{
"$type": "site.standard.document",
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreigc72zvsqozsoqz4pmo4antdep24cni6mf2tebmb6utamjckghb2a"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 124494
},
"path": "/node/184476",
"publishedAt": "2026-02-05T03:47:35.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"ایران",
"امریکہ",
"ایران اسرائیل کشیدگی",
"اسرائیل",
"صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
"اے ایف پی",
"دنیا",
"news"
],
"textContent": "**ماہرین کے خیال میں جب تہران اور واشنگٹن مشرق وسطیٰ میں جنگ کی تیاری کر رہے ہیں تو ایسے میں امریکہ اور اسرائیل قریبی اتحادی ہونے کے باوجود مشترکہ دشمن ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف اہداف کے تعاقب میں ہیں۔**\n\nایران میں دسمبر میں شروع ہونے والی احتجاجی تحریک پر سخت ردعمل کی وجہ سے مسلمان ملک پر حملہ کرنے کی دھمکی دینے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب تہران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں۔\n\nدونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات عمان میں جمعے کو ہونے کی توقع ہے۔\n\nدوسری طرف اسرائیل اسلامی ملک کے بارے میں غیر سمجھوتہ کرنے والا موقف اپنا رہا ہے اور ماہرین کے مطابق، وہاں کی مذہبی حکومتی قیادت کو ہٹانا چاہتا ہے۔\n\nجیو پولیٹیکل تجزیہ کار مائیکل ہورووٹز نے اے ایف پی کو بتایا، ’اسرائیل اور ٹرمپ ایک مشترکہ دشمن ہیں، لیکن ایران کے بارے میں دونوں کا بالکل ایک جیسا ایجنڈا نہیں ہے۔‘\n\nاگر امریکہ ایران پر حملہ کرتا ہے تو تقریباً 2000 کلومیٹر دور واقع اسرائیل کسی بھی ایرانی جوابی کارروائی کے فرنٹ لائن پر ہو گا، جبکہ وزیراعظم بن یامین نتن یاہو بارہا کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران نے حملہ کیا تو اسرائیل جواب دینے سے دریغ نہیں کرے گا۔\n\nنتن یاہو نے گذشتہ مہہنے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کرنے کی سنگین غلطی کی تو ہم ایسی طاقت سے جواب دیں گے جو ایران نے کبھی نہیں دیکھی ہو گی۔‘\n\nمنگل کو نتن یاہو نے دورہ پر آئے ہوئے امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف سے کہا کہ اسلامی جمہوریہ پر ’بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔‘\n\nہورووٹز کا خیال ہے کہ ’اسرائیل ضرورت پڑنے پر اضافی حملوں کے آپشن کے علاوہ ایرانی حکومت کو ہمیشہ کے لیے کمزور کرنے اور حتیٰ کہ گرانے پر زور دے رہا ہے۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ نتن یاہو کا سب سے بڑا مقصد بالکل واضح ہے: حکومت کی تبدیلی یا کم از کم جوہری اور میزائل صلاحیتوں کو مکمل طور پر ختم کرنا۔\n\n’دوسری طرف ٹرمپ اپنے طور پر ایک لمبی جنگ کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔‘\n\nہورووٹز کا کہنا تھا کہ ’اسرائیل اور امریکی انتظامیہ کے درمیان یہ حکمت عملی کے اختلافات اسرائیل میں کشیدگی اور مخصوص غیر یقینی صورت حال پیدا کرتی ہے، جہاں رائے عامہ ایران کے خلاف ممکنہ اسرائیلی حملے پر منقسم دکھائی دیتی ہے۔‘\n\nاسرائیل ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے منگل کو شائع ہونے والے ایک رائے عامہ کے سروے کے مطابق، 50 فیصد اسرائیلی صرف جوابی کارروائی کے طور پر ایران کے خلاف اسرائیل کے حملے کی حمایت کریں گے جبکہ 44 فیصد امریکہ کے ساتھ مل کر فوجی کارروائی کے حامی ہیں۔\n\nانٹرنیشنل کرائسز گروپ کے ایک ماہر میراو زونزین نے نتن یاہو اور ٹرمپ کے لیے اپنے اپنے ملکوں میں مختلف سیاسی مراعات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے پاس ’ایران کے ساتھ طویل جنگ میں جانے سے مقامی طور پر بہت کم فائدہ ہے‘ جبکہ ’نتن یاہو نے اپنا کیریئر ایرانی جوہری پروگرام کے خطرے اور عام طور پر ایران کو لاحق خطرے پر بنایا ہے۔