{
"$type": "site.standard.document",
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiblvfifiyijyxyxvcikzrbr5ntv4hc5fjquqv3jq6thupo6hprnlu"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 67117
},
"path": "/node/184473",
"publishedAt": "2026-02-05T02:56:21.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"ازبکستان",
"وسطی ایشیا",
"سرکاری دورہ",
"صدر",
"وزیر اعظم",
"شہباز شریف",
"اسلام آباد",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"پاکستان",
"news"
],
"textContent": "**دفتر خارجہ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف دو روزہ سرکاری دورے پر (آج) جمعرات کو پاکستان پہنچ رہے ہیں۔**\n\nاسلام آباد مین جاری ہونے والے بیان میں دفتر خارجہ نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی دعوت پر ازبک صدر 5 سے 6 فروری کو سرکاری دورے پر اپنی کابینہ کے وزرا اور ملک کے تاجر رہنماؤں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کریں گے۔\n\nازبکستان وسطی ایشیا کی سب سے بڑی صارف منڈی اور دوسری بڑی معیشت ہے۔\n\nیہ پہلا وسطی ایشیائی ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان نے دو طرفہ ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ اور 17 اشیا پر مشتمل دو طرفہ ترجیحی تجارتی معاہدہ کیا ہے۔\n\nفروری 2023 میں، پاکستان اور ازبکستان نے تاشقند میں ہونے والے ایک اجلاس میں دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے ایک ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے جس کا مقصد اشیا اور سروسز کے تبادلے کو بڑھانا ہے۔\n\nپاکستان کے دفتر خارجہ کے بیان میں مزید کہا کہ دورہ کرنے والے ازبک صدر پاکستان کے صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کے علاوہ وزیر اعظم شہباز سے وفود کی سطح پر بات چیت کریں گے۔\n\nوہ پاکستان ازبکستان بزنس فورم سے بھی خطاب کریں گے۔\n\nبیان میں کہا گیا ہے کہ ’بات چیت میں دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے اور تجارت، توانائی، دفاع، تعلیم، عوام سے عوام کے تبادلے اور علاقائی روابط سمیت متنوع شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے نئی راہوں کی نشاندہی پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nدفتر خارجہ نے کہا کہ یہ ازبک صدر شوکت مرزایوف کا پاکستان کا دوسرا دورہ ہو گا، جو کہ پاکستان اور ازبکستان کے دوطرفہ تعلقات اور دونوں ملکوں کے درمیان برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے، جس کی جڑیں مشترکہ تاریخ، عقیدے اور وسطی اور جنوبی ایشیا میں امن اور خوشحالی کی مشترکہ خواہشات سے جڑی ہوئی ہیں۔\n\nصدر شوکت مرزایوف نے آخری بار 2022 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔\n\nپاکستان اور ازبکستان نے تجارتی اور اقتصادی تعاون کے ذریعے تعلقات کو مضبوط کیا ہے۔ 2023 میں ایک ارب ڈالر کے تجارتی معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے اور مزید تعاون کے منصوبے بشمول صنعتی تعاون کا روڈ میپ، علاقائی رابطوں کو بڑھانے کے لیے دونوں فریقوں کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔\n\nگذشتہ ماہ دونوں ملکوں نے دوطرفہ تجارت کودو ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا تھا جب وزیر اعظم شہباز نے تاشقند میں صدر مرزییوئیف سے ملاقات کی تھی۔\n\nازبکستان کے سفارت خانے نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ صدر شوکت مرزایوف کے دورہ پاکستان سے دوطرفہ تعلقات میں ایک نئے دور کی نشاندہی متوقع ہے۔\n\nگذشتہ ماہ ازبکستان کے سفیر علی شیر تُختائیف نے بھی کراچی کے لیے ازبکستان سے براہِ راست پروازیں شروع کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔\n\nازبکستان\n\nوسطی ایشیا\n\nسرکاری دورہ\n\nصدر\n\nوزیر اعظم\n\nشہباز شریف\n\nاسلام آباد\n\nپاکستان کے دفتر خارجہ کے بیان میں مزید کہا کہ دورہ کرنے والے ازبک صدر پاکستان کے صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کے علاوہ وزیر اعظم شہباز سے وفود کی سطح پر بات چیت کریں گے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعرات, فروری 5, 2026 - 07:45\n\nMain image:\n\n> <p>ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف 20 دسمبر 2025 کو ٹوکیو میں رہنماؤں کی سطح کے وسطی ایشیا پلس جاپان ڈائیلاگ سربراہی اجلاس میں خطاب کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nپاکستان، افغانستان، ازبکستان ریلوے منصوبے کی فزیبلٹی سٹڈی معاہدے پر دستخط\n\nدفاعی و معاشی تعاون، پاکستانی وزیراعظم کے دورے ازبکستان کا محور\n\nپاکستان، ازبکستان کا چار سال میں تجارت چار ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق\n\nازبکستان اور طالبان کے درمیان تجارت، انسانی امداد پر مذاکرات\n\nSEO Title:\n\nازبکستان کے صدر سرکاری دورے پر آج اسلام آباد پہنچیں گے، پاکستانی دفتر خارجہ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "ازبک صدر سرکاری دورے پر آج اسلام آباد پہنچیں گے، پاکستانی دفتر خارجہ"
}