی اور عوام کے دشمن ہیں۔‘\n\nساتھ ہی انہوں نے ’دہشت گردی کی عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے‘ تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا عزم بھی دہرایا۔\n\nبلوچستان\n\nآئی ایس پی آر\n\nبی ایل اے\n\nپاکستانی فوج\n\nعسکریت پسندی\n\nآئی ایس پی آر کے مطابق عسکریت پسندوں سے برآمد اسلحے کے ’تجزیے سے پتہ چلا کہ انتہا پسند پراکسیوں کو بیرونی معاونت اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کی گئی۔‘\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعرات, فروری 5, 2026 - 12:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">یکم فروری 2026 کو لی گئی اس تصویر میں عسکریت پسندوں کے حملوں کے ایک دن بعد ایک پولیس اہلکار اور ایک شخص ایک پولیس سٹیشن میں ہونے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں (روئٹرز)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nبلوچستان: 40 گھنٹوں میں 145 عسکریت پسند مارے گئے، صوبے میں دفعہ 144 نافذ\n\nسلامتی کونسل بی ایل اے کو جلد از جلد دہشت گرد تنظیم قرار دے: پاکستان\n\nبی ایل اے کو مذاکرات سے قومی دھارے میں نہیں لایا جا سکتا: عبدالرحمان کھیتران\n\nبلوچستان حملوں میں خواتین کی شمولیت، ایک نیا امتحان\n\nSEO Title:\n\nبلوچستان میں آپریشن ردّ الفتنہ-1 کامیابی سے مکمل، 216 عسکریت پسند مارے گئے: فوج\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "بلوچستان میں آپریشن ردّ الفتنہ-1 کامیابی سے مکمل، 216 عسکریت پسند مارے گئے: فوج"
}