‘\n\n**پرانی دشمنی**\n\n1979 میں اسلامی جمہوریہ ایران کے قیام سے دونوں ملک ایک دوسرے کے شدید مخالف ہیں اور تہران اسرائیل کے وجود کے حق کو تسلیم نہیں کرتا۔ دونوں ملکوں نے گذشتہ سال 12 روزہ جنگ لڑی تھی۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nیہ تنازع ایرانی فوجی اور جوہری تنصیبات کے علاوہ رہائشی علاقوں کے خلاف اسرائیلی حملے سے شروع ہوا تھا۔\n\nٹرمپ کی طرف سے شروع کی گئی جنگ بندی کے نافذ ہونے سے پہلے امریکہ تین ایرانی جوہری مقامات پر حملہ کر کے جھڑپوں میں شامل ہوا تھا۔\n\nان جھڑپوں کے نتیجے میں اسرائیل میں 30 افراد جان سے گئے تھے اور کافی نقصان ہوا تھا، خصوصاً ایک ہسپتال اور عوامی اداروں کو، جن میں کچھ فوجی اڈے بھی شامل تھے۔\n\nاپریل 2024 میں غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے دوران ایران، جو فلسطینی تنظیم حماس کا اتحادی ہے، نے اسرائیل کے خلاف ایک غیر معمولی ڈرون اور میزائل حملہ شروع کیا تھا۔\n\nیہ ایران کے دمشق قونصل خانے پر ایک مہلک حملے کا بدلہ تھا جو کچھ دن پہلے ہوا تھا اور اس کا الزام اسرائیل پر عائد کیا گیا تھا۔\n\nمہینوں بعد یکم اکتوبر کو ایران نے حماس اور حزب اللہ کے رہنماؤں کے قتل کے جواب میں اسرائیل پر 200 میزائل داغے تھے۔\n\n**فالٹ لائنز**\n\nاسرائیلی ریزرو جنرل ایتان بین الیاہو کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات ایک معاہدے پر ختم ہو سکتے ہیں، لیکن صرف بعض شرائط کے ساتھ، جن میں ایران کے فوجی جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کے خاتمے کے علاوہ ’تہران کے اسرائیل کے وجود کے حق کو تسلیم کرنا‘ شامل ہوں گے۔\n\nایرانی نژاد سابق ایئر فورس کمانڈر نے منگل کو اسرائیلی نیوز ویب سائٹ وائی نیٹ کو بتایا کہ’ایران ایک عوامی بیان جاری کرے گا جس میں اسرائیل کو تباہ کرنے کے اپنے ارادے کو ترک کرنے کا اعلان کیا جائے گا اور یہ اعلان کیا جائے گا کہ ایران اسرائیل پر حملہ نہیں کرے گا اور بدلے میں امریکہ اور اسرائیل اس پر حملہ نہیں کریں گے۔‘\n\nزونزین کا خیال ہے کہ یہ حالات ’حقیقت پسند نہیں‘ ہیں۔\n\nانہوں نے سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں طے پانے والے جوہری معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’سرکاری پوزیشن یہ ہے کہ اسرائیل بہت اچھے معاہدے سے خوش ہوتا، لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ اسرائیل JCPOA کے خلاف تھا۔\n\n’بنیادی تقسیم یہ ہے کہ اسرائیل نے ہمیشہ ایران سے نمٹنے کے لیے فوجی اور حرکیاتی کارروائی کی حمایت کی ہے اور ٹرمپ انتظامیہ سفارت کاری کو ترجیح دیتی ہے۔‘\n\nایران\n\nامریکہ\n\nایران اسرائیل کشیدگی\n\nاسرائیل\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nماہرین کے خیال میں امریکہ اور اسرائیل قریبی اتحادی ہونے کے باوجود مشترکہ دشمن ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف اہداف کے تعاقب میں ہیں۔\n\nاے ایف پی\n\nجمعرات, فروری 5, 2026 - 08:45\n\nMain image:\n\n> <p>ایک سائیکل سوار 4 فروری 2026 کو تہران کے والیاسر سکوائر میں ایک عمارت پر آویزاں امریکہ مخالف بل بورڈ کے سامنے سے گزر رہا ہے (اے ایف پی) </p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nایران امریکہ مذاکرات جمعے کو عمان میں ہوں گے: ایرانی نیوز ایجنسی\n\nامریکہ نے ایرانی ڈرون ’مار گرایا‘، کشیدگی کے باوجود رواں ہفتے مذاکرات متوقع\n\nایران امریکہ مذاکرات میں پاکستان کو شرکت کی دعوت: ترجمان دفتر خارجہ\n\nایران کا یورپی یونین سے پاسداران انقلاب کو ’دہشت گرد‘ قرار دینے پر احتجاج\n\nSEO Title:\n\nمشترکہ دشمن، مختلف ایجنڈا: ایران پر امریکی، اسرائیلی اہداف متصادم\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "مشترکہ دشمن، مختلف ایجنڈا: ایران پر امریکی، اسرائیلی اہداف متصادم"
}