{
"$type": "site.standard.document",
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreihey6up2k32bnwfkuucj4uabrcymyofv6hhsuvdxyxc7kopuhspk4"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 54530
},
"path": "/node/184471",
"publishedAt": "2026-02-05T02:24:40.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"Pakistan",
"Balochistan",
"IndependentUrdu",
"pic.twitter.com/9YBd0Fi3t1",
"January 31, 2026",
"PakistanAtUNSC",
"pic.twitter.com/6sviayHYis",
"February 5, 2026",
"IndependentUrdu",
"Balochistan",
"India",
"Attack",
"mohsinnaqvi",
"pic.twitter.com/8y7T5fFu9A",
"February 1, 2026",
"اقوام متحدہ",
"سلامتی کونسل",
"دہشت گردی",
"بی ایل اے",
"انڈیا",
"افغانستان",
"ٹی ٹی پی",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"دنیا",
"news",
"@indyurdu",
"@PakistanUN_NY",
"@indyurdu",
"@PakistanUN_NY"
],
"textContent": "**پاکستان نے بدھ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو (یو این) اپنی پابندیوں کی رجیم کے تحت ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد کرنے کے لیے تیزی سے آگے بڑھا جائے۔**\n\nاقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کو دہشت گردی کی کارروائیوں کی وجہ سے ’بین الاقوامی امن اور سلامتی کو لاحق خطرات‘ پر بریفنگ میں بتایا کہ بی ایل اے کو کونسل کی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کی درخواست پہلے ہی زیر غور ہے۔\n\n31 جنوری 2026 کو بلوچستان کے 12 مختلف مقامات پر کالعدم علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ’آپریشن ہیروف 2.0‘ کے تحت ’مربوط حملے‘ کیے، جنہیں سکیورٹی فورسز کے مطابق ناکام بنا کر 100 سے زائد عسکریت پسندوں کو مار دیا گیا۔ اس سے قبل جمعے کو پاکستانی فوج نے بتایا تھا کہ صوبے میں سکیورٹی فورسز کی دو مختلف کارروائیوں میں ’41 انڈین حمایت یافتہ دہشت گرد‘ مارے گئے۔\n\nاتوار (یکم فروری) کو بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے بتایا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے پچھلے 40 گھنٹوں میں 145 عسکریت پسندوں کو مارا، جو بقول ان کے ’دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ کے دوران اتنے کم عرصے میں اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔‘\n\nحالیہ حملوں میں 48 پاکستانی شہری بھی جان سے گئے، جن میں پانچ خواتین اور تین بچوں سمیت 31 عام شہری بھی شامل تھے۔\n\nسلامتی کونسل کے ارکان نے منگل کو بلوچستان میں ہونے والے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے زور دیا تھا کہ ’ان قابلِ نفرت دہشت گردانہ کارروائیوں کے مرتکبین، منصوبہ سازوں، مالی معاونین اور سرپرستوں کو جواب دہ ٹھہرا کر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔‘\n\n> بلوچستان: کالعدم بی ایل اے کے حملوں میں مبینہ طور پر خواتین بھی شامل\n>\n> کالعدم علیحدگی پسند گروپ بلوچستان لبریشن آرمی کی شیئر کردہ ویڈیوز میں خواتین کو ہفتے کو بلوچستان بھر میں مربوط حملوں میں مبینہ طور پر حصہ لیتے دکھایا گیا ہے۔#Pakistan #Balochistan #IndependentUrdu pic.twitter.com/9YBd0Fi3t1\n>\n> — Independent Urdu (@indyurdu) January 31, 2026\n\nگذشتہ سال اگست میں امریکی محکمہ خارجہ نے بی ایل اے اور اس کے مجید بریگیڈ کو اپنی غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔\n\nعاصم افتخار احمد نے کہا کہ ’ہمیں امید ہے کہ کونسل اس وقت زیر غور فہرست سازی کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے بی ایل اے کو 1267 پابندیوں کے نظام کے تحت نامزد کرنے کے لیے تیزی سے کام کرے گی۔‘\n\nاپنے خطاب میں پاکستانی سفیر نے بلوچستان میں حالیہ حملوں کی مذمت میں ایک پریس بیان جاری کرنے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین کا شکریہ ادا ان کی تعریف کرتے ہوئے اسے ’پاکستان کے ساتھ بین الاقوامی حمایت اور یکجہتی کا اظہار‘ قرار دیا۔\n\n> #PakistanAtUNSC\n>\n> Pakistan urges the UN Security Council to act swiftly to designate BLA as a terrorist group under the 1267 sanctions regime; thanks the Council members for press statement and expression and solidarity with Pakistan\n>\n> Ambassador Asim Iftikhar Ahmad, Permanent… pic.twitter.com/6sviayHYis\n>\n> — Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) February 5, 2026\n\nانہوں نے کہا کہ ’ہم اپنی سرزمین سے بیرونی طور پر اسپانسر شدہ اس لعنت کو ختم کرنے اور اپنی سرحدوں کے اس پار بیٹھے کفیلوں، مالی معاونت کرنے والوں، مدد کرنے والوں کو بے نقاب کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔‘\n\nعاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے۔\n\nپاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ ’انسداد دہشت گردی کی عالمی کوششوں میں ایک فرنٹ لائن ریاست کے طور پر ہم نے 90 ہزار اموات اور بے پناہ معاشی نقصانات کے ساتھ بے پناہ جانی اور مالی قربانیاں دی ہیں۔\n\nمندوب نے انسداد دہشت گردی کی سابقہ کوششوں میں پاکستان کے کردار کو دہراتے کرتے ہوئے کہا کہ القاعدہ کو ’پاکستان کی اہم کوششوں کی وجہ سے افغانستان میں بڑی حد تک تباہ کر دیا گیا۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے عسکریت پسند داعش کی علاقائی گروہوں سے نمٹنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔\n\nتاہم سفیر احمد نے خبردار کیا کہ حالیہ برسوں میں خصوصاً کابل پر افغان طالبان کے قبضے کے بعد سلامتی کی صورت حال خراب ہوئی ہے۔\n\nانہوں نے کہا کہ ’بیرونی طور پر سپانسر شدہ اور غیر ملکی امداد سے چلنے والے پراکسی دہشت گرد گروپس جیسے فتنہ الخوارج تحریک طالبان ُاکستان (ٹی ٹی پی) اور فتنہ الہندوستان بی ایل اے (بلوچ لبریشن آرمی) اور اس کی مجید بریگیڈ کو زندگی کی نئی زندگی مل گئی ہے۔\n\n’افغان سرزمین سے امداد کے ساتھ کام کرتے ہوئے اور ہمارے مشرقی پڑوسی کی فعال حمایت سے یہ گروہ پاکستان کے اندر گھناؤنے دہشت گرد حملوں کے ذمہ دار ہیں۔‘\n\nبلوچستان میں تازہ ترین تشدد کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی ایل اے نے متعدد مقامات پر مربوط حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔\n\n> بلوچستان پر حملہ کرنے والے عام دہشت گرد نہیں تھے، انڈیا ان کے پیچھے ہے: وزیر داخلہ محسن نقوی#IndependentUrdu #Balochistan #India #Attack #mohsinnaqvi pic.twitter.com/8y7T5fFu9A\n>\n> — Independent Urdu (@indyurdu) February 1, 2026\n\nانہوں نے کہا کہ ’ابھی اس ہفتے کے آخر میں بی ایل اے نے صوبہ بلوچستان میں متعدد مقامات پر دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کی جس کے نتیجے میں 5 خواتین اور تین بچوں سمیت 48 معصوم شہریوں کی شہادت ہوئی۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ ’ہماری بہادر سکیورٹی فورسز کے موثر جوابی کارروائی کے دوران بی ایل اے کے 145 دہشت گردوں کو مارا دیا گیا۔‘\n\nسفیر احمد نے اقوام متحدہ کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے افغانستان سے نکلتے ہوئے علاقائی خطرے کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا۔\n\n’یہ دہشت گرد گروہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور اس سے آگے کے لیے خطرہ ہیں۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد پیچھے رہ جانے والے جدید ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے خلاف بھی خبردار کیا۔\n\nانہوں نے کہا کہ ’افغانستان میں غیر ملکی افواج کی طرف سے چھوڑے گئے اربوں ڈالر کے جدید ترین ہتھیاروں اور آلات کو دہشت گردوں کے ہاتھ میں جانے سے روکنا ناگزیر ہو گیا ہے۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو دہشت گردی کے عصری خطرات سے نمٹنے کے لیے اجتماعی، جامع اور مربوط ردعمل کے ذریعے، بشمول گلوبل کاؤنٹر تیررازم سٹریٹجی کا نفاذ۔\n\nپاکستانی سفیر انسداد دہشت گردی کے لیے منتخب طریقوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’انسداد دہشت گردی کی پالیسیوں میں اب تک صرف ایک مذہب کے ماننے والوں کو شامل کیا گیا ہے۔‘\n\nیکم فروری 2026 کو لی گئی اس تصویر میں کوئٹہ کے مضافات میں بلوچ علیحدگی پسندوں کے حملے کے ایک دن بعد نذرِ آتش کیے گئے ایک پولیس سٹیشن کے اندر جلی ہوئی گاڑیوں کے پاس ایک شخص کھڑا ہے (اے ایف پی)\n\nانہوں نے انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ریاستی دہشت گردی کے لیے زیرو ٹالرنس ہونا چاہیے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ’غیر ملکی قبضے کے خلاف لوگوں کی جائز جدوجہد کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ اس سال کے آخر میں انسداد دہشت گردی کی عالمی حکمت عملی کے آئندہ 9ویں جائزے نے ’ہمارے اجتماعی عزم کی تجدید‘ اور موجودہ خلا کو دور کرنے کا موقع فراہم کیا۔\n\nانہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کثیرالجہتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا جس کا مقصد اجتماعی کوششوں اور تعاون کے ذریعے اس لعنت سے نمٹنے اور اس کے خاتمے کے لیے جامع حکمت عملی وضع کرنا ہے۔\n\nاقوام متحدہ\n\nسلامتی کونسل\n\nدہشت گردی\n\nبی ایل اے\n\nانڈیا\n\nافغانستان\n\nٹی ٹی پی\n\nیو این میں پاکستانی مندوب عاصم افتخار سلامتی کونسل کو دہشت گردی کی کارروائیوں کی وجہ سے ’بین الاقوامی امن اور سلامتی کو لاحق خطرات‘ پر بریفنگ دے رہے تھے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعرات, فروری 5, 2026 - 07:15\n\nMain image:\n\n> <p>4 فروری 2026 کی اس تصویر میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار امریکی شہر نیو یارک میں سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں (@PakistanUN_NY)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nبلوچستان حملوں کے سرپرستوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے: سلامتی کونسل\n\nبلوچستان: طاقت کے ساتھ سیاسی عمل کی ضرورت\n\nبلوچستان: 40 گھنٹوں میں 145 عسکریت پسند مارے گئے، صوبے میں دفعہ 144 نافذ\n\nبلوچستان حملوں میں خواتین کو بطور ہتھیار استعمال کرنا ’گھناؤنا‘ اور ’غیر انسانی حربہ‘: قومی اسمبلی قرارداد\n\nSEO Title:\n\nسلامتی کونسل بی ایل اے کو جلد از جلد دہشت گرد تنظیم قرار دے: پاکستان\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "سلامتی کونسل بی ایل اے کو جلد از جلد دہشت گرد تنظیم قرار دے: پاکستان"
